بنکوں کو محکمہ انکم ٹیکس کیساتھ منسلک کرنے سے ملک کی معیشت تباہ ہوجائیگی

بنکوں کو محکمہ انکم ٹیکس کیساتھ منسلک کرنے سے ملک کی معیشت تباہ ہوجائیگی

سرگودھا (آئی این پی) حکومت کی جانب سے بنکوں کو محکمہ انکم ٹیکس کیساتھ منسلک کرنے سے ملک کی معیشت تباہ ہوجائیگی لوگ بنکوں کے ذریعے لین دین کی بجائے ہونڈی اور دیگر ذرائع سے کاروبار کرنے پر مجبور ہونگے جبکہ پاکستان میں سرمایہ کار سرمایہ کاری کی بجائے سود کے کاروبار کو فروغ دینگے جس سے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق ہوجائیگا ان خیالات کا اظہار تاجر راہنما شاہین احسان مغل نے اپنے ایک بیان میں کیا انہوں نے کہا کہ حکومت ایسے اقدامات کرنے سے اجتناب کرے ایک شخص جو فروٹ منڈی یا کسی اور جگہ پر کمیشن کا کام کرتا ہے ظاہر ہے کہ اس نے مال فروخت کرکے رقم مالک کو روانہ کرنی ہے جب وہ بنک کے ذریعے رقم مالک کو روانہ کرتا ہے تو محکمہ انکم ٹیکس اس سے پوچھ گچھ کرتا ہے کہ تم نے اتنی رقم ٹرانسفر کی اس کا ٹیکس ادا کرو جس سے کمیشن کا کاروبار کرنیوالا مفت میں پھنس جاتا ہے اب وہ کمیشن ایجنٹ بنک کے ذریعے رقم بھیجنے کی بجائے ہونڈی کے ذریعے رقم بھیجے گا جس سے بنک سیکٹر کو نقصان ہوگا کیونکہ کمیشن ایجنٹ اگر رقم ٹرانسفر کرتا ہے تو وہ بنک کو بھی ادائیگی کریگا اور الٹا ٹیکس نیٹ میں بھی پھنس جائیگا اس لئے حکومت فوری طور پر ایسے اقدامات کرے جس سے ملکی معیشت اور بنک سیکٹر چلتے رہیں۔

مزید : کامرس