نوشاہی قران مرکز کے زیر اہتمام نامور صحافی وارث میر کی برسی کے حوالے سے سیمینار

نوشاہی قران مرکز کے زیر اہتمام نامور صحافی وارث میر کی برسی کے حوالے سے ...

لاہور (خبر نگار خصوصی)نوشاہی قران مرکز کے زیر اہتمام نامور صحافی وارث میر کی برسی کے حوالے سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ہیومن رائٹس فرنٹ انٹرنیشنل کے سربراہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ یہ سلسلہ کہ فلاں صحافی وطن دُشمن ہے ختم ہوناچاہیے۔ اشرف عاصمی کا کہنا تھا کہ غدار غداری کی رٹ لگانے والوں کو اپنی سوچ میں تبدیلی لانی چاہیے کہ ترقی پسند ی کی لہر کے وجہ سے نظام کے خلاف جو بغاوت کے احساسات تھے اُس کو مفاد پرست ٹولے نے اسلام کے خلاف، ریاست پاکستان کے خلاف سرگرمیوں کا نام دئے دیا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ فیض احمد فیض، حمید اختر جیسے لوگ بھی غدار کہلوائے گئے۔ وارث میر کے ساتھ اُس وقت کے فوجی حکمران نے اپنی حلیف مذہبی سیاسی جماعت اور اُس کی بخل بچہ طلبہ تنظیم کے ذریعے پنجاب یونیورسٹی میں حملہ بھی کروایا اور اُس وقت وارث میر صحافت کے شعبے کے ہیڈ آف ڈیپارٹمینٹ تھے اُن کو نوکری سے برخواست کروایا۔ یوں وارث میر کو ذہنی تناؤ کا شکار ہونا پڑا اور اِسی تناؤ نے اُن کی جان لے لی۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ تین دہائیوں کے بعد بھی جو وارث میر کی سوچ تھی وہی کامران ہے تشدد اور اپنی مرضی ٹھونسنے والوں نے اِس ملک کو جنگ میں ڈال دیا۔ اور یوں اسلام کا نام لے کر داتا علی ہجویری ؒ کے دربار تک کو خون میں نہلایا گیا۔وہی سوچ جو وارث میر کو غدار کہتی تھی اُسی سوچ نے پاکستان کے معصوم لوگوں کو بم دھماکوں میں شھید کیا معاشی طور پر اتنا نقصان پہنچا کہ بیان سے باہرہے۔

۔لیکن وارث میر کی سوچ زندہ ہے اور زندہ رہنے کا حوصلہ دئے رہی ہے ۔ سیمنار سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ سیمینار کا اہتمام مصطفائی جسٹس لائرز فورم انٹرنرنیشنل اور ہیومن رائٹس فرنٹ انٹرنیشنل نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔اِس موقع پر ہیومن رائٹس فرنٹ انٹرنیشنل کی جانب سے جناب وارث میر کے لیے ہیومین رائٹس فرنٹ انٹنیشنل ایوارڈ کا اعلاب بھی کیا گیا۔ یہ یوارڈ اُن کی معاشرئے میں پھیلی گھٹن کے خلاف بولنے اور قلم کی حرمت کوقایم رکھنے پر دیا گیا ہے۔سیمینارسے رانا علی رضا، میاں اکرم، محمد عمر نے بھی خطاب کیا

مزید : میٹروپولیٹن 4