ملک میں زرعی ایمرجنسی نافذ کی جائے: خالدمحمود کھوکھر

ملک میں زرعی ایمرجنسی نافذ کی جائے: خالدمحمود کھوکھر

انٹرویو: صبغت اللہ چودھری

عکاسی: ناصر غنی

زراعت حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں

چاول کی سرکاری خریداری اور کپاس کی بہتری کیلئے فوری اقدامات نہ کئے گئے تو ستمبرموجودہ حکومت کیلئے ’’ستمگر‘‘ بن جائے گا:

چیئرمین پاکستان کسان اتحاد کا روزنامہ ’’پاکستان‘‘ سے خصوصی انٹرویو

(ڈیک)

پوری دنیا کے ممالک ریسرچ اداروں کو مضبوط بنا تے ہیں جبکہ اسلام آباد ’’این آئی آر سی ‘‘ کے 1400 ایکڑ رقبے پر رہائشی کالونی بنانے جا رہا ہے

یہی اپروچ زراعت کی تباہی کی بنیادی وجہ ہے

کسان کا دودھ صنعتکار کے پانی سے سستا ہے

پاکستان کسان اتحاد کے مرکزی صدر خالد محمود کھوکھرطویل عرصہ سے ملکی کاشتکار کو اس کا جائز حق دلوانے اور زراعت کی ترقی کیلئے سر گرم عمل ہیں، موجودہ اور سابق وفاقی و صوبائی حکومتوں کی کسان دشمن پالیسیوں پر سخت نالاں نظر آتے ہیں جن کا کہنا ہے کہ زرعی ملک ہونے کے باوجودزراعت حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں جبکہ مقامی کاشتکار کواس کی محنت کا صلہ ملنے کی بجائے اسے پاکستانی اورانسان تک نہیں سمجھا جاتا ،اس نا انصافی پر روز اوّل سے صدائے احتجاج بلند کرتے آئے ہیں تاہم گزشتہ تین برس سے ’’پاکستان کسان اتحاد‘‘ کے نام سے باقاعدہ ایسوسی ایشن قائم کر کے اس کے پلیٹ فارم سے عملی جدوجہد شروع کر رکھی ہے اور ہر موقع پرکاشتکار کے استحصال کیخلاف سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں، اپنے جائز حقوق کی جنگ میں انہیں متعدد کامیابیاں بھی ملی ہیں جن میں بجلی کے زرعی ٹیرف اور زرعی مشینری پر درآمدی ڈیوٹیوں میں کمی، رواں مالی سال کے بجٹ میں معقول فنڈز اوردیگر زرعی اجناس پر ٹیکسوں کی شرح کم کروانے میں کامیاب ہوئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ کھیت اور کسان دونوں کے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کاشتکار کو ہر مقام پر انصاف دلوانہ اور زراعت کے کاروبار کو با عزت اور منافع بخش بناناکسان اتحاد کے اغراض و مقاصد ہیں۔

روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کیلئے خصوصی انٹرویو کے دوران خالد کھوکھر نے پالیسی سازوں پر کڑی تنقیدکرتے ہوئے کہا کہ دیگر ہمسایہ ملک نا صرف ٹیکسوں میں چھوٹ بلکہ سبسڈی کی شکل میں اپنے کسان کو بے شمار مراعات دے رہے ہیں،دوسری طرف پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں زرعی مداخل پر ٹیکس عائد ہیں۔بھارت جدید ٹیکنالوجی اور بہترین ریسرچ کی بدولت کپاس کی پیداوار میں دنیا کا سب سے بڑا پروڈیوسر بن گیا ہے 1947 ء میں یہاں کپاس کی مجموعی پیداوار 1 کروڑ 27 لاکھ بیلز تھی جبکہ بھارت اس وقت ایک کروڑ 10 لاکھ بیلز پیدا کرتا تھا ۔ آج پاکستان میں کپاس کی مجموعی پیداوار تقریباًایک کروڑ 40لاکھ (بیلز کا وزن بھی پہلے سے کم ہے) بیلز ہے لیکن بھارت 4 کروڑ بیلز کے ساتھ چین کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کا نمبرون کاٹن پروڈیوسر ملک بن گیا ہے،تقسیم بر صغیر کے وقت مشرقی پنجاب کے 13 اضلاع بھارت کے حصے میں آئے جبکہ پاکستان کے حصے میں پنجاب کے17 اضلاع آئے ، بھارت سوا ارب آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے بعد پوری دنیا کو زرعی اجناس ایکسپورٹ کر رہا ہے لیکن پاکستانی پنجاب اٹھارہ کروڑ آبادی کو فیڈ نہیں کر سکااور بیرون ممالک سے زرعی اجناس منگوائی جا رہی ہے ، آپ اندازہ لگائیں کے پچھلے ایک برس میں ہم 15 ارب روپے کا درآمدی ٹماٹر کھا گئے ہیں۔ پوری دنیا کے ممالک اپنے ریسرچ کے اداروں کو مضبوط بنا رہے ہیں جبکہ اسلام آباد ’’این آئی آر سی ‘‘ کے 1400 ایکڑ رقبے پر رہائشی کالونی بنانے جا رہا ہے، یہ اپروچ پاکستانی زراعت کی تباہی کی اصل وجہ ہے۔

ملک پاؤڈر اور ’’وھے‘‘ پاؤڈر کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں خالد کھوکھر نے کہا کہ زراعت پرمبنی معیشت کے حامل ملک ہونے کے ناطے پاکستان میں لائیو سٹاک کا شعبہ خاصی اہمیت کا حامل ہے جس کا ملک کی مجموعی زرعی پیداوار میں55فیصد جبکہ مجموعی قومی پیداوار میں 12فیصد حصہ ہے ۔پاکستان دودھ پیدا کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے ،جس کی دودھ کی پیداوار 35ارب لیٹر سالانہ ہے ۔ملک میں تقریبا6کروڑ70لاکھ سے زائد گائے اور بھینسیں ہیں جن کی دیکھ بھال میں 85لاکھ خاندان براہ راست منسلک ہیں جو ظاہر کرتا ہے کہ4سے 5کروڑ افراد اپنے ذریعہ معاش کے لئے مویشیوں پر منحصر ہیں اس شعبے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف دودھ کی مالی قدر گندم، چاول ،مکئی اور گنا کی مجموعی قدر سے زیادہ ہے ۔

ایک اندازے کے مطابق اس شعبے سے وابستہ 85لاکھ خاندانوں میں سے92فیصد چھوٹے پیمانے کے مویشی پال ہیں جن کے پاس جانوروں کی تعداد 1تا 6ہے اور یہ کل جانوروں کا 65.4فیصد بنتے ہیں جبکہ 8فیصد خاندانوں کے پاس 7سے 50جانور ہیں جو28فیصد جانوروں کی دیکھ بھال کرتے ہیں ۔صرف0.1فیصد خاندانوں کے پاس50سے زائد جانور ہیں جو کہ جانوروں کی مجموعی تعداد کا صرف 6.7فیصد بنتا ہے ۔اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ چھوٹے پیمانے کے مویشی پال پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں اور دودھ کی مجموعی ملکی پیداوار میں چھوٹے مویشی پال نمایاں شراکت کے حامل ہیں۔موجودہ صورتحال میں خشک دودھ اور دھے پاؤڈر( Whey Powder)کی بے دریغ درآمد اور اسمگلنگ کی وجہ سے پاکستان میں ڈیری فارمنگ کا شعبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے ۔درآمد شدہ خسک دودھ اور دھے پاؤڈر کا استعمال ڈیری پراسیسنگ انڈسٹری ،دودھ سے بننے والی اشیاء مثلا ،بسکٹ ، دہی ، کنفیکشنری اورTea Whitenersمیں بڑے پیمانے پر کیا جارہا ہے جس سے مقامی مویشی پال دودھ کی مناسب قیمت حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔خشک دودھ اور Wheyپاؤڈر کی درآمد کا رجحان پر پاکستانی ڈیری صنعت میں ایک عمومی تاثر یہ ہے کہ خشک دودھ کی درآمد کی بڑی وجہ مقامی دودھ کی طلب اور رسد میں پایا جانے والا فرق ہے تاہم بین الاقوامی مارکیٹ میں خشک دودھ کی قیمتوں کا جائزہ مذکورہ بالا تاثر کی نفی کرتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں دودھ کی درآمد مقامی دودھ کی طلب اور رسد کی بجائے بین الاقوامی قیمتوں پر منحصر ہے کیوں کہ جیسے ہی بین الاقوامی مارکیٹ میں خشک دودھ کی قیمت کم ہوتی ہے ،پاکستان میں اس کی درآمد بڑھ جاتی ہے اور بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت بڑھتے ہی پاکستان میں خشک دودھ کی درآمد میں نمایاں کمی آجاتی ہے ۔

اقوام متحدہ کے ادارے COMTRADEکے مطابق 2012اور2013میں پاکستان نے بالترتیب34ملین کلو گرام اور21ملین کلو گرام خشک دودھ درآمد کیا جو کہ 2012میں 100.2ملین ڈالر اور2013میں 68.3ملین ڈالرز زرمبادلہ خرچ کرکے لایا گیا جبکہ سال 2012اور2013ملک میں19.5ملین کلو گرام اور18.3ملین کلو گرام Wheyپاؤڈر 13.4ملین ڈالر اور15ملین ڈالر زرمبادلہ خرج کر کے لایا گیا۔

پچھلے چند سالوں میں ملک میں خشک دودھ کی درآمد اور اس کے قدرتی دودھ کے متبادل کے طور پر جہاں ڈیری انڈسٹری میں استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اس کا ایک نقصان یہ بھی ہوا ہے کہ دودھ کے کاروبار سے وابسطہ بہت سے افراد نے خشک دودکھ ، یوریا اور دوسرے مضر صحت اجزاء کی ملاوٹ سے مصنوعی دودھ تیار کرنا شروع کردیا ہے ۔بیکرز ،کنفکیشنری بنانے والے اور مٹھائی بنانے والے قدرتی دودھ کی جگہ درآمدی اور مضر صحت پاؤڈر کو استعمال کرنے لگے ہیں جس سے شہری معیاری اور قدرتی دودھ سے محروم ہوتے جارہے ہیں ۔اس سلسلے میں پنجاب لائیو سٹاک اور ڈیری ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے ان فراڈ عناصر کے خلاف ایک مہم شروع کی ہے ۔

سال 2007سے ڈیری پراسیسنگ انڈسٹری نے خالص دودھ کی فروخت کے بجائے خشک دودھ اور ویجیٹل آئل /خوردنی تیل کی آمیزش سے مرتب کردہ مصنوعات بنا کر فروخت کرنا شروع کردی ہیں ۔یہ مصنوعاتTea WhitenersاورDairy Liquidsکہلاتی ہیں۔ڈیری انڈسٹری کے مطابق ان مرتب شدہ مصنوعات کی حصہ مجموعی UHTدودھ کا تقریبا59فیصد ہوگیاہے جبکہ خالصتا دودھ کی فروخت صرف41فیصد تک محدود ہوگئی ہے ۔خشک دودھ اورویجیٹیبل آئل سے بننے والی ان مصنوعات کی پیداوری لاگت قدرتی دودھ کے مقابلے میں انتہائی کم ہے لہٰذا کمپنیاں قدرتی دودھ کے بجائے درآمدی خشک دودھ کا استعمال کررہی ہیں اور مویشی پال کسانوں کو دودھ کی جائز قیمت سے محروم کررہی ہیں ۔تشویشناک بات یہ ہے کہ ڈیری انڈسٹری ان مرتب شدہ مصنوعات کو قدرتی دودھ کے متبادل منجمند اور تازہ دودھ کے طور پر بڑے پیمانے پر تشہیر کرتی ہیں اور عوام کو دھوکہ دیا جارہا ہے ۔پنجاب فوڈ اتھارٹی نے2014ء میں ان پراڈکٹس کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا تھا جو کہ نامعلو م وجوہات کی بناء پر رک گیا اور ان مصنوعات کو بڑے پیمانے پر فروخت کیا جارہا ہے۔پاکستان میں خشک دودھ درآمد کرنے کے لئے نہ تو کوئی قانون ہے اور نہ ہی کوئی ضابطہ ،عوام کی صحت کو سوالیہ نشان بنا دیا گیا ہے ،بھارت جیسے ملک میں درآمدی خشک دودھ کو سخت SafetyاورHealthسرٹیفکیٹ کے بعد مارکیٹ میں آنے دیا جاتا ہے ۔پاکستان میں کوئی بھی کسی بھی جگہ سے کسی بھی معیار کا خشک دودھ درآمد کرکے انسانی جانوں اور صحت کے ساتھ کھیل سکتا ہے ۔Wheyپاؤڈر کی مختلف اقسام ہوتی ہیں اور چند Wheyپاؤڈرز صرف جانوروں کے استعمال کے لئے ہوتے ہیں جس کی قیمت بھی انتہائی کم ہوتی ہے مگر پاکستان میں اس کو چیک کرنے کا کوئی نظام موجود ہی نہیں ہے ۔اقوام متحدہ کے ادارےCOMTRADEکے مطابق سال2013ء میں پاکستان نے خشک دودھ کی درآمد سے ڈیری سیکٹر کو ہونے والے نقصانات کی گونج قومی اسمبلی تک بھی پہنچ چکی ہے۔ قومی اخبارات نے 25 فروری 2015 ء کو خبر شائع کی کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے فوڈ سیکیورٹی اور ریسرچ میں رکن قومی اسمبلی راؤ محمد اجمل خان نے ملک میں قدرتی دودھ کی دستیابی کے باوجود خشک دودھ کی درآمد کو ڈیری فارمرز کے معاشی قتل عام کا شاخسانہ قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ خشک دودھ کی درآمد سے ملکی ڈیری سیکٹر کو بھاری نقصان کے علاوہ قیمتی زر مبادلہ بھی ضائع کیا جا رہا ہے۔ کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خشک دودھ کی درآمد پر 100 فیصد ڈیوٹی عائد کی جائے اور ملکی ڈیری فارمرز کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ ممبر قومی اسمبلی خالدہ مستور نے کمیٹی کو بتایا کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی وجہ سے لاکھوں ملکی ڈیری فارمرز کو سزا دی جار رہی ہے۔

دودھ کی فارم گیٹ قیمت اور صارفین کیلئے قیمت کا فرق:

خشک دودھ کی درآمد سے ڈیری سیکٹر کو ہونے والے نقصانات کی گونج قومی اسمبلی میں بہت نمایاں ہے۔ مویشی پال کو ان کے دودھ کی صحیح قیمت ادا نہیں کی جاتی۔ پچھلے 5 سالوں میں کسانوں کو دودھ کی قیمت میں صرف 10 روپے فی لیٹر کا اضافہ دیا گیا ہے جبکہ صارفین کیلئے ایکلیئر(یو ایچ ٹی) دودھ کی قیمت میں40 روپے تک اضافہ ، پیسچرائزڈ دودھ کی تھیلی کی قیمت میں 25 روپے جبکہ ڈبے یا بوتل میں فروخت کئے جانیوالے پیسچرائزڈ دودھ کی قیمت 45 روپے بڑھ چکی ہے۔

بھارت کے اقدامات نے ثابت کر دیا کہ بھارتی حکومت اپنے ڈیری فارمرز کو تحفظ فراہم کرنا چاہتی ہے اور خشک دودھ کی درآمد کرنے والے ملک کی بجائے خشک دودھ برآمد کرنے والا ملک بننا چاہتی ہے۔ بھارت نے خشک دودھ کی درآمد پر 65 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کر کے ااور اپنے ڈیری فارمرز کو مراعات دے کر ان کے دودھ کی پیداواری لاگت کو کم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ حکومت زرعی شعبے کو کھاد اور بجلی کی مد میں بھاری زر تلافی فراہم کرتی ہے جبکہ 10 جانور رکھنے والے کسانوں کو گرانٹس اور غیر سودی قرضہ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ خشک دودھ کی برآمد کرنے والے برآمد کنندگان کو حکومت کی جانب سے خصوصی مراعات بھی ملتی ہیں۔اس طرح بھارت کی حکومت اپنے کسانوں کو مراعات دے کر پاکستانی کسانوں سے مقابلہ کرنے کیلئے تیار کر رہی ہے اور ہمارا ڈیری فارمر پیداواری لاگت دگنی ہونے کے باوجود کم قیمت پر دودھ فروخت کرنے پر مجبور ہے۔ بھارت دودھ کی پیداوار میں خود کفیل ہونے کے ساتھ 2011 ء میں خشک دودھ کی ایک کلو گرام بھی برآمد نہ کرنے والے ملک سے سال 2013 ء میں 152 ملین کلو گرام خشک دودھ برآمد کرنے والا ملک بن چکا ہے جو ہمارے اور ہمارے حکمرانوں کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔

ترکی کی حکومت نے ملک کو دودھ کی پیداوار میں خود کفیل بنانے کیلئے انقلابی اقدامات اٹھاتے ہوئے خشک دودھ کی درآمد پر 180 فیصد ڈیوٹی عائد کر دی ہے۔ ترکی نے پچھلے 5 سالوں میں 20 لاکھ سے زائد دودھ دینے والی گائے اور درآمد کی ہیں اور ان کی خشک دودھ کی درآمد صفر ہو چکی ہے۔ ترکی حکومت ڈیری فارمرز کو مالی مراعات فراہم کرتی ہے جو کہ 7.50 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔ ترکی میں ڈیری فارمرز کو شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم سود سے پاک قرضے فراہم کئے جاتے ہیں تا کہ وہ ماڈرن ڈیری فارمز قائم کریں۔ ان تمام اقدامات سے ترکی دودھ کی درآمد کرنے والے ملک سے برآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔

موجودہ صورتحال کے مطابق ملک میں خشک دودھ کی درآمد پر صرف 20 سے 25 فیصد ڈیوٹی نے درآمدی خشک دودھ کو ملکی ڈیری فارمرز کیلئے زہر قاتل بنا دیا ہے۔ درآمدی خشک دودھ کو چیک کرنے کیلئے کوئی ہیلتھ اسٹینڈرڈ بھی موجود نہیں ہے لہٰذا دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا بڑا ملک آہستہ آہستہ خشک دودھ کی درآمد کا محتاج بنتا جا رہا ہے۔ پچھلے 5 سالوں میں ڈیری فارمرز کیلئے دودھ کی پیداواری قیمت میں سالانہ 10 سے 15 فیصد اضافہ ہو رہا ہے جبکہ دودھ کی قیمت فروخت میں سالانہ 5 فیصد سے بھی کم اضافہ ہوا ہے۔ صارفین کو دودھ فروخت کرنے والے سستے اور غیر معیاری خشک دودھ کے ذریعے مصنوعی دودھ بنا کر فروخت کر رہے ہیں اور ڈیری فارمرز سے دودھ کی فروخت خریداری کم کر کے ان کو مجبوراً کم قیمت پر دودھ فروخت کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ ڈیری پراسیسنگ کمپنیوں نے بھی فارمرز سے قدرتی دودھ کی خریداری میں نمایاں کمی کر دی ہے اور سستے اور غیر معیاری خشک دودھ کو بڑے پیمانے پر استعمال کر رہے ہیں جس سے پاکستانی ڈیری فارمرز سخت مشکل اور مسائل کا شکار ہیں۔

مقامی سیکٹر کو تباہی سے بچانے کیلئے خشک دودھ کی درآمد میں صحت کے اعلیٰ ترین معیار اپنائے جائیں اور مضر صحت غیر معیاری خشک دودھ کی درآمد کو روکا جائے ،بھارت اور ایران سے خشک دودھ کی سمگلنگ پر قابو پایا جائے،،صارفین کے تحفظ کے لئے سخت قوانین بنائے جائیں خاص طور پر ایسی مصنوعات کے لئے جنہیں خشک دودھ،ویجیٹیبل آئل اور دوسری ممنوعہ مصنوعات کے ذریعے بنایا جارہا ہے ،صارفین کے شعور اور معلومات میں اضافے کے لئے سنجیدہ کوششیں کی جائیں،کھلے دودھ کی فراہمی اور فروخت پر سخت چیک رکھا جائے ۔

حکومت بہتر قوانین کے ذریعے خشک دودھ کی درآمد پر ضائع ہونے والے زرمبادلہ کو بچاسکتی ہے ،حکومتی اقدامات سے بڑے ڈیری فارمز میں مزید سرمایہ کاری آئے گی اور موجودہ فارمز بھی اپنی پیداواری استعداد میں اضافہ کریں گے جس سے روزگار کے موقع اور حکومت کو ٹیکسز اور ڈیوٹی کی مد میں منافع حاصل ہوگا۔

مزید : ایڈیشن 2