مالی بحران کا شکار یونان دیوالیہ قرار!

مالی بحران کا شکار یونان دیوالیہ قرار!

عالمی مالیاتی بحران کا خطرہ۔۔۔۔۔۔

عرفان یوسف

آئی ایم ایف نے قرض واپس کرنے میں ناکامی پر یونان کو نادہندہ ملک قرار دیدیاہے۔ یونان پہلا ترقی یافتہ ملک ہے جو آئی ایم ایف کا نادہندہ ہواہے۔آئی ایم ایف کا قرض واپس کرنے کی ڈیڈ لائن گزر گئی یونان کو آئی ایم ایف کو قرض کی ڈیڑھ ارب یورو کی قسط اداکرنی تھی۔ واپسی کی معیاد بڑھانے کی درخواست آئی ایم ایف کے بورڈ نے مسترد کردی اور اسے نادہندہ قرار دے دیا۔آئی ایم ایف کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اب یونان کو بقایا جات کی ادائیگی کے بعد ہی نیا قرض جاری کیا جائے گا۔ نادہندہ ہونے کے بعد یونان کے یوروزون سے خارج ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔ اس سے پہلے یونان کی بیل آؤٹ پیکیج میں توسیع کی درخواست یوروزون نے بھی مسترد کردی تھی یوروزون نے نئے بیل آؤٹ پیکیج کے لیے یونان سے سخت معاشی اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ یوروزون کی شرائط پر عوام کی رائے جاننے کے لیے 5 جولائی کو یونان میں ریفرنڈم ہوا۔یونان کی طرف سے بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے لییگئے قرض کی قسط کی ادائیگی کی حتمی مدت ختم ہو گئی ہے جبکہ یونان نے مہلت ختم ہونے سے پہلے یورو زون سے 29.1 ارب یورو کے بیل آؤٹ پیکیج کی درخواست کی تھی یونان نے 30 جون تک آئی ایم ایف کو 1.1 ارب یورو کی قسط ادا کرنی تھی لیکن اب وہ پہلا ترقی یافتہ ملک بن گیا ہے جو آئی ایم ایف کا نادہندہ بن گیا ہے مہلت ختم ہونے سے پہلے یونان نے دو سال کے لیے 29.1 ارب یورو کی نئے بیل آؤٹ پیکیج کی درخواست کی تاکہ سنہ2017 تک اپنے قرض کی قسطیں ادا کر سکے یونان کو عالمی مالیاتی اداروں اور مشترکہ سکے یورو کے رکن ملکوں سے تقریباً سوا سات ارب یورو کے ہنگامی قرض کی ضرورت تھی برطانوی وزیر خزانہ جارج اوسبورن کا کہنا ہے کہ یونان کا انخلا صدمے کا باعث ہو گا اور برطانیہ کو اس کے اثرات کو ہلکا نہیں لینا چاہییعالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ یونان کو موجودہ متنازع بیل آؤٹ پیکیج کے دوران بھی اپنے مالی معاملات کو درست رکھنے کے لیے اضافی 50 ارب یورو کی ضرورت ہو گی عالمی مالیاتی فنڈ نے اس کے ساتھ یونان کی شرح نمو کو 2.5 فیصد سے کم کر کے صفر کر دیا ہے دوسری جانب آئی ایم ایف سمیت ملک کے قرض خواہوں کی شرائط قبول کرنے پر ریفرینڈم اتوار کو ہو رہا ہے جس کے لیے لوگ اس کے حق اور مخالفت میں ایتھنز میں جلوس نکالنے کی تیاری کر رہے ہیںیونان کے وزیر اعظم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ریفرینڈم میں ’نہ‘ ووٹ کرنے کے حق میں نکالے جانے والے جلوس میں حصہ لیں گے یورپی یونین نے یونان کو متنبہ کیا ہے کہ اگر ریفرینڈم میں ’نہ‘ کا فیصلہ کیا گیا تو امکانات ہیں کہ یونان کو یورپی یونین سے نکال دیا جائے گاعالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق یونان کو موجودہ بیل آؤٹ پیکیج کے دوران بھی اپنی مالی حالت کو بہتر رکھنے کے لیے اضافی 50 ارب یورو درکار ہوں گے اس کے علاوہ مالیاتی ادارے نے اپنی اس رائے کو بھی دہرایا ہے کہ یونان کو قرض میں سہولت دینے کے لیے کم سود پر رقم اور قرض کی رقم کی واپسی میں توسیع کی سہولت کی ضرورت ہے آئی ایم ایف کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اتوار کو یونان میں عالمی قرض خواہوں کی شرائط پر ریفرینڈم منعقد ہو رہا ہے اور یونانی وزیراعظم متعدد بار عوام سے اپیل کر چکے ہیں کہ اس ریفرینڈم میں شرائط کو رد کیا جائے یوروزون کے وزرائے خزانہ کے گروہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ یونان میں بیل آؤٹ کی شرائط پر ریفرنڈم میں ’نہ‘ کا ووٹ یونان کی معیشت کے بحران کے حل کے لیے کوئی آسان راستہ نہیں نکال پائے گا ییرون ڈائیسلبلوم کا بیان یونان کے وزیرِ اعظم کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ نہ کا ووٹ بہتر معاہدے کی طرف لے جائے گاڈائیسلبلوم نے اصرار کیا کہ ایسا کہنا ہی غلط ہے جب یونان کے بینکوں کے باہر پینشن لینے والوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں ڈائیسلبلوم نے، جو ڈینمارک کے وزیرِ خزانہ ہیں، ڈینمارک کی پارلیمانی کمیٹی کو بتایا کہ اتوار کو ہونے والے ریفرینڈم میں اگر یونانی ووٹروں نے بیل آؤٹ پیکج کی شرائط کو رد کیا تو دونوں فریقوں کے درمیان بنیادی اختلافات ختم کرنا بہت مشکل ہو جائے گا’اس سے یونان اور یورپ، دونوں ہی بہت مشکل میں پڑ جائیں گیانھوں نے کہا کہ یونانی حکومت ہر بات کو یہ کہہ کر رد کر رہی ہے کہ اگر آپ نے ’نہ‘ کا ووٹ ڈالا تو آپ کو بہتر اور کم سخت یا زیادہ دوستانہ پیکیج ملے گا۔ اس طرح کی تجویز صاف طور پر غلط ہے یونان کے وزیرِ اعظم نے عوام سے کہا کہ وہ ریفرینڈم میں قرض کی شرائط کو مسترد کر دیں گزشتہ ہفتے یورپی سینٹرل بینک کی ہنگامی فنڈنگ بند ہونے کے بعد زیادہ تر یونانی بینک بند رہے لیکن کچھ شاخیں کھلی رہیں تاکہ پینشنرز 120 یورو تک نکال سکیں کیش مشینوں سے ایک دن میں صرف لوگ 60 یورو تک ہی نکال سکتے ہیں معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور کئی کاروباری اداروں نے پیداواری سرگرمیاں بند کی ہوئی ہیں کیونکہ وہ سپلائروں کو پیسے نہیں دے سکتے اور کئی دکانیں بھی وہاں کام کرنے والوں کو بغیر تنخواہ کے چھٹی پر بھیج رہی ہیں اب جبکہ یورپی رہنماؤں نے ریفرینڈم سے پہلے کسی بھی معاہدے کو خارج الامکان قرار دیا ہے دونوں فریق امید کر رہے ہیں کہ اس لامتناہی بحث کا اختتام بیلٹ بکس کے ذریعے ہو جائے یونان کی بائیں بازو کی سریزا پارٹی کی حکومت کفایت شعاری کے خلاف پلیٹ فارم پر منتخب ہوئی تھی، اور وہ کئی مہینوں سے قرض دہندگان کے ساتھ تیسرے بیل آؤٹ کی شرائط پر الجھی ہوئی ہے مشترکہ سکے یورو کے وزرائے خزانہ نے یونان کے لیے امدادی پیکیج کی مدت بڑھانے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد یونان آئی ایم ایف کو ایک 1.6 ارب یورو کا قرض واپس نہیں کر پایا تھایونان میں ووٹ سے پہلے ہی اس پر تقسیم کافی بڑھ چکی ہے۔ euro2day.gr کے مطابق ایک سروے میں 47 فیصد لوگوں کا جھکاؤ ’ہاں‘ کی طرف تھا جبکہ ’نہ‘ کیمپ کو 43 فیصد ووٹ ملے تھے یونان کے وزیرِ خزانہ نے کہا ہے کہ اگر ’ہاں‘ ووٹ پڑا تو وہ استعفیٰ دے دیں گے انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی بھی ایسے معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے جس میں یونان کی قرض کی نئے سرے سے ساخت یا تعمیر نو شامل نہیں ہو گی یونانی وزیراعظم ایلکسس تسیپراس نے معمولی تبدیلیوں کے ساتھ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سمیت ملک کے قرض خواہوں کی شرائط قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی تھی تاہم انھوں نے تقریر میں عوام سے اپیل کی تھی کہ ریفرینڈم میں عالمی قرض خواہوں کی شرائط رد کر دیںیونان کی جانب سے 30 جون کو آئی ایم ایف کی قسط ادا کرنے کی مہلت ختم ہونے سے کچھ لمحات پہلے یورو زون سے نئے بیل آؤٹ پیکیج کی درخواست کی گئی تھی یونان یورپ کا وہ پہلا ملک ہے جو آئی ایم ایف کو قرض کی ادائیگی سے قاصر رہا ہے لیکن ملک کا پیچیدہ ٹیکس کا نظام اس میں سب سے بڑی رکاوٹ لگتا ہے یونان کی ٹیکس اکٹھی کرنے والی ایجنسی کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ’کوئی آسان کام نہیں ہے یونان کے حالیہ ماضی کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ شاید وہ بات کو تھوڑا گھٹا کر پیش کر رہے ہیں ہیری تھیوکیرس رکنِ پارلیمان ہیں لیکن وہ کسی وقت یونان میں سب سے زیادہ مطلوب شخص ہوا کرتے تھے یہ ان کا کام ہے کہ وہ اقتصادی بحران کے دوران ٹیکسوں میں اضافے کی اور بدنام زمانہ غیر موثر ٹیکس کے نظام میں اصلاحات کی کوشش کریں انھوں نے کہا کہ ’آپ سب کی زندگیوں کو مشکل بناتے ہیں۔۔۔ یہ چیز آپ کو بالکل مقبول نہیں بناتی تھیوکیرس کی مشکل کا اندازہ لگانے کے لیے ذرا ایک مثال ہی لیں: یونان میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس (ویٹ) کے چھ نظام ہیں۔ عام ریٹ 23 فیصد ہے، دو کم ریٹ ہیں جو خوراک، ایندھن اور ادویات وغیرہ پر عائد ہیں لیکن یونان کے جزیرے بھی ویٹ میں کم ریٹوں سے مستفید ہوتے ہیں تاکہ ملک کے دور دراز علاقوں میں لوگوں کی حوصلہ افزائی ہو سکے اور ملک کی سیاحت کی اہم صنعت کی مدد ہو سکے یونان کو قرضے کی قسط دینے کے لیے فوری طور پر مالی مدد کی ضرورت ہے اس سے ٹیکس سے بچنے کے بہت مواقع پیدا ہو جاتے ہیں مثال کے طور پر یونان کے جزیرے مائکونوس میں سیاحت میں حالیہ اضافے کے بعد یونان کی حکومت کو ویٹ کی مد میں کم ادائیگیاں کی گئیںیونان کا پنشن کا نظام بھی اتنا ہی پیچیدہ ہے اس کے بعد نجکاری بھی ہے۔ بحران کے آغاز میں یونان کی حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ وہ 50 ارب یورو کے قومی اثاثے فروخت کرے گی یہ ٹارگٹ جلد ہی کم ہو کر 30 ارب یورو ہو گیا اور اب اسے 20 ارب یورو کر دیا گیا ہے ابھی تک حکومت کل دو سے تین ارب یورو ہی اکٹھا کر پائی ہے اس کے بعد کٹوتیاں بھی ہیں جنھیں واپس لے لیا گیا۔ قومی نشریاتی ادارے ای آر ٹی کو بند کرنے کے دو سال بعد دوبارہ کھول دیا گیا اور اس نے اس سال اپنے پروگرام بھی دوبارہ نشر کرنا شروع کر دیے ہیں مسئلہ یہ نہیں ہے کہ یونان اصلاحات نہیں کر سکتا یا اسے پتہ نہیں ہے کہ وہ کیا چاہتا ہے، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ اس نے معیشت کو درپیش بنیادی ڈھانچے کے اہم مسائل کو حل کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ کوششیں کی ہی نہیں اور پانچ سال ضائع کر دیے اگر وہ پانچ سال پہلے اصلاحات شروع کر دیتا تو ہو سکتا ہے کہ وہ اس طرح کے نتائج دیکھ رہا ہوتا جیسے آئرلینڈ اور اٹلی دیکھ رہے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یونان نے تو ابھی کام شروع ہی نہیں کیایاد رہے کہ یونان کو عالمی مالیاتی اداروں اور مشترکہ سکے یورو کے رکن ملکوں سے تقریباً سوا سات ارب یورو کے ہنگامی قرض کی ضرورت ہے جون کے اختتام سے پہلے یہ قرض نہ ملا تو یونان ڈیڑھ ارب یورو سے زیادہ مالیت کے پرانے قرض عالمی مالیاتی اداروں کو واپس ادا نہیں کر پائے گا قرض کی ادائیگی میں ناکامی کا مطلب دیوالیہ پن کا شکار ہو جاتا تھا جس کے باعث یونان کو مشترکہ سکے سے خارج کر دیا جائے گا جو یورپی اتحاد سے اخراج پر بھی منتج ہو سکتا ہے یونان کو دیوالیہ پن سے بچانے کے مذاکرات پانچ ماہ سے بغیر کسی نتیجے کے جاری رہے ہیں اور عالمی مالیاتی فنڈ اور یورپی مرکزی بینک نے یونان میں اصلاحات تک کسی بھی طرح کی مزید امداد سے انکار کر دیا تھا دوسری جانب یونان میں کھاتے داروں اور نجی اداروں نے گذشتہ چند روز میں بینکوں سے اربوں یورو نکال لیے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق روزانہ 70 کروڑ یورو بینکوں سے نکالے جاتے ہیں جس سے بینکنگ نظام پر بہت زیادہ دباؤ پڑ گیا ہے

مزید : ایڈیشن 2