رمضان بازاروں میں ریلیف کے دعوے ہوا،اشیاء کے نرخ خریدنے سے باہر

رمضان بازاروں میں ریلیف کے دعوے ہوا،اشیاء کے نرخ خریدنے سے باہر

 لاہور(جاوید اقبال) ضلعی انتظامیہ کے رمضان المبارک میں سستی اور معیاری اشیائے خوردونوش کی فراہمی کے دعوے ٹھس ہوگئے ہیں۔تھوک منڈیاں ’’قابو‘‘ آسکیں اور نہ ہی پرچون مارکیٹ و اوپن مارکیٹ۔دوسری طرف درجنوں دکانوں پر ضلعی انتظامیہ کی طرف سے دی گئی سستی اشیاء کے لاکھوں روپے انتظامیہ اور دکاندار ہڑپ کر گئے ہیں۔گذشتہ روز فروٹ اور سبزیاں سستے رمضان بازاروں کی بجائے ریڑھی بان فروخت کرتے رہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی سی او لاہور کیپٹن(ر) عثمان کے منڈیوں پر دورے دکھلاوا اور فوٹو سیشن کے سوا کچھ نہیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے رمضان المبارک کے دوران اہل لاہور کو سستی اور معیاری چیزوں کی فراہمی کیلئے جو فئیر پرائس شاپس قائم کرنے کیلئے جو کئی ملین روپے کے فنڈز دیے تھے اس مد میں دیے گئے فنڈز کا بڑا حصہ خوردبرد ہو گیا ہے۔دوسری طرف ڈی سی او لاہور ’’دعووں ‘‘کے باوجود اوپن مارکیٹ کو قابو میں نہ رکھ سکے۔اور نہ ہی سبزی و فروٹ منڈیوں اور تھوک کی منڈیوں کو قابو کر پائے۔جس سے پرچون میں لوگوں کو سستی اشیاء خورد ونوش میسر نہیں آسکیں۔اور مارکیٹ اور سستے رمضان بازاروں میں ریٹس ایک جیسے رہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ ناکام ڈی سی او اور ان کی مشینری کا مرکز پرچون فروش رہے۔لہذا زیادہ تر ریڑھی بانوں اور پرچون فروش دکانداروں پر ان کا فوکس رہا۔جن کی بڑی تعداد کو حکومت کے سامنے نمبر بنانے کیلئے حوالاتوں میں بند کیا گیا،ان کو جرمانے کیے گئے۔جبکہ بڑے جنرل سٹوروں ،ڈیپارٹمنٹل سٹوروں ،منڈیوں کی طرف ضلعی انتظامیہ آنکھ اٹھا کر دیکھ بھی نہیں سکی۔بڑے سٹوروں پر انتظامیہ کے سامنے چینی 75روپے فی کلو گرام ،بیسن148روپے فی کلو گرام فروخت ہوتا رہا۔دالوں کی قیمتوں پر بھی ضلعی انتظامیہ عملدرآمد نہ کر اسکی۔دودھ ،دہی ،گوشت کی قیمتیں بھی بے قابو رہیں۔نان10روپے میں فروخت ہوتا رہا۔جس پر ڈی سی او لاہور اور ان کی ٹیم مقررہ قیمتوں پر عملدرآمد کروانے میں مکمل نا کام رہی۔اس حوالے سے کمشنر لاہور عبداللہ سنبل سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ معاملات کا جائزہ لے رہے ہیں،پوری مشینری متحرک ہے،اگر کہیں کوتاہی ہوئی ہے تو اس کو درست کریں گے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1