ویانا مذاکرات ناکام ہوئے تو اس کا نتیجہ جنگ ہوگی: علی خامنہ ای

ویانا مذاکرات ناکام ہوئے تو اس کا نتیجہ جنگ ہوگی: علی خامنہ ای

ویانا/تہران (آئی این پی )ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ویانا میں جاری تہران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر مذاکرات کے ڈیڈ لاک کا شکار ہونے کے بعد کہا ہے کہ اگر یہ مذاکرات ناکام ہوئے تو اس کا نتیجہ جنگ ہوگی۔ لہٰذا مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں قوم جنگ کے لیے تیار رہے۔ تہران میں طلباء کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ ویانا میں ہونے والے مذاکرات ناکامی سے دوچار ہوئے تو عالمی تکبر کے خلاف ایران کو جنگ لڑنا پڑے گی۔ لہذا میں پوری قوم سے کہتا ہوں کہ وہ جنگ کے لیے تیار رہیں۔آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ بات چیت کی ناکامی پر عالمی تکبر وغرور کے خلاف مزاحمت کرنا ضروری ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی جابر ریاستوں کے جبر کے خلاف مزاحمت اسلامی جمہوریہ ایران کے انقلاب کے اصولوں میں شامل ہے۔ دوسرے الفاظ میں جنگ کی تیاری سے گریز قرآن کریم کے احکامات کی بھی نفی ہوگی۔علی خامنہ ای نے گفتگو میں مغربی ممالک کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ مغرب اس لیے ایران پر پابندیاں عاید نہیں کررہا ہے کہ تہران جوہری پروگرام پر کام کررہا ہے۔ یا یہاں انسانی حقوق کی صورت حال ٹھیک نہیں یا یہ کہ ایران دہشت گردی کی پشت پناہی کررہا ہے بلکہ ان پابندیوں کی غرض وغایت ایران کو جدید اور قابل فخر عالمی تہذیب کے بلند مقام تک پہنچنے سے روکنا ہے۔ انہوں نے طلباء پر زور دیا کہ وہ حصول علم کے ذریعے ملک کو آگے کی طرف لے جانے کا سفرمزید تیز تر کردیں۔

مزید : عالمی منظر