یمن، اتحادیوں کی بمباری، علی صالح کے وفادار کمانڈر سمیت متعدد جنگجو ہلاک

یمن، اتحادیوں کی بمباری، علی صالح کے وفادار کمانڈر سمیت متعدد جنگجو ہلاک

دبئی(آئی این پی )یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں جاری "فیصلہ کن طوفان" آپریشن کے تحت باغیوں کے خلاف حملے جاری ہیں۔ دوسری جانب یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے سرگرم اتحاد کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ یمن میں انسانی بنیادوں پر سیز فائر کے حوالے سے انہیں یمن کی حکومت کی طرف سے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کی اپیل پر یمن میں عیدالفطر تک انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی سابق منحرف صدر علی صالح کی حامی ملیشیا اور حوثیوں کی طرف سے سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں۔اتحاد کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے یمن میں عارضی جنگ بندی کے ساتھ ہی علی صالح اور حوثیوں کی طرف سے اس کی خلاف ورزی شروع ہوگئی تھی۔حوثی باغیوں نے تعز میں ٹینکوں کے ذریعے جبل جرہ، الضباب، الحصب اور وادی الجدید میں شیلنگ کی جس کے نتیجے میں متعدد افراد کے جاں بحق اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔جنوبی یمن میں بھی عدن شہر میں المنصورہ، البریقا اور العریش کالونیوں میں حوثیوں نے حملے کیے۔ ضالع گورنری میں ایک مکان پر راکٹ حملے میں بچوں سمیت متعدد عام شہری مارے گئے۔ اتحادی ممالک کے طیاروں کی جانب سے بھی ضالع، تعز اور صنعاء میں باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے جس کے نیتجے میں دشمن کے کئی اسلحہ ڈپو تباہ کردیے گئے۔صنعاء میں جبل نقم، الحفا ملٹری کیمپ اور سعوان کے مقامات پر اتحادیوں کے حملے میں علی صالح کے وفاداسر کمانڈر سمیت متعدد جنگجو ہلاک ہوگئے۔شمالی ضالع میں الصدرین اور لحج میں مختلف مقامات پر اتحادی طیاروں کی کارروائیوں میں کئی جنگجو ہلاک اور زخمی کیے گئے ہیں۔تعز کے شمالی علاقے شاہراہ ساٹھ میں جبل المرخام کے مقام پر صدر ہادی کے حامیوں نے قبضہ کرلیا۔ انہوں نے لڑائی کے دوران حوثیوں کی تین بکتر بند گاڑیاں تباہ کردیں۔

صنعاء اور عدن میں بھی مزاحمتی کارکنوں کی گوریلا کارروائیوں میں 20 حوثی باغی ہلاک ہوگئے۔

مزید : عالمی منظر