سی اینڈ ڈبلیو پنجاب میں کروڑوں کے منصوبے من پسند ٹھیکداروں کو بانٹنے کا عمل بے نقاب

سی اینڈ ڈبلیو پنجاب میں کروڑوں کے منصوبے من پسند ٹھیکداروں کو بانٹنے کا عمل ...

 لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل)سی اینڈ ڈبلیو پنجاب میں قومی خزانے کو نقصان پہنچاتے ہوئے کروڑوں روپے کے منصوبے چہیتوں میں بانٹے جانے کا عمل بے نقاب ہوگیا۔حال ہی ریٹائرڈ ہونے والے چیف انجنئیر خالد پرویز نے سپرنٹنڈنٹ انجنئیر سرفراز بٹ ، نذر آفتاب اور ملک انورکے ہمراہ مبینہ طورپر صوبے میں مختلف منصوبوں کے ٹھیکے من پسند ٹھیکیداروں کو الاٹ کردیئے۔الاٹمنٹ سے قبل الاٹ کئے جانے والے منصوبوں کی تحریری اطلاعات سامنے آنے پر ہلچل مچ گئی۔سی اینڈڈبلیو اور اینٹی کرپشن نے الگ الگ کارروائی شروع کردی ہے۔ ٹینڈر فیسوں میں کروڑوں روپے کی خورد برد کرنے اور سودے بازی کے تحت سکیورٹی کی رقوم ٹھیکیداروں کوواپس کرنے کے الزامات پر بھی انکوائری ہونے لگی۔معلوم ہواہے کہ حال ہی میں اپنے عہدے سے ریٹائرڈ ہونے والے سی اینڈ ڈبلیو پنجاب کے چیف انجنئیر خالد پرویز اور سپرنٹنڈنٹ انجنئیر سرفراز بٹ ، نذرآفتاب اور ایس ای ملک انور کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے کروڑوں روپے کے کئی منصوبے خلاف ضابطہ چہیتوں کو الاٹ کردیئے۔بتایا گیا ہے کہ کسی بھی سرکاری منصوبے کی الاٹ سے قبل سربمر ٹینڈر طلب کئے جاتے ہیں اور جو کہ مقررہ دن اور طے شدہ وقت پر عوام کے روبرو کھولے جاتے ہیں۔ایسی صورت میں ٹھیکیدار ٹینڈر کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔اور مقابلے بازی کے باعث سرکاری تخمینے سے کہیں کم ریٹ دے کر منصوبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق متذکرہ بالا انجنئیروں نے ٹینڈر کے عمل کو فکس کرتے ہوئے ٹھیکیداروں میں مقابلے کی بجائے مبینہ طورپر پول کروایا ۔اور مقابلے کے بغیر ہی انہیں سرکاری ریٹوں کے عین مطابق یا پھر کئی کئی فیصد زائد شرح کے تحت منصوبے الاٹ کردیئے۔اس سلسلے میں 8دسمبر 2014کولاہور سرکل میں کھولے جانے والے کروڑوں ر وپے کے ٹینڈروں کے حوالے سے مقررہ وقت (1:30)سے دوگھنٹے پہلے(11:30پر) ہی چیف انجنئیر ہائی ویز نارتھ ، اور محکمے کے ذمے داروں کو بذریعہ مستند کورئیر سروس مطلع کردیا گیا کہ ٹینڈر کاعمل مصنوعی ہے۔ اور ٹھیکہ فلا ں ٹھیکیدار کو سرکاری تخمینے کی بجائے 4فیصد اضافی ریٹس پر دیا جائیگا۔ اور پھرمقررہ وقت پر اسی ٹھیکیدار کو پراجیکٹ الاٹ کرکے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔اسی طرح 17دسمبر 2014کو چیف انجنئیر ہائی ویز نارتھ خالد پرویز کو ایک سرکاری ٹھیکیدار نے خط لکھا کہ وہ راولپنڈی سرکل کا منصوبہ سرکاری تخمینے سے 4فیصد کم ریٹس پر حاصل کرسکتا ہے۔لیکن اس کی درخواست کو رد کرتے ہوئے چہیتے ٹھیکیدار کو کم ریٹس کی بجائے 4فیصد اضافی ریٹس پر پراجیکٹ الاٹ کرکے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا۔اور ٹھیکیدار سے دو فیصد کمیشن لے لی۔کچھ اسی طرح کی صورتحال راولپنڈی سرکل کے ایک منصوبے میں رہی ۔جہاں ٹینڈر تو 29جنوری 2015کو کھولا جانا تھالیکن 28جنوری کو ہی محکمے کے ذمے داروں کو تحریری طورپر مطلع کردیا گیا تھا کہ پراجیکٹ مغل کنسٹرکشن کو دیا جائیگا۔اور پھرا یسا ہی کیا گیا۔اور قومی خزانے کو ایک بار پھر نقصان پہنچایا گیا۔یہ بھی معلوم ہواہے کہ متذکرہ انجنئیروں کے خلاف محکمے نے اپنے طورپر جبکہ اینٹی کرپشن پنجاب نے بھی کارروائی شروع کردی ہے۔دوران انکوائری چند مخصوص ٹھیکیداروں کو کئی ارب روپے کے منصوبے الاٹ کرنے ، ٹینڈر فیسوں میں کروڑوں روپے کی خورد برد کرنے اور سودے بازی کے تحت سکیورٹی کی رقوم واپس کرنے کے الزامات کی چھان بین بھی کی جارہی ہے۔اے ڈی ملک نامی سرکاری ٹھیکیدار کا کہنا ہے کہ وہ خالدپرویز ، سرفراز بٹ ، نذر آفتاب اور ملک انور کی کرپشن کا گواہ ہے۔لیکن یہ مضبوط لوگ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ محکمے کے سپیشل سیکرٹری بھی ان انجنئیروں کے خلاف انکوائری کو انتہائی سست روی سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔اور اینٹی کرپشن حکام بھی کارروائی میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔اس سلسلے میں سابق چیف انجنئیر خالد پرویز کا موقف ہے کہ ان کا ٹینڈروں کی الاٹمنٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔سپرنٹنڈنٹ انجنئیر ہائی ویز سرکل لاہور سرفراز بٹ کا کہنا ہے کہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔البتہ یہ بات درست ہے کہ ان کے خلاف ان الزامات کے تحت محکمے کے اندر اور باہر انکوائری ہورہی ہے۔

سی اینڈ ڈبلیو پنجاب

مزید : صفحہ آخر