بینک ٹرانزیکشن ٹیکس ،تاجر تنظیموں کی حکومت کیخلاف صف بندی شروع

بینک ٹرانزیکشن ٹیکس ،تاجر تنظیموں کی حکومت کیخلاف صف بندی شروع

 لاہور ( اسد اقبال سے )وفاقی حکو مت کی جانب سے بنکوں میں رقوم کی منتقلی پر اعشاریہ تین فیصد ٹرانزیکشن ٹیکس عائد کر نے اور کاروباری بڑھتے مسائل کے حوالے سے تاجر تنظیمو ں نے حکو مت کے خلاف صف بندی شروع کر دی ہے اور اند ر کھاتے اس ٹیکس کے خلاف بھرپور محاذ بنانے کے لیے اپوزیشن سیاسی جماعتوں کے قائد ین سے روابط تیز کر دیے ہیں ۔جس کا عید کے بعدبھر پور طاقت کا مظاہرہ کر تے ہوئے حکو مت کے خلاف احتجاج اور شٹر ڈاؤ ن پاور کا استعمال کیا جائے گا کیو نکہ ٹرانزیکشن ٹیکس کا معاملہ ختم کیے بغیر تاجروں کے لیے کاروبار کو چلانا نا ممکن نظر آ رہا ہے دوسر ی جانب حکومتی حمایت یافتہ تاجروں کو وزارت خزانہ کی جانب سے ٹاسک دے دیا گیا ہے کہ اعشاریہ تین فیصد ٹیکس کے حوالے سے تاجروں کو اعتماد میں لینے کے لیے اجلاس بلا کر انھیں معیشت کی بہتری کے لیے امادہ کیا جائے اور کسی بھی قسم کے احتجاج اور ہڑتال سے باز رکھا جائے جس کے لیے مسلم لیگ ن تاجر ونگ کے رہنماء حکو مت کے اس اقدام کو کامیاب کروانے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق ایف بی آر نے حکو مت کو سفارش کی تھی کہ ٹیکس نیٹ میں اضافے کے لیے بنکوں سے رقوم کے نکلوانے اور جمع کروانے پر ٹیکس عائد کیاجائے کیو نکہ روزانہ اربوں روپے کی ٹرانزیکشن بنکوں کے ذریعے تاجر کر تے ہیں جس پر کسی قسم کا ٹیکس عائد نہ ہے اور اس طر ح حکو متی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کا ریو نیو اکھٹا ہو گا جس کے نتیجہ میں حکو مت نے اعشاریہ چھ فیصد ٹرانزیکشن ٹیکس عائد کر دیا تاہم تاجر و صنعتکاروں کی جانب سے بھر پور احتجاج اور ایک دن کے لیے لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر بڑے شہروں میں شٹر ڈاؤ ن کر نے کے بعد حکو مت مجبور ہوئی کہ تاجروں سے مشاورت کی جائے جس کے لیے وفاقی وزیر خزانہ نے وزیر اعظم پاکستان کی ہدایت پر تاجروں کا اجلاس بلایا واضع رہے کہ اس اجلاس میں حکو متی خیرخواہ تاجروں کو وفاقی دارلحکو مت بلا یا گیا اور اس بات پر امادہ کیا کہ معیشت کی بہتری کے لیے ٹیکس لگانا ضروری ہے تاہم تاجروں نے ٹیکس کی شرح میں کمی کی سفارش کی جس پر وزارت خزانہ نے رواں سال کے اختتام تک ٹیکس کی شر ح اعشاریہ تین فیصد کی منظور ی دی او ر حکومتی تاجروں کو اس بات کا ٹاسک دیا کہ تاجروں کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ حکومتی ریو نیو میں اضافہ ممکن ہو سکے ۔ تاہم حکو مت مخالف تاجروں نے اس ٹیکس کو ختم کیے بغیر کاروبار چلانا محال قرار دیا ہے اور اس سلسلہ میں تاجر تنظیموں کے رہنماؤ ں نے بھرپور تیاریاں شروع کر تے ہوئے کٹھ کر نا شروع کر دیے ہیں ۔ذرائع کے مطابق اس ٹیکس کے خلاف اپوزیشن سیاسی جماعتوں کو بھی بلایا جارہا ہے اور یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ عید الفطر کے بعد ٹرانزیکشن ٹیکس کے خلاف لاہور سمیت ملک کے بڑے شہروں میں بھرپورطاقت کا مظاہرہ کر تے ہوئے نہ صر ف احتجاج ریکارڈ کروایا جائے گا بلکہ شٹر ڈاؤ ن پاور کا استعمال بھی کیا جائے گا ۔ واضح رہے کہ انجمن تاجران ( اشر ف بھٹی)گروپ کے جوائنٹ سیکر ٹری میاں سلیم اور انجمن تاجران پاکستان کے صدر خالد پرویز نے اس ٹیکس کو مستر د کر تے ہوئے اس کے خلاف بھرپور تیاریاں شروع کر دی ہیں اور تاجر تنظیموں کو اعتماد میں لینا شروع کر دیا ہے تاکہ عید کے بعد بھرپور طاقت کا مظاہر ہ کیا جاسکے ۔ کیو نکہ تاجر اس بات پر امادہ نہیں کہ اس ٹیکس کو نافذ کیا جائے اور بیشتر تاجروں نے بنکوں سے لین دین ختم کر نے کا عندیہ بھی دے دیا ہے اور اس بات کا بھی خدشہ لاحق ہو رہا ہے کہ حکو مت مخالف تاجروں کی تحریک کے پیش نظر عید کے بعد بیشتر بنک دیوالیہ ہو جائیں گے۔

تاجر

مزید : صفحہ آخر