کراچی کا امن تباہ کرنے والوں کو کیفرکردار تک پہنچائیں گے،ایاز صادق

کراچی کا امن تباہ کرنے والوں کو کیفرکردار تک پہنچائیں گے،ایاز صادق

 لاہور( این این آئی ) سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ رینجرز کو آپریشن کے اختیارات سندھ پولیس میں سیاسی مداخلت کے تاثر کی وجہ سے دئیے گئے ، اس حوالے سے وفاق اور سندھ میں کوئی اختلاف نہیں اور دونوں حکومتیں ایک پیج پر ہیں،قرض اور بوجھ شہید کو بھی معاف نہیں لہٰذا عمران خان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ڈی جے بٹ کو ان کا حق دیں،مسلم لیگ (ن) کبھی کشمیر کے موقف سے پیچھے نہیں ہٹی اور وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے بھارتی ہم منصب سے ملاقات میں کشمیرکا موقف بہت واضح انداز میں بیان کیا ہے ،وزیر اعظم نواز شریف نے 2017ء کے آخر تک لوڈ شیڈنگ میں کمی کا اعلان کیا تھا اسکے خاتمے کی ڈیڈ لائن نہیں دی تھی،کراچی میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت آپریشن جا ری ہے اوراس کا مقصد ان لوگوں کوکیفر کردار تک پہنچانا ہے جنہوں نے کراچی کے امن کو تباہ و برباد کیا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جی او آر میں اپنے اعزاز میں دی گئی افطار پارٹی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ سردار ایاز صادق نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) کا موقف ہمیشہ سے بہت واضح رہا ہے اور وزیر اعظم نواز شریف نے بھی اس حوالے سے ٹھوس حکمت عملی اپنائی ہے۔ لوگ جو مر ضی تنقید کرتے رہیں وزیر اعظم نے روس میں اپنے بھارتی ہم منصب سے ملاقات میں اس معاملے پر بہت واضح انداز میں بات کی ہے ۔ مسئلہ کشمیر جلدی میں طے ہونے والا نہیں بلکہ یہ بیٹھ کر طے ہونے والے معاملات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت کراچی میں قیام امن کے لئے آپریشن ہو رہا ہے اور کراچی کے امن کو سبوتاژ کرنے والی قوتوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری ہیں۔ رینجرز کوجو اختیارات دئیے جارہے ہیں وہ خوب سمجھ کر دئیے جارہے ہیں اور اس حوالے سے وفاق اور سندھ میں کوئی اختلاف نہیں اور دونوں ایک پیج پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں رینجرز کو آپریشن کے اختیارات اس لئے دئیے گئے تھے کیونکہ وہاں یہ عام تاثر تھا کہ سندھ پولیس میں سیاسی مداخلت ہے ۔انہوں نے پی ٹی آئی کی جانب سے ڈی جے بٹ کومعاوضے کی ادائیگی میں تاخیر کے سوال کے جواب میں کہا کہ قرض اور بوجھ شہید کو بھی معاف نہیں ،عمران خان سے اپیل کرتا ہوں کہ ڈی جے بٹ کو اس کا حق دیا جائے اور امید ہے کہ عمران خان تک جب یہ بات پہنچے گی تو وہ خیال کریں گے۔

ایاز صادق

مزید : صفحہ آخر