ایپکس کمیٹی کا اجلاس: سندھ میں 44مدارس کے دہشتگردوں سے رابطوں کا انکشاف

ایپکس کمیٹی کا اجلاس: سندھ میں 44مدارس کے دہشتگردوں سے رابطوں کا انکشاف

کراچی (اسٹاف رپورٹر، آئی این پی) ا پیکس کمیٹی کے اجلاس میں سندھ کے 44 سے زائد مدارس کے دہشت گردوں سے رابطوں کا انکشاف کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ 160 سے زائد غیر رجسٹرڈ مدرسے سربمہر کئے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کے زیرصدارت اپیکس کمیٹی سندھ کا اجلاس ہوا جس میں کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن اور امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں مدارس کی اسکروٹنی رپورٹ پیش کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق سندھ کے 44سے زائد مدارس کے دہشت گردوں کے ساتھ روابط کا انکشاف ہوا ہے۔ کراچی میں 24 مدارس اور صوبے کے دیگر شہروں میں 20 سے زائد مدرسے دہشت گردی کے لئے استعمال ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا اب تک 160 سے زائد غیر رجسٹرڈ دینی مدارس سیل کئے گئے ہیں۔ ان میں سے 139 حیدرآباد اور 28 کا تعلق نواب شاہ ہے۔ سندھ میں مدرسوں کی مجموعی تعداد ساڑھے نو ہزار سے زائد ہے۔ صوبے میں 6503 مدارس رجسٹرڈ ہیں اور 3087 مدارس کی رجسٹریشن ابھی ہونا ہے۔ صوبے میں 6 مشکوک مدارس کی تلاشی بھی لی گئی اور اسکی نگرانی کا عمل جاری ہے۔ اجلاس میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان، چیف سیکریٹری سندھ صدیق میمن، سیکریٹری داخلہ سندھ مختار سومرو، کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر، ا?ئی جی سندھ ،قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس اداروں کے افسران سمیت دیگر حکام شریک تھے۔ آئی این پی کے مطابق کمیٹی کے اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پر عملد رآمد موثر طورپر نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سندھ کی سیاسی قیادت اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان دہشتگردی کے خلاف آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے پر اتفاق ہوا اور کراچی کو جرائم سے پاک کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ رینجرز دہشتگردوں کیخلاف کارروائیاں جاری رکھے گی‘ہرادارہ اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کرے گا ‘صوبے میں جہاں اور جس جگہ بھی دہشت گردوں کی اطلاع ملے گی وہاں ضرور کارروائی کی جائے گی، صوبے میں رینجرز اور دیگر اداروں نے مل کر امن قائم کیا ۔ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر شاہد حیات نے اجلاس میں بریفنگ دی جبکہ سیکرٹری داخلہ نے نیشنل ایکشن پلان سے متعلق اقدامات سے اجلاس کو آگاہ کیا۔ رینجرز اور پولیس کی جانب سے بھی اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ دی گئی۔ صوبے میں رینجرز اور دیگر اداروں نے مل کر امن قائم کیا ہے ذرائع کے مطابق سندھ ایپکس کمیٹی کا اجلاس جو ہنگامی طو رپر شارٹ نوٹس پر گزشتہ رات طلب کیا گیا تھا، اس س کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے فریضہ عمرہ کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب روانہ ہونا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں تاخیر کا مظاہرہ کیا گیا اوراس پر عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔ آن لائن کے مطابق اپیکس کمیٹی میں سیاسی اور عسکری قیادت نے کراچی آپریشن جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے اوریہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ دہشت گردوں کے مالی معاونین اور سہولت کاروں کو ختم کیا جائے گا۔ لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر، آئی جی سندھ، سیکریٹری داخلہ سندھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اٹیلی جنس حکام شریک ہوئے ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کراچی سے دہشت گردی اور جرائم کے خاتمے کے لئے قومی ایکشن پلان پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا اور کراچی میں وقتی نہیں دہشت گردی کے مستقل خاتمے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں مدارس کے متعلق رپورٹ پیش کی گئی جس کے مطابق سندھ میں چالیس سے زائد مدارس کے دہشت گردوں سے روابط کا انکشاف ہوا ہے۔ان میں کراچی کے چوبیس اور سندھ کے دوسرے شہروں میں بیس سے زائد مدارس شامل ہیں۔ اجلاس کو ڈی جی رینجرز سندھ اور صوبائی سیکریٹری داخلہ کی جانب سے بریفنگ دی گئی،۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور کراچی کوہر قیمت پرجرائم اوردہشتگردی سے پاک شہر بنایا جائے گا۔ شرجیل میمن نے بتایا کہ پولیس اور رینجرز کو فری ہینڈ دیا ہوا ہے۔ سب اچھا کی رپورٹ پر کراچی آپریشن بند نہیں کریں گے۔ دہشت گرد نائن زیرو یا کہیں پر ہوں رینجرز یا پولیس کو کارروائی کے لیے تحریری اجازت کی ضرورت نہیں۔ شرجیل میمن نے کہا کہ دشمن ملک کے ایجنٹوں کے خلاف بھی گھیرا تنگ کریں گے۔ آپریشن کے بعد سندھ میں کرائم ریٹ باقی صوبوں سے کم ہو گیا ہے۔ اجلاس کے بعد صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ٹارگٹڈ آپریشن سے کراچی میں جرائم خاصے کم ہوئے ہیں، تاہم ابھی بہت سے مقاصد حاصل کرنا باقی ہیں، اس لیے اپیکس کمیٹی نے آپریشن جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس نے کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے اور دہشت گردوں کے معاونین کے خلاف اقدامات کرنے کا بھی فیصلہ کیا جن میں کچھ دینی مدارس بھی شامل ہیں۔ بھارت کے ہاتھوں میں کھیلنے والوں کو بھی ہدف بنایا جائے گا جبکہ خیراتی فنڈز کو دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے والوں کو روکن کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔ اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا گیا اور کراچی میں بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان اور دیگر جرائم کی روک تھام سے متعلق کوششوں پر رینجرز اور پولیس کی تعریف کی گئی۔ شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی اکثریت ہے۔ سندھ اسمبلی کے ذریعے رینجرز کے اختیارات میں اضافہ کیا جائے گا۔ اس وقت رینجرز کو خصوصی اختیارات حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رینجرز کی موجودگی اور اختیارات کے حوالے سے سندھ اسمبلی سے منظوری ایک آئینی تقاضا ہے۔ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں رینجرز کے تحفظات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔ دہشت گردی کی جانب راغب کرنے والے مدارس کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کیا جائے گا۔ شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ اجلاس میں کراچی میں جاری ٹارگیٹڈ آپریشن اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے حوالے سے معاملات کا جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور دہشت گردی کی مکمل بیخ کنی تک آپریشن جاری رہے گا۔ دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والوں، ان کی مدد کرنے والوں اور ان کے سہولت کاروں کا بھی خاتمہ کیا جائے گا۔ اجلاس میں بدنام ڈاکو نظرو ناریجو کی ہلاکت پر پولیس کی کارکردگی کو سراہا گیا اور پولیس مقابلے میں شہید ہونے والے 2 پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ بھتہ یا فطرہ زبردستی کسی کو جمع نہیں کرنے دیا جائے گا اور ایسا کرنے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف سخت ایکشن ہوگا اور دہشت گردی کی جانب راغب کرنے والے مدارس کے خلاف کریک ڈاؤن ہوگا۔ اپیکس کمیٹی نے سندھ کے سیکریٹری محکمہ داخلہ کی سربراہی میں ایک ٹاسک فورس قائم کردی ہے، جو روز مرہ کے معاملات کا جائزہ لے گی۔ اس ٹاسک فورس میں پولیس اور رینجرز کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ رینجرز والے کہیں بھی چھاپہ مار سکتے ہیں۔ جہاں بھی دہشت گرد موجود ہوں گے، وہاں چھاپہ مارا جاسکتا ہے، اس کے لئے پیشگی تحریری اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ نائن زیرو سے کچھ لوگ گرفتار ہوئے ہیں، ان میں ولی بابر شہید کا قاتل بھی شامل ہے۔ دریں اثناء باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ سندھ پولیس کو بکتر بند گاڑیاں جلد فراہم کی جائیں گی۔ اس ضمن میں کور کمانڈر کراچی اور آئی جی سندھ مل کر اقدامات کریں گے۔ آئی جی سندھ نے اجلاس کو بتایا کہ بکتر بند گاڑیاں نہ ہونے کی وجہ سے ڈاکو نظرو ناریجو کے ساتھ مقابلے میں ہمارے 2 پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔ سندھ پولیس کو ان گاڑیوں کی اشد ضرورت ہے۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ سٹیزن پولیس لائژن کمیٹی (سی پی ایل سی) کے دفاتر گورنر ہاؤس سے فوری طور پر منتقل کئے جائیں گے اور اس ادارے کی عید کے بعد تنظیم نو کی جائے گی۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے افسران عید کے بعد راولپنڈی کا دورہ کریں گے اور وہاں 1122سروس کا جائزہ لے کر فوری طور پر یہ سروس کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں میں شروع کریں گے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا کہ پراسیکیوشن کمزور ہونے کی وجہ سے گرفتار ملزمان ضمانتوں پر رہا ہوجاتے ہیں۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردوں کو مالی معاونت روکنے کے لئے بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کے ساتھ رابطہ کرکے ایک میکنزم وضع کیا جائے گا۔ دریں اثناء پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کی ملاقات ہوئی جس میں ٹارگٹڈ آپریشن پر تبادلہ خیالات کیا گیا۔ اس موقع پر چیئرمین پیپلز پارٹی نے یقین دہانی کرائی کہ دہشتگردوں، کرپشن اور لینڈ مافیا کے خلاف کارروائی میں بھرپور ساتھ دیں گے۔ کراچی میں وزیر اعلیٰ ہاؤس سندھ میں اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار ، ڈی جی رینجرز اور پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری بھی پہنچے۔ اجلاس سے پہلے بلاول بھٹو زرداری اور کور کمانڈر جنرل نوید مختار کی ملاقات ہوئی جس میں وزیر اعلیٰ سندھ اور ڈی جی رینجرز بھی شریک ہوئے۔ ملاقات میں ٹارگٹڈ آپریشن اور امن و امان پر بات چیت کی گئی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دہشتگردوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے دہشتگردی کے خلاف جانیں دیں ، امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ساتھ دیں گے۔

مزید : صفحہ اول