نیب کی ڈی ایچ اے سمیت 17ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور سکیموں کی انتظامیہ کیخلاف تحقیقات کا دائرہ کار وسیع

نیب کی ڈی ایچ اے سمیت 17ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور سکیموں کی انتظامیہ کیخلاف ...

اسلام آباد (آئی این پی) قومی احتساب بیورو(نیب) نے لینڈ مافیا کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا، ملک بھر میں ڈی ایچ اے ، پاکستان ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی ، سویلین ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سکیم، سواں گارڈن، گرینڈ حیات ٹاور تعمیر کرنے والے بی این پی گروپ، سی ڈی اے حکام و افسران ، ایڈن گارڈن، وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے افسران ،نیشنل اسمبلی سیکرٹریٹ کوآپریٹیر ہاؤسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ سمیت مجموعی طور پر 17دیگر ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور ہاؤسنگ فاؤنڈیشنزاورسکیموں کے خلاف تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے 13ارب روپے سے زائد مالیت کی اراضی پر غیر قانونی قبضے ، تعمیرات میں خرد برد اور کرپشن کی انویسٹی گیشن شروع کر دی جبکہ قبضہ مافیا کے مگر مچھوں نے اپنے آپ کو بچانے کیلئے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیئے۔قومی احتساب بیورو(نیب) سے ’’آئی این پی ‘‘ کو حاصل دستاویزات کے مطابق کیپیٹل بلڈرز،نیو اسلام آباد گارڈن، سی 17 زون ٹو کے خلاف 44کروڑ روپے سے زائد مالیت، گلیکسی سٹی راولپنڈی کی انتظامیہ کے خلاف 21کروڑ، میوچل ہاؤسنگ سوسائٹی کے سرمایہ کاروں کے خلاف ڈیڑھ کروڑ روپے، ٹیلی ٹاؤن پرائیویٹ لمیٹڈکی انتظامیہ اور لینڈز سپلائرز کے خلاف 31کروڑ سے زائد، پاکستان میڈیکل کو آپریٹنگ ہاؤسنگ سوسائٹی کے سپلائرز، سروسز کو آپریٹنگ سروسز سوسائٹی کی انتظامیہ کے خلاف 7کروڑ روپے،فارمنٹس ہاؤسنگ سکیم کی انتظامیہ کے خلاف ایک ارب 15کروڑ سے زائد، ایوی کیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ کے سابق چیئرمین اور انتظامیہ کے خلاف 30کروڑ کروڑ،ایلیٹ ٹاؤن ہاؤسنگ سکیم، لاہور گارڈنز اور رحیم گروپ پرائیویٹ لمیٹڈ کے خلاف 10کروڑروپے مالیت کی اراضی پر قبضہ کرنے اور لوگوں کو لوٹنے، فراڈ اور دھوکہ دہی کے الزامات کے تحت تحقیقات کی جا رہی ہیں، ایچی سن کالج سٹاف کو آپریٹیو ہاؤسنگ سکیم لاہور کے عہدیداران اور افسران کے خلاف 40کروڑ روپے کی دھوکہ دہی، بے قاعدگیوں اور قانون شکنی، کے کے بلڈرز پرائیویٹ لمیٹڈ کراچی کے خلاف منیر میگا مال میں غیر قانونی تعمیرات، سرکاری زمینوں پر قبضے کے الزامات، فتح ٹیکسٹائل ملز کے خلاف 24کروڑ روپے کے غیر قانونی قبضے، پراونشل ہاؤسنگ اتھارٹی کے خلاف بے قاعدگیوں اور فنڈز میں خرد برد، جلوزئی ہاؤسنگ سکیم ڈسٹرکٹ نوشہرہ کے حوالے سے ایک ارب 20کروڑ کی بدعنوانی،آصف ہاشمی کے خلاف ای ٹی پی بی کی 34کنال 12مرلے کی پیمائش اور فروخت کے تحت 10کروڑ روپے کی کرپشن ، پاکستان ایمپلائز کو آپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ کے خلاف سوسائٹی کے فنڈز میں خرد برد، پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ ، نیشنل اسمبلی سیکرٹریٹ کوآپریٹیر ہاؤسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ کے خلاف منظور شدہ ماسٹر پلان کی خلاف ورزی اور اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے خلاف تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ نیب کی دستاویزات کے مطابق سویلین ایمپلائز کو آپریٹیو ہاؤسنگ سکیم سواں گارڈن فیز ٹو کی انتظامیہ کے خلاف لوگوں سے بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کے الزامات،سی ڈی اے اور بی این پی گروپ کی انتظامیہ کے خلاف جناح کنونشن سنٹر اسلام آباد کے ساتھ گرینڈ حیات ٹاور کی تعمیر کیلئے میں بی این پی گروپ کو پلاٹ کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے تحت قومی خزانے کو 2ارب 19کروڑ روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام، سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ گداپ ٹاؤن کے حکام اور افسران کے خلاف دیہہ اللہ پھیائے میں 91ایکڑ اراضی کی مہنگے داموں خریداری کر کے قومی خزانے کو ساڑھے 24کروڑ روپے کا نقصان پہنچانے، یونیورسٹی آف پشاور کے حکام اور افسران کے خلاف اراضی کی خریداری میں 10کروڑ روپے کے گھپلوں ، الحمراء ہلز اینڈ ایڈن بلڈرزکی انتظامیہ کے خلاف ایک ارب 25کروڑ سے زائد کی سرمایہ کاری کرنے اور لوگوں سے یہ رقم وصول کر کے ان کو ابھی تک پلاٹ کی الاٹمنٹ نہ کرنے اور ایک ارب 90کروڑ سے زائد کی کرپشن جبکہ او جی ڈی سی ایمپلائز کو آپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ کے خلاف 60کروڑ روپے کی اراضی کی مہنگے داموں خریداری، خرد برد۔ پاکستان پوسٹل سروسز ڈیپارٹمنٹ کی انتظامیہ کے خلاف پاکستان پوسٹ ہاؤسنگ سکیم کیلئے اراضی کی خریداری میں 10کروڑ روپے کے خرد برد، ڈی ایچ اے ویلی اسلام آباد کے خلاف کروڑوں روپے مالیت کی اراضی کی خریداری اور اس میں ترقیاتی کاموں اور فروخت کے سلسلے میں خرد برد، وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے حکام کے خلاف سکیم کے ترقیاتی کاموں اور 3000کنال اراضی کی خریداری میں 1ارب 56کروڑ روپے کے خرد برد ۔ ڈپلومیٹک انکلیو میں پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ پر سی ڈی اے حکام، ملٹی پروفیشنل کو آپریٹنگ ہاؤسنگ سوسائٹی اسلام آباد میں شمالی پٹی ای الیون اسلام آباد کے ترقیاتی منصوبوں کا غیر قانونی ٹھیکہ دینے پر سی ڈی اے کے افسران، حکام اور سوسائٹی کی انتظامیہ کے خلاف ایک ارب 20 کروڑ روپے سے زائد کی رقم کے خرد برد اور کرپشن کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ متعلقہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے حکام ، افسران اور عہدیداران نے خود کو نیب کے احتساب سے بچانے کیلئے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کر دیئے ہیں۔

مزید : صفحہ اول