ایران اور 6عالمی طاقتوں کے درمیان آج ایٹمی پروگرام پر معاہدے کا امکان

ایران اور 6عالمی طاقتوں کے درمیان آج ایٹمی پروگرام پر معاہدے کا امکان

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) بین الاقوامی ڈپلومیسی کی تاریخ کے طویل ترین اور صبر آزما مذاکرات بالآخر نتیجہ حیز ثابت ہونے والے ہیں۔ واشنگٹن کے سیکیورٹی مبصرین نے وی آنا سے آنے والی خبروں اور پیشرفت کے حوالے سے یقین ظاہر کیا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر چھ عالمی طاقتوں سے معاہدہ پر پیر کے روز مکمل اتفاق رائے کا اعلان ہو جائے گا۔ معلوم ہوا کہ آخری تفصیلات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، آخری رکاوٹوں کو دور کرنے کا کام پیر کی صبح تک مکمل ہو جائے گا۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری جو قبل ازیں ایک طرح کی دھمکی دے رہ تھے کہ صبر کی بھی کوئی حد ہوتی ہے اور مذاکرات غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رہ سکتے۔ انہوں نے وی آنا میں جو آخری تبصرہ کیا ہے اس میں پرامید کی جھلک ملتی ہے۔ انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے ساتھ ہفتے کی شام اپنی الگ ملاقات کو ’’انتہائی فائدہ مند‘‘ قرار دیا۔ فرانسیسی وزیر خارجہ لارنٹ فیبئیں نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ مذاکرات اب آخری مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں۔ مذاکرات کا موجودہ دور اب سولہویں دن میں داخل ہوگیا ہے جسے مکمل کرنے کے ٹارگٹ کی تاریخ سات جولائی سے بڑھ کر دس جولائی تک گئی اور اب آخری تیرہ جولائی کی تاریخ تک نتیجہ نکلنے کا امکان ہوگیا ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد ایران کے ایٹمی پروگرام کو اتنا محدود کر دینا ہے کہ اس کے ذریعے ایٹم بم بنانا انتہائی دشوار ہو جائے جب کہ ایران کا موقف ہے کہ اس کے پروگرام کا مقصد پرامن توانائی کا حصول ہے اور وہ ایٹم بم بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ اس کے بدلے میں اس پر عالمی طاقتوں کی طرف سے عائد اقتصادی پابندیاں اٹھائی جائیں گی جن کی اس وقت ایران شدید تکلیف محسوس کر رہا ہے۔ ایران کے ساتھ ایک عشرے سے زائد عرصہ تک مذاکرات میں جو عالمی طاقتیں مصروف ہیں ان میں امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی شامل ہیں۔ واشنگٹن کے باخبر سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے کا مسودہ سو صفحات پر مشمل ہے اور آخری خبریں آنے تک اس کا 98 فیصد حصہ مکمل ہوچکا ہے۔

مزید : صفحہ اول