مودی کا دورہ ترکمانستان ،گوادر بندرگاہ اور اقتصادی راہداری منصوبے کا خوف حاوی رہا

مودی کا دورہ ترکمانستان ،گوادر بندرگاہ اور اقتصادی راہداری منصوبے کا خوف ...

تہران ؍نئی دہلی(اے این این)بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی وسطی ایشیاء اورخلیج فارس کو جوڑنے کے لئے ایران کی جغرافیائی حدود کو بہترین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چاہ بہار بندگاہ خطے کی سب سے بڑی تجارتی راہداری ثابت ہو سکتی ہے،ہمیں ایران کے ذریعے خشکی اور بحری راستے تلاش کرنے چاہئیں۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے ترکمانستان کے صدر گربان گلی برد ی محمدوف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔نریندرمودی نے کہاکہ میری خواہش ہے کہ ہمیں ایران کے ذریعے خشکی سے بحری راستے بنانے سمیت مختلف آپشن تلاش کرنے چاہئیں۔موجودہ دورمیں ایران بین الاقوامی شمال جنوبی نقل و حمل کی راہداری کیساتھ سب سے اہم رابطہ ہے جو وسط ایشیائی ممالک کو بحر ہند کے آزاد پانیوں سے اس کی جنوبی بندرگاہوں کے ذریعے ملاتاہے ۔انہوں نے کہاکہ اگر ہم ایران کا راستہ استعمال کریں تواشک آبادپہلا دارالحکومت ہے جس کے ذریعے ہم وسطی ایشیاء تک پہنچ سکتے ہیں۔ہم تجارت اور ٹرانزٹ کے اشک آبادمعاہدے میں ساتھ دینے پر ترکمانستان کے بھارت کی حمایت پر ممنون ہیں ۔مودی کے ریمارکس اس وقت سامنے آئے ہیں جب ایک ایرانی عہدیدار نے 13جون کواپنے ایک انٹرویو میں کہاکہ وسط ایشیائی ممالک ایران کے ریل روڈ نیٹ ورک کو زیادہ تعداد میں مال برداری کیلئے ٹرانزٹ روٹ کے طورپر استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں ۔واضح رہے کہ بھارت اور ایران چاہ بہار بندر گاہ کی تعمیر کرکے پاکستان کو بائے پاس کرکے افغانستان اور وسط ایشیاء کی جانب اقتصادی راہداری بناناچاہتے ہیں ۔

مزید : صفحہ اول