مودی دباﺅ میں رہے،نواز شریف نے ایس سی او سے فائدہ اٹھایا، پیوٹن نے پاکستان کی تعریف کی: روسی میڈیا

مودی دباﺅ میں رہے،نواز شریف نے ایس سی او سے فائدہ اٹھایا، پیوٹن نے پاکستان ...
مودی دباﺅ میں رہے،نواز شریف نے ایس سی او سے فائدہ اٹھایا، پیوٹن نے پاکستان کی تعریف کی: روسی میڈیا

  

اوفا (ویب ڈیسک) رو کے شہر اوفا میں ختم ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس کے اجلاسوں نے پاکستان کے اس نقطہ نظر کو پھیلانے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ صف اپنے لئے نہیں بلکہ پورے خطے میں امن قائم کرنے کیلئے لڑرہا ہے۔

روسی ذرائع ابلاغ کے مطابق سب سے اہم کامیابی جو پاکستان کو ملی ہے وہ یہ ہے کہ ایس سی و کے تمام ممالک یہ بات تسلیم کرچکے ہیں کہ دہشت گردوں کے گروہ جو کہ افغانستان میں موجود ہیں ان کو بھارت کی طرف سے حمایت مل رہی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں پاکستان کے وفد نے برکس اور ایس سی او کے اجلاسوں میں شرکت کرنیوالے مندبین کو عندیہ دیا کہ افغانستان کی حکومت دہشت گردوں کے خلاف وہ اقدامات نہیں اٹھارہی جس کی ضرورت ہے اور پاکستان سے بھاگنے والے ٹی ٹی پی کے دہشت گرد افغانستان میں آرام سے زندگی بسر کررہے ہیں جن میں تحریک طالبان پاکستان کے امیر ملا فضل اللہ بھی ہے جو 55ہزار پاکستانیوں کے قتل میں ملوث ہے۔

ایس سی او کے اجلاس میں بھارت کے وزیراعظم نریندرا مودی سخت دباﺅ کا شکار رہے کیونکہ روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کھل کر بار بار اس بات کا اظہار کررہے تھے کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف بہت قربانیاں دیں ہیں اور پیوٹن نے وزیراعظم پاکستان کے ساتھ ملاقات میں بھی پاکستان کے کردار کو بہت سراہا ہے۔ پیوٹن نے ایس سی او کے اجلاس میں اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ اس خطے کے مستقبل کیلئے بہت اہم ہے۔ پیوٹن نے وزیراعظم پاکستان اور نواز شریف اور پاکستان کی افواج کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ روس پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھرپور تعاون فراہم کرے گا اور روس پاکستان کو خطے میں بہت اہم دوست سمجھتا ہے۔

روسی اخبارات کا کہنا ہے کہ ایس سی او کے اجلاس میں پاکستان اور بھارت کےو زرائے اعظم کی ملاقات دراصل ایک سائیڈلائن ملاقات تھی اور ایسی ملاقاتوں کا مقصد مستقبل میں طے ہونیوالی ملاقاتوں سے ہوتا ہے جبکہ سائیڈلائن میں کی جانے والی ملاقاتیں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتیں۔ وزیراعظم نواز شریف کے بارے میں روسی اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے اخبارات کا کہنا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم ایک مسکراتے چہرے والی شخصیت ہیں جو ایس سی او سے بہت زیادہ فائدہ اٹھا کر اسلام آباد واپس چلے گئے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی