دو سابق آئی ایس آئی چیفس نے دھرنوں کا لندن پلان بنوایا:وزیر دفاع

دو سابق آئی ایس آئی چیفس نے دھرنوں کا لندن پلان بنوایا:وزیر دفاع
دو سابق آئی ایس آئی چیفس نے دھرنوں کا لندن پلان بنوایا:وزیر دفاع

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیر دفاع خواجہ آصف نے پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کے دھرنوں کے ذریعے نواز شریف کی حکومت کو عدم استحکام کا شکارکرنے کے مبینہ کردار کے حوالے سے بالآخر سابق ڈی جی آئی ایس آئی ظہیر الاسلام کا نام لے لیا ہے، انہوں نے کہا کہ ظہیر نے حکومت کے خلاف لندن پلان کی سازش تیار کرائی تھی، جو چیز حکمران اپنے بند کمروں کے اجلاس میں پہلے زیر بحث لاتے رہے ہیں وہ اب وزیر دفاع نے ایک نجی ٹی وی ’آج‘ کو اپنے انٹرویو کے ذریعے طشت ازبام کردی ہے اور وہ یہ کہ نواز شریف حکومت کو عدم استحکام کا شکار کرنا یکے بعد دیگر آنے والے آئی ایس آئی کے دو چیفس جنرل (ر) شجاع پاشا اور جنرل (ر) ظہیر الاسلام کا مشترکہ کام تھا۔

روزنامہ جنگ میں انصارعباسی نے لکھاکہ اگرچہ گزشتہ سال کے دھرنوں کے حوالے سے جنرل پاشا کا نام پہلے بھی لیا گیا ہے جنرل ظہیر کا نام پہلی بار لیا گیا ہے کہ انہوں نے بھی جمہوری طور پر منتخب نواز شریف کی آئینی حکومت کے خلاف سازش کی۔ ستم ظریفی البتہ یہ ہے کہ اپنی حدود پار کرنے اور قانون کی خلاف ورزی کے باوجود ان میں سے کسی ریٹائرڈ جرنیل سے نہ تو سول حکومت اور نہ ہی فوجی قیادت نے پوچھ گچھ کی ہے۔ ابصار عالم سے ان کے شو میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ منتخب حکومت کے خلاف اپنے کردار کی وجہ سے جنرل (ر) ظہیر الاسلام نے قومی مفادات کو نقصان پہنچایا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ جنرل ظہیر الاسلام کو حکومت سے اس وقت سے پرخاش تھی جب سے حکومت نے اپریل 2014ءمیں حامد میر پر حملے کے حوالے سے جیوکے معاملے پر ایک موقف اختیار کیا تھا۔ خواجہ آصف نے مطابق جنرل ظہیر نے اپنی ذاتی پرخاش کی خاطر قومی مفاد کو نقصان پہنچایا۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے صورتحال کو اچھی طرح سے سنبھالا۔ انہوں نے اس امر پر تاسف کا اظہار کیا کہ ذاتی مقاصد کے لئے قومی مفادات قربان کئے گئے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ جیو کے معاملے کے بعد جنرل ظہیر الاسلام حکومت کے خلاف ہوگئے تھے اور لندن منصوبے کا حصہ بن گئے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ”جنرل ظہیر الاسلام کی ذاتی رنجش تھی“ جبکہ شجاع پاشا کا بھی لندن پلان میں کردار تھا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ظہیر سے پہلے پاشا بھی سیاستدانوں سے ملاقات کرکے انہیں پی ٹی آئی میں شمولیت کے لئے اکساتا رہا تھا۔ جنرل پاشا نے 2012ءکے کارپوریت ایگزیکٹوز کی کراچی میں ہونے والی تقریب میں شرکاءسے کہا تھا کہ وہ پی ٹی آئی کے سیاسی سرگرمیوں کے لئے فنانسنگ کریں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لئے میڈیا اور صحافی کو بھی استعمال کیا گیا اور 2014ءکے دھرنے کو کامیاب بنایا گیا تاکہ وزیراعظم سے استعفیٰ حاصل کیا جاسکے لیکن ایسا ہونہ سکا۔ منتخب حکومت کے خلاف ہر چیز کی منصوبہ بندی کی گئی تھی اور صحافی اور میڈیا اس کے لئے استعمال ہوئے۔ خواجہ آصف نے بتایا کہ 2006ءمیں قومی اسمبلی میں ان کی تقریری جو ایک مخصوص پس منظر میں تھی اسے بھی ٹی وی چینلز پر چلایا گیا تاکہ انہیں اور حکومت کو ہدف بنایا جاسکے۔ جب ان سے دریافت کیا گیا کہ آیا 2015ءمیں وہ 2014ءوالی کیفیت کو دوبارہ ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں تو انہوں نے اس امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آج سول اور فوجی قیادت میں خارجہ پالیسی اور ضرب عضب و قومی ایکشن پلان سمیت تمام اہم معاملات پر مکمل اتفاق و ہم آہنگی ہے اور موجودہ حکومت اور ادارے ایک یونٹ کے طور پر پاکستان کو بہتر مستقبل کے لئے کام کررہے ہیں۔

مزید : اسلام آباد