وہ جنگلی قبیلہ جسے اپنی بقاء کیلئے انٹرنیٹ کا سہارا لینا پڑگیا

وہ جنگلی قبیلہ جسے اپنی بقاء کیلئے انٹرنیٹ کا سہارا لینا پڑگیا
وہ جنگلی قبیلہ جسے اپنی بقاء کیلئے انٹرنیٹ کا سہارا لینا پڑگیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ساؤپالو(نیوزڈیسک)آپ نے گوگل کے کئی استعمالات سن رکھے ہوں گے لیکن آج ہم آپ کو مشہور جنگل ’ایمازون‘ کے ایک ایسے قبیلے کے بارے میں بتائیں گے جس کے سردار نے گوگل کا انتہائی خوبصورت استعمال کرکے اپنے قبیلے کو صفحہ ہستی سے مٹنے سے بچالیا۔

ایمازون کے بیچوں بیچ سورئی نامی قبیلہ صدیوں سے آباد تھا لیکن ماضی میں یورپی آبادکاری اور جنگلات کی تیزی سے کٹائی کی وجہ سے اس قبیلے کے دنیا سے مٹنے کے خدشات پیدا ہونے لگے۔باہر سے آنے والے افراد کی وجہ کئی متعدی بیماریاں بھی ساتھ آئیں جو کہ قبیلے کے افراد کو لاحق ہوگئیں اور5000آبادی والا قبیلہ صرف 250افراد کا رہ گیا۔موجودہ دور میں چھ لاکھ ایکڑ پر محیط 1300افراد کا یہ قبیلہ23گاؤں میں آباد ہے۔ایک بار پھر جب جنگلوں کی کٹائی کی وجہ سے اس قبیلے کے دنیا سے مٹ جانے کے خطرات لاحق ہوئے تو اس کے سردار نے تیر اور کمانیں اٹھانے کی بجائے ایک اور ہتھیار کااستعمال کیا اور یہ ہتھیار ’انٹرنیٹ‘تھا۔اس تمام کاوش کا سہرا قبیلے کے سرادر المر نارایاموگا کوجاتا ہے جس نے تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے کمپیوٹر کا استعمال سیکھ رکھا تھا۔

مزید پڑھیں:وہ جنگلی قبیلہ جسے اپنی بقاء کیلئے انٹرنیٹ کا سہارا لینا پڑگیا

اپنی صلاحیتوں کی بدولت 2007ء میں اسے Amazon Conservation Team (ACT)کی شراکت سے امریکی ریاست کیلی فورنیا جانے کا اتفاق ہوا جہاں اس نے گوگل کے ہیڈ کوارٹر بھی وزٹ کیا۔اس نے گوگل کو یہ آئیڈیا دیا کہ اس کے علاقے کی تصاویر لگائی جائیں جس میں دنیا بھر کے افراد کو بتایاجائے کہ کس طریقے سے یہ قبیلہ ختم ہورہاہے اور تمام ایسی معلومات انٹر نیٹ پر ڈالی دی جائیں جن کی مدد سے اس قبیلے کو مکمل تباہی سے بچایا جاسکے اور حکومت کومجبور کیاجائے کہ وہ ان مافیاز کے خلاف کام کرے جو ایمازون جنگلات کو کاٹ کر اس قبیلے کو ختم کرنے پر تلے ہیں۔اس کاکہنا تھا کہ اس طریقے سے علاقے کو بچانے اور درخت لگانے کے لئے فنڈز بھی اکٹھے کئے جاسکیں گے اور لوگوں کو اس بارے میں تازہ معلومات بھی ملتی رہیں گی۔اس کاکہنا تھاکہ اب ہماراسب سے بڑاہتھیارلوگوں کو تعلیم دینا ہے۔اس کا یہ آئیڈیا گوگل کو بہت پسند آیا اور انہوں نے اپنے جدید کیمروں اور سیٹلائیٹ کی مدد سے علاقے کی تصاویر اتار کر گوگل ارتھ پر لگادیں۔اس وجہ سے قبیلے کو دنیا بھر میں پذیرائی ملی اور اس کے مٹنے کے امکانات ختم ہوگئے۔

مزید پڑھیں:الگ رہنے والے جنگلی قبیلے کا دنیا سے پہلا رابطہ

نارایاموگا کا کہنا ہے کہ اسے یقین ہے کہ اگلے 10سال میں اس کا قبیلہ کافی کی کاشت اور ایکوٹورازم کی وجہ سے اپنے ذریعہ معاش میں خودکفیل ہوجائے گا اور انہیں دنیا کی امداد کی ضرورت بھی نہ رہے گی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس