ان مسلمان چینی شہریوں کو ایشیائی ملک سے دہشت گردوں کی طرح کہاں بھیجا جارہا ہے؟ جواب آپ کو پریشان کردے گا، انتہائی تشویشناک الزام

ان مسلمان چینی شہریوں کو ایشیائی ملک سے دہشت گردوں کی طرح کہاں بھیجا جارہا ...
ان مسلمان چینی شہریوں کو ایشیائی ملک سے دہشت گردوں کی طرح کہاں بھیجا جارہا ہے؟ جواب آپ کو پریشان کردے گا، انتہائی تشویشناک الزام

  

بیجنگ (نیوز ڈیسک) چین کی طرف سے ا پنی مسلمان یغور آبادی کے نوجوانوں کی داعش کی طرف رغبت سے متعلق تشویشناک دعوے سامنے آتے رہے ہیں اور اب پہلی دفعہ 100 سے زائد یغور نوجوانوں کو مبینہ طور پر داعش میں شمولیت کی کوشش کے دوران گرفتار کر کے تھائی لینڈ سے ایک خصوصی طیارے کے زریعے چین پہنچا دیا گیا ہے۔

چینی ٹیلی ویژن پر دکھائے جانے والے مناظر میں نقاب پہنے اور ہتھکڑیوں میں جکڑے نوجوانوں کو دکھایا گیا ہے جنہیں طیارے میں بٹھا کر چین کے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔ چینی میڈیا کے مطابق یہ نوجوان ترکی، شام یا عراق میں جنگجوؤں کے ساتھ شامل ہونے جارہے تھے اور ان میں سے 13 دہشت گردی میں ملوث ہونے کے بعد چین سے فرارہوئے تھے۔چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی Xinhua کا کہنا ہے کہ چینی پولیس کی تفتیش کے دوران جنگجوؤں کی بھرتی کرنے والے متعدد گینگز کا انکشاف ہوا ہے۔

مزید پڑھیں:ترکی چینی مسلمانوں کو ترک کاغذات بنوا کر داعش میں شامل کروا رہا ہے، چین نے خوفناک الزام لگا دیا

چین واپس لائے جانے والے یغور نوجوانوں کے متعلق بتایا گیا ہے کہ انہیں ایک سال قبل تھائی لینڈ میں گرفتار کیا گیا جبکہ یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ یہ ترک ہیں۔ تھائی لینڈ حکام کے مطابق 173 افراد کے ترک ثابت ہونے کے بعد انہیں ترکی بھیجا گیا تھا جبکہ تھائی لینڈ حکومت کے ڈپٹی نمائندے کا کہنا تھا کہ باقی ماندہ 109 چینی ثابت ہوئے تھے۔ ہفتے کے روز مزید 8 یغور افراد کو ترکی پہنچایا گیا جبکہ 52 افراد کی قومیت کی تصدیق ہونا باقی ہے جس کے بعد انہیں ان کے ممالک واپس بھیج دیا جائے گا۔

چینی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق تھائی لینڈ میں پکڑے گئے 109 بغور نوجوانوں میں سے اکثر جرمنی سے تعلق رکھنے والی تنظیم ورلڈ یغور کانگریس اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کی طرف سے موصول ہونے والے لٹریچر سے متاثر ہوکر شدت پسندی کی طرف مائل ہوئے تھے۔ دوسری جانب ورلڈ یغور کانگرس کے نمائندے کا کہناہے کہ چین میں یغور مسلمانوں کو دبانے کی پالیسی کی وجہ سے یغور نوجوان ملک چھوڑ کر فرار ہورہے ہیں اور چینی حکومت اس کی ذمہ داری قبول کرنے سے ہچکچارہی ہے۔

مزید پڑھیں:چینی حکومت کا اپنے مسلمان شہریوں پر کڑا وار،مسلم دکانداروں کوحرام اشیاءفروخت کرنے کا حکم دیدیا

اقوام متحدہ، یورپی یونین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے 109 یغور نوجوانوں کو چین کے حوالے کئے جانے پر سخت تنقید کی گئی ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ چین میں یغور نوجوانوں کا استحصال کیا جاتا ہے لہٰذا انہیں ترکی کے حوالے کرنا چاہیے تھا جو پہلے بھی یغور افراد کو قبول کرچکا ہے۔

یغور مسلمانوں کی اکثریت چین کے صوبے سنکیانگ میں آباد ہے اور چینی حکومت گزشتہ کئی سالوں سے انہیں شدت پسندی میں ملوث قرار دیتی رہی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس