بھارتی انتظامیہ کشمیری عوام کو پر امن رہنے کی اپیلیں کر نے کا اخلاقی حق کھو چکی ہے انجینئر رشید

بھارتی انتظامیہ کشمیری عوام کو پر امن رہنے کی اپیلیں کر نے کا اخلاقی حق کھو ...

سرینگر( کے پی آئی)عوامی اتحاد پارٹی سربراہ اور ایم ایل اے لنگیٹ انجینئر رشید نے کہا ہے بھارتی فوج اور انتظامیہ عوام کو پر امن اور تشدد سے باز رہنے کی اپیلیں کر نے کا اخلاقی حق کھو چکی ہے ۔انجینئر رشید نے کہا اگر منتخب نمائندوں نے کشمیریوں کے جائز سیاسی حقوق کی بات کی ہو تی اور ریاست میں پولیس ، فوج اور دیگر ایجنسیوں کو کشمیریوں کا خون بہانے کی چھوٹ نہ دی ہوتی تو آج ان کی بات کا کوئی خریدار ہو تا ۔ انجینئر رشیدنے کہاکہ اسی طرح عمر عبداللہ کی یہ بات کسی مذاق سے کم نہیں کہ وہ وزیراعلی محبوبہ مفتی کو امن قائم کر نے میں تعاون دینے کے لئے تیار ہیں۔پوچھا جاسکتا ہے کہ اگر خود عمر عبداللہ اور باقی ہند نواز سیاستدان لوگوں کے غم و غصے کا شکار ہیں تو بھلا عمر کے ہاتھ میں وہ کون سا جادو ہے جس کے بل پر وہ محبوبہ مفتی کو مصیبت سے باہر نکال سکتے ہیں۔ انجینئر رشید نے کہا کہ محبوبہ ہوں یا عمر،کوئی فوجی جرنیل ہو یا کوئی پولیس افسران ،سب کو جان لینا چاہئے کہ جن کے اپنے ہاتھ بے گناہوں کے خون سے رنگے ہوئے ہوں اور جن کے دامن پہ جگہ جگہ خون کے دھبے لگے ہوں، ان کا امن کی اپیلیں کر نا کوئی معنی نہیں رکھتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امن کی باتیں کرنے والوں کو اس سوال کا جواب دینا چاہئے کہ اگر ہریانہ میں گذشتہ انتہائی پر تشدد جاٹ ایجی ٹیشن کے دوران بلوایوں کے تمام ناز نخرے برداشت کئے گئے تو کشمیر یوں کونعرہ لگانے پر بھی بدلے میں گولیاں کیوں ملتی ہیں اور کہا کہ حکومت کو کشمیریوں کے مال و جان سے زیادہ امر ناتھ یاتریوں کی یاترا کوکسی خلل کے بغیر جاری رکھنے کی فکر ہے۔ انہوں نے کہاکہ سخت سیکورٹی حصار اورسرکاری بنگلے سے سرکاری ریڈیو اور ٹی وی پر کشمیریوں کو امن کا درس دینے والے نعیم اختر کو وعظ و نصحیت کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک کر اپنی یاداشت تازہ کر نی چاہئے کہ ان کی حکومت نے اگر ہندوارہ سا نحہ میں ملوث سرکاری قاتلوں کی حسب وعدہ اگر نشاندہی کی ہوتی اور ان کے خلاف قانونی کاروائی شروع کی ہوتی تو آج نہ ہی پولیس بے لگام ہو کر کشمیر کو خون میں نہلا دیتی اور نہ ہی نعیم اختر کو ان لوگوں کے آگے امن کی بھیک مانگنی پڑتی جنہیں یہ کل تک شر پسند اور پاکستانی ایجنٹ کہتے کہتے تھکتے نہیں تھے۔انہوں نے نعیم اختر کو یاد دلایا کہ حالیہ طویل اسمبلی اجلاس کے دوران جب میں نے بار بار ہندوارہ اور دیگر واقعات میں ملوث وردی پوشوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا تو نہ صرف مجھے نعیم اختر سمیت باقی اکثر ممبران نے پاکستانی ایجنٹ ہونے کا طعنہ دیا بلکہ مجھے ہر روز بے عزتی کر کے ایوان سے باہر نکالا جاتا تھا۔

مزید : عالمی منظر


loading...