بارشوں اور سیلاب کی وارننگ ۔۔۔حفاظتی انتظامات بہتر بنائیں

بارشوں اور سیلاب کی وارننگ ۔۔۔حفاظتی انتظامات بہتر بنائیں

محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق رواں برس مُلک کے چاروں صوبوں میں مون سون کی بارشیں معمول سے زیادہ ہوں گی، جس کے باعث سیلاب کا شدید خطرہ ہے۔ مون سون بارشوں کا سلسلہ تھر سے ہوتا ہوا سندھ میں داخل ہو کر پورے صوبے میں پھیل جائے گا، زیادہ بارشوں کی وجہ سے بڑے شہروں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث سیلاب کی صورت بن سکتی ہے۔ خیبرپختونخوا اور کوہ سلیمان کے علاقے میں بھی فلش فلڈنگ کا خطرہ ہے، تمام صوبوں کو مون سون کے پیشِ نظر خطرات سے آگاہ کر دیا گیا ہے، دریاؤں سے ملحقہ آبادیوں کو بھی وارننگ جاری کی جا رہی ہے۔ رواں ہفتے مُلک کے بالائی اور جنوبی حصوں اور کشمیر میں بارش کا امکان ہے۔ چند روز میں بلوچستان کے مشرقی اضلاع کوئٹہ، ژوب، سبی اور نصیر آباد ڈویژن میں بارش کا امکان ہے۔ مون سون کی ہوائیں دو تین روز میں مُلک میں داخل ہوں گی۔ جمعرات کو کراچی میں بارش کی توقع ہے۔ پنجاب، اسلام آباد،زیریں سندھ اور کشمیر میں رواں ہفتے آندھی بھی چلے گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ ڈیموں، بیراجوں اور بندوں کی دیکھ بھال کے لئے اقدامات میں کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، مون سون کے پیش نظر حفاظت اور نگرانی کے لئے موثر اقدامات کئے جائیں۔

بارشوں کی پیش گوئی اور سیلاب کی وارننگ بروقت جاری کر دی گئی ہے اِس لئے متعلقہ محکموں کو وقت ضائع کئے بغیر اقدامات کا آغاز کر دینا چاہئے اور ضروری تیاریاں کر لینی چاہئیں، بارشوں اور سیلاب سمیت قدرتی آفات پر انسان کا کوئی اختیار نہیں تاہم اِن کی تباہ کاریوں سے حتی الامکان بچے رہنے کے لئے تدابیر کرنا تو انسانی بس میں ہے۔ حکومتوں نے اِسی مقصد کے لئے ادارے بنائے ہوتے ہیں، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ جب مصیبت اچانک آن پڑتی ہے تو یہ ادارے افراتفری کے عالم میں متحرک ہوتے ہیں اور جس انداز سے کام ہوتا ہے اس سے کسی کو مدد مل پاتی ہے اور کسی کو نہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان میں تسلسل کے ساتھ سیلاب آ رہے ہیں جن سے بہت زیادہ مالی اور جانی نقصان ہوتا ہے جن کے مقابلے میں حفاظتی تدابیر ناکافی ثابت ہوتی ہیں جو لوگ اچانک سیلاب میں گِھر جاتے یا بارشوں سے متاثر ہوتے ہیں انہیں زندگی کی بنیادی ضروریات کھانا وغیرہ پہنچانا اور محفوظ مقامات پر منتقل کرنا ضروری ہوتا ہے اِس سلسلے میں بعض پرائیویٹ تنظیمیں اور این جی اوز بھی متحرک ہوتی ہیں اور اُن کے کام کو سراہا بھی جاتا ہے، لیکن بنیادی طور پر تو یہ کام اُن سرکاری اداروں کا ہے جو خاص طور پر اس مقصد کے لئے بنائے گئے ہیں۔

عمومی تاثر یہ ہے کہ ہم خوابِ غفلت میں پڑے رہتے ہیں اور جب آفت سر پر آ جاتی ہے تو پھر نیم دلانہ اقدامات کرتے ہیں۔لاہور جیسے شہر میں نکاسی آب کے نالوں کی صفائی ہونے والی ہے یہ اعلانات سامنے آ چکے ہیں کہ مون سون سے پہلے نالوں کی صفائی کر دی جائے گی، لیکن اب جبکہ دو تین روز میں بارشوں کی پیش گوئی کر دی گئی ہے، نالوں کی صفائی کا کام مکمل نہیں ہوا اگر کہیں کہیں ہوا ہے تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ اچانک بارشوں سے زیادہ تر شہر میں پانی کھڑا ہو جائے گا۔ لاہور صوبائی دارالحکومت ہے اور یہاں صوبائی حکام کی براہِ راست نظر ہونے کی وجہ سے کچھ نہ کچھ بہتری ہوتی ہے، دور دراز کے شہروں میں ضلعی اور شہروں کی انتظامیہ اِس حد تک متحرک نہیں ہوتی اب ہنگامی طور پر اِس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

جن ندی نالوں اور دریاؤں میں ہر سال باقاعدگی سے طغیانی آئی ہے وہ روایتی طور پر جن علاقوں سے گزرتے ہیں وہاں اِن کا پانی تباہی پھیلاتے ہوئے گزرتا ہے ان میں تو سیلاب سے بچاؤ کا مستقل بندوبست ہونا چاہئے، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو پایا، معمول کے ایام میں دریاؤں اور نہروں کے پشتوں کو مضبوط کرنے کے لئے جو فنڈز جاری ہوتے ہیں وہ بھی دیانتداری سے خرچ کئے جائیں تو مرحلہ وار پروگرام کے تحت چند برسوں میں وسیع علاقے کے بندوں کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے، لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ جب دریاؤں میں سیلاب آتا ہے اور خطرہ پیدا ہو جاتا ہے کہ کمزور پُشتے ٹوٹ جائیں گے یا اُن میں شگاف پیدا ہو جائیں گے تو اُس وقت ہنگامی طور پر انہیں مضبوط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر خوش قسمتی سے سیلابی ریلا گزر جائے اور کمزور بند دباؤ سہار جائے تو پھر اگلے برس تک اس جانب کوئی توجہ نہیں ہوتی۔ اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ اس مقصد کے لئے جاری فنڈز خورد بُرد ہو جائیں، کیونکہ مٹی، پتھر وغیرہ کی بھرائی کا کوئی حساب نہیں رکھا جا سکتا اور اس معاملے میں خورد بُرد کے امکانات رہتے ہیں۔

سندھ کے صوبائی دارالحکومت کراچی میں گزشتہ ہفتے جو بارشیں ہوئی تھیں وہ اگرچہ اتنی زیادہ نہیں تھیں، لیکن اس معمولی بارش نے بھی شہر کے انتظامات کا پول کھول کر رکھ دیا اور پورے شہر میں اکثر مقامات پر ٹریفک جام ہو کر رہ گئی، شہر پہلے سے کچرے کا ڈھیر بنا ہوا ہے، بارش نے صورتِ حال خراب تر کر دی اب پھر بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے اور عین ممکن ہے کہ اِن سطور کی اشاعت تک یہ سلسلہ شروع ہو چکا ہو، اِس لئے شہر میں نکاسی آب کے انتظامات کو ہنگامی طور پر بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ کراچی نہ صرف کاسمو پولیٹن شہر ہے، بلکہ وزیراعلیٰ اور گورنر سمیت صوبے کے اعلیٰ حکام اسی شہر میں رہائش رکھتے ہیں، لیکن مقامِ افسوس ہے کہ گورنر ہاؤس کے قرب و جوار میں بھی صفائی کا اچھا انتظام نہیں اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ باقی شہر کا کیا حشر ہو گا۔ کراچی میں چونکہ زیادہ بارشیں نہیں ہوتی تھیں اِس لئے شہر سے بارشوں کے پانی کے اخراج پر ماضی میں زیادہ توجہ نہیں دی گئی، لیکن اب شہر کے پھیلاؤ اور آبادی میں بے تحاشا اضافے کی وجہ سے اس سارے نظام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے اب تک بہتری کیوں نہیں ہوئی، ہم اس بحث میں اُلجھے بغیر یہ امید رکھتے ہیں کہ صوبائی حکومت اس جانب توجہ کرے گی۔

لاہور میں صفائی کے انتظامات ایک ترک کمپنی کے سپرد ہیں اور جب سے اس کمپنی نے کام شروع کیا ہے شہر کی صفائی بہتر طور پر ہو رہی ہے کیا ایسا ممکن ہے کہ سندھ کی حکومت اس کمپنی سے بات کر کے شہر کی صفائی کے انتظامات اس کے سپرد کر دے، کیونکہ لاہور میں یہ تجربہ کامیاب رہا ہے اِس لئے توقع کی جا سکتی ہے کہ اس کمپنی کے سپرد اگر کراچی کے انتظامات کئے جائیں تو وہ چند ہفتوں کے اندر اندر اصلاحِ احوال کر کے دکھا سکتی ہے تاہم اگر صوبائی حکومت کے اِس سلسلے میں کوئی تحفظات ہوں اور اس کے پاس کوئی بہتر پلان ہو تو اسے بروئے کار لانا چاہئے۔ کراچی کا یوں کچرے کا ڈھیر بنے رہنا اور اوپر سے بارشوں کا سلسلہ اس شہر کا حسن تباہ کر دے گا۔ کراچی کی جو حالت ہو چکی ہے اس کے بعد اب ناگزیر ہے کہ بلدیاتی اداروں کو جلد از جلد کام شروع کرنے کی ہدایت کی جائے۔ انتخابات کے بعد سے یہ ادارے اب تک اپنا کام شروع نہیں کر سکے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر بلدیاتی انتخابات تو کرا دیئے گئے، لیکن انہیں منطقی انجام تک نہیں پہنچایا گیا اور نہ یہ ادارے کام شروع کر سکے ہیں۔ اگر یہ ادارے کام کر رہے ہوتے تو بہتری کی امید کی جا سکتی تھی۔

انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ غریب اور متوسط طبقات کو سیلاب کی امکانی صورتحال سے مختلف ذرائع کی مدد سے خبردار کرے کیونکہ سیلاب کے دنوں میں نقصانات کا سب سے زیادہ سامنا انہی طبقات کی آبادیاں کرتی ہیں۔ ان کے بوسیدہ مکانات گرتے اور بہت سی جانوں کے ضیاع کا باعث بنتے ہیں۔ تنگ و تاریک گلیوں سے پانی ہفتوں تک نکل نہیں پاتا تو وہاں کئی طرح کی بیماریاں پھیل جاتی ہیں۔ ان لوگوں کو مقامی مساجد اور تعلیمی اداروں کے ذریعے بار بار اپنے بچاؤ کے لئے پیشگی انتظامات کرنے کی طرف توجہ دلائی جائے۔سندھ میں دریائی سیلاب پورے مُلک سے گزرتا ہوا سب سے آخیر میں پہنچتا ہے اس سے پہلے سیلابی پانی سے خیبرپختونخوا اور پنجاب میں تباہی پھیل چکی ہوتی ہے، اِس لئے سندھ میں تو نقصانات سب سے کم ہونے چاہئیں لیکن ہوتا اس کے برعکس ہے، اب جبکہ فلڈ کنٹرول نے ابھی سے وارننگ دے دی ہے یہ ضروری ہے کہ تمام ادارے اپنے اپنے انتظامات مکمل کر لیں اور ایسا حفاظتی بندوبست کریں کہ نقصان کم سے کم ہو۔

مزید : اداریہ


loading...