عمل و سچائی کا عظیم پیکر

عمل و سچائی کا عظیم پیکر
عمل و سچائی کا عظیم پیکر

  


عبدالستار ایدھی نے رسول اکرمﷺ کی سب سے مشکل سنت پر عمل پیرا ہونے کا فیصلہ کیا، جس پر عمل کرنا عہد حاضر کے کسی بڑے سے بڑے عالم دین کے لئے ممکن نہیں۔ رسول اکرمؐ نے اعلان نبوت سے قبل چالیس برس تک اپنی قوم کو اپنے عظیم کردار کا نمونہ دکھایا، پھر اپنی قوم سے پوچھا کہ کیا میں صادق اور امین ہوں تو بیک آواز مکہ کے تمام لوگوں نے کہا کہ ہم نے آپ کو ہمیشہ صادق اور امین پایا۔ اسی سنت پر عمل پیرا ہو کر عبدالستار ایدھی نے پاکستان اور دنیا بھر کے درد دل رکھنے والے لوگوں میں اپنا وہ غیر متزلزل اعتماد پیدا کیا، جس عظیم اعتماد کی چھینٹ بھی موجودہ دور کے کسی سیاست دان اور عالم دین پر نہیں پڑی، کیونکہ موجودہ عہد کے تمام رہنما ایدھی کی طرح اپنے قول وفعل کے تضاد کو دور نہیں کرسکے۔ عبدالستار ایدھی کا مذہب صرف خدمت تھا، انہوں نے خدمت کے راستے میں کبھی رنگ و نسل، ذات پات، مذہب اور فرقے کو آڑے نہیں آنے دیا۔ ان کی زندگی مسلسل جدوجہد، بے سہارا اور ضرورت مند لوگوں سے محبت اور سادگی سے عبارت تھی۔ انہوں نے اربوں روپے کی لاگت سے ملک بھر میں پونے چار سو ایدھی ویلفیئر سنٹر قائم کئے۔ ان سنٹروں پر فری ایمبولینس سروس، مفت لنگر خانے، یتیم خانے، علاج معالجے کی سہولتیں، تعلیم کی سہولتیں، ہنر سکھانے کی سہولتیں مہیا کیں اور گھروں سے نکلی ہوئی لڑکیوں اور بے سہارا عورتوں کے لئے ہوسٹل قائم کئے، لیکن خود ایک فقیر اور غریب ترین شخص کی طرح زندگی بسر کی۔

انہوں نے چالیس برس سے زیادہ عرصہ ملیشیا کے گھسے ہوئے شلوار قمیض اور گھسی ہوئی پرانی ٹوپی کے ساتھ گزارا کیا۔ وہ ہمیشہ باسی روٹی کھاتے تھے اور کہتے تھے کہ غریبوں کو یہ روٹی بھی میسر نہیں۔ انہوں نے پوری زندگی ایدھی فاؤنڈیشن کا ایک روپیہ بھی اپنی ذات پر خرچ نہیں کیا، بلکہ اپنی چند آبائی دکانوں کے کرایہ سے اپنے خاندان کا خرچ چلایا، اگر اس چھوٹی سی ذاتی آمدنی سے بھی کچھ رقم بچ جاتی تو وہ اسے بھی ایدھی فاؤنڈیشن کے فنڈز میں ڈال دیتے۔ ان پر لوگوں کے اعتماد کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں 70ممالک کا سفر کیا اور انہوں نے جہاں بھی اپنی جھولی پھیلائی، لوگوں نے ڈالروں سے بھر دی۔ یہی حال اور اعتماد پاکستان میں تھا۔ ہر شخص کو یہ یقین تھاکہ وہ یہ عطیہ، زکوٰۃ، صدقہ، فطرانہ یا چندہ ایدھی صاحب کو دے رہا ہے، اس میں سے ایک پیسہ بھی غریبوں کی فلاح وبہبود کے علاوہ کہیں اور خرچ نہیں کیا جائے گا۔ ایدھی صاحب نے اپنی فلاحی تحریک کا آغاز لاوارث افراد کی گلی سڑی لاشیں اٹھا کر انہیں غسل دینے، کفنانے اور دفنانے سے کیا۔ انہوں نے حادثوں میں ہلاک ہونے والے افراد، جلے ہوئے افراداور دریاؤں میں بہتی ہوئی تعفنزدہ لاشوں کو اپنے ہاتھوں سے نہلایا اور کافور لگایا۔ انہوں نے ان لاوارث مردوں کو ایسے ہی دفنایا، جیسے اپنے کسی قریبی عزیز کو دفناتے ہیں ۔ جب ایدھی نے بلقیس سے 1966ء میں شادی کی تو نکاح کے بعد دلہن کو گھر لانے کے لئے ان کے پاس وقت نہیں تھا، کیونکہ انہیں بار بار بیماروں کو ہسپتال پہنچانے کے لئے اطلاعات موصول ہو رہی تھیں،چنانچہ ان کے بھائی دلہن کو گھرلائے۔ اس کے بعد بھی وہ خدمت خلق میں اتنے مصروف رہے کہ دو تین روز تک اپنی دلہن سے ملاقات بھی نہ کرسکے۔

جب 1992ء میں گھوٹکی(سندھ) میں دو ٹرینوں کا ایک بڑا حادثہ ہوا، جس میں 100سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تو ایدھی نے اپنی تمام ایمبولینسوں کا رخ اس طرح کردیااور خود بھی جائے حادثہ پر پہنچنے کے لئے ڈاکٹروں کی ٹیم کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں گھوٹکی روانہ ہوگئے، ابھی انہوں نے آدھے سے زائد فاصلہ طے کیا تھا کہ ہیلی کاپٹر میں انہیں اطلاع دی گئی کہ ان کا پوتا اچانک فوت ہوگیا ہے، ان کو اپنے پوتے بلال سے بہت محبت تھی۔ ہیلیکاپٹر کے پائلٹ نے ان سے پوچھا کہ کیا میں ہیلیکاپٹر واپس موڑ لوں؟ تو ایدھی نے کہا نہیں اب ہم گھوٹکی کے قریب پہنچ چکے ہیں اور اپنی فیملی سے کہا کہ بچے کو دفنا دیں۔ یہ وہ سچائی اور جنون تھا جس نے عبدالستار ایدھی کو دنیا کا سب سے بڑا سماجی رہنما بنادیا۔ انہوں نے زندگی میں نہ خطبے دیئے اور نہ تقاریر کیں، صرف عملی کام کیا، جس کے باعث کروڑوں لوگوں کا ان پر اعتماد بڑھتا چلا گیا۔ وہ ہمیشہ فاؤنڈیشن کے کام کے لئے یا کہیں جانے کے لئے اپنی کوئی ایمبولینس وین استعمال کیا کرتے تھے۔ عبدالستار ایدھی نے کبھی گارڈوں کی فوج اپنی حفاظت کے لئے ہمراہ نہیں رکھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے کسی کی دل آزاری نہیں کی ،اس لئے کوئی ان کا دشمن نہیں اور موت کا ایک روز مقررہے، جسے یہ گارڈز نہیں روک سکتے۔

آج کل بہت سی اسلامی تنظمیں دہشت گردی میں ملوث ہونے کے باعث کالعدم ہو چکی ہیں اور ان کے رہنما چندہ، زکوٰۃ، فطرانہ اور قربانی کی کھالیں اکٹھی نہیں کرسکتے، لیکن کچھ اسلامی تنظیمیں ایسی بھی ہیں،جن کی ذیلی فلاحی تنظیموں نے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے باعث سرکاری جگہوں پر چندہ اکٹھا کرنے کے مراکز قائم کرلئے ہیں اور عطیات جمع کئے جارہے ہیں جن کا کوئی آڈٹ کا نظام موجود نہیں۔ ایسی مذہبی جماعتوں کے رہنمالینڈ کروزر گاڑیوں سے قدم نیچے نہیں اُتارتے اور مسلح گارڈز کی کئی گاڑیاں ان کی گاڑی کے ہمراہ ہوتی ہیں۔ ایسے علماء کی آمدنی کے ذرئع کے بارے میں کسی کو کچھ علم نہیں۔ یہ لمبے لمبے خطبات دینے والے لوگ عبدالستار ایدھی کی طرح باسی روٹی نہیں کھاتے، بلکہ قصائی سے پورا بکرا لے کر گھر جاتے ہیں۔ سچائی، قول و فعل میں عدم تضاد اور سادگی میں کیا قوت ہے، یہ ایدھی کی موت نے سب پر ظاہر کردی ہے۔ ایدھی نے اپنی ساری زندگی تکلیف اور جدوجہد میں گزاری اور انسانیت کی خدمت کر کے اپنی دنیا بیچ دی اور جنت خرید لی، جبکہ ہمارے اکثر مذہبی اور سیاسی رہنماؤں نے دنیا کے مزے لوٹنے کے لئے دنیا خرید لی اور جنت بیچ دی۔

اپنے عظیم کردار کے باعث ایدھی نے جو عزت، شہرت اور محبت سمیٹی وہ دنیا میں چند لوگوں ہی کو نصیب ہوئی ہوگی۔ ایدھی کی موت کے دن ایسا محسوس ہوا جیسے ایدھی کی طاقت کے سامنے عہد حاضر کے تمام فرعونوں اور قارونوں کی طاقتہاتھ جوڑے کھڑی ہے۔ شاید بابا بلھے شاہ نے ایسی ہی شخصیت کو ذہن میں رکھ کر یہ شعر کہا تھا کہ ’’ بلّھے شاہ اساں مرنا ناہیں،گورپیا کوئی ہور‘‘۔۔۔ حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے دستوں نے ایک سویلین، عبدالستار ایدھی کی قبر پر سلامی پیش کی ، اس موقع پر 19توپوں کی سلامی بھی دی گئی اور ان کے جسد خاکی کو پاکستان کے قومی پرچم میں لپیٹا گیا اور ملک بھر کی سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں کردیا گیا۔ صدر مملکت ممنون حسین ، آرمی چیف جنرل راحیل شریف اورتمام صوبوں کے حکمرانوں نے جنازے میں شرکت کی۔ وزیر اعظم نواز شریف لندن میں اپنے آپریشن کے باعث وقت پر پاکستان نہیں پہنچ سکے تھے، اس لئے وہ جنازے میں شرکت نہ کرسکے، حالانکہ وہ ذاتی طور پر ایدھی مرحوم کی بے لوث خدمات کے بہت بڑے مداح ہیں۔ دنیا بھر کے ممالک کے لیڈروں نے بھی اپنے بیانات کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ وہ صرف پاکستان کے نہیں، بلکہ پوری دنیا کے سماجی و فلاحی رہنما تھے۔

مزید : کالم


loading...