قائداعظم ٹاؤن میں ملی بھگت سے غیر قانونی کمرشل تعمیرات کی بھر مار

قائداعظم ٹاؤن میں ملی بھگت سے غیر قانونی کمرشل تعمیرات کی بھر مار

لاہور (اقبال بھٹی)لاہور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی سکیم قائد اعظم ٹاؤن (ٹاؤن شپ،گرین ٹاؤن)میں غیر قانونی کمرشل کی بھر مار ہو گئی ہے ،سکیم میں موجود 40فٹ روڈ سے لے کر200 فٹ تک چوڑی سڑک پر غیر قانونی کمرشل کاروبار کیا جا رہا ہے ،جبکہ اتھارٹی کے اہل کار دکان داروں سے ماہانہ وصول کرتے ہیں ،جس سے ایل ڈی اے کو ماہانہ کروڑوں روپے نقصان ہو رہا ہے ،سب سے بڑھ کر اس غیر قانونی کمرشل سرگرمیوں کی وجہ سے سکیم میں موجود کمرشل ایریا ویران ہونے کیوجہ سے اس پر کچی آبادی بنا دی گئی ہے ،جس کو ایل ڈی اے ختم نہیں کرسکی ، جبکہ یہ کچی آبادی سو فیصدغیر قانونی ہے ، کتنے دکھ اور حیرانی کی بات ہے کہ 12.12کنال پر مشتمل پلاٹس پر کچی آبادی بنا دی گئی ،جو کہ 200فٹ چوڑی سڑکات پربنائے گئے تھے،یہ پبلک بلڈنگ کے لئے مختص کئے گئے تھے ،جہاں سنیما گھر،گریڈ اسٹیشن،پولیس اسٹیشن بنائے گئے ہیں ،تفصیلات کے مطابق قائد اعظم ٹاؤن سکیم کو ایل ڈی اے نے محکمہ ہاؤسنگ سے 1994میں ہینڈ اوور کیا تھا ،تب اس سکیم میں کوئی بھی غیر قانونی سرگرمیاں نہ تھی ،مگر جیسے ہی ایل ڈی اے نے کنٹرول سنبھالا،غیر قانونی سرگرمیوں کی بھرمار ہو گئی،ذرائع نے بتایا ہے ،کہ ایل ڈی اے کے آنے سے پہلے صرف مدینہ مارکیٹ میں کمرشل سرگرمیاں تھیں،جس کو ان ایل ڈی اے نے اب مستقل بنیادوں پرکمرشل قرار دے دیا ہے ،لیکن اس کے علاوہ کہیں بھی کوئی کمرشل سرگرمیاں نہ تھیں ،نہ تو کالج روڈ پر نہ پیکو روڈ پر اور نہ ہی مادر ملت روڈ پر نہ باگڑیاں چوک پر غرض کہیں بھی کوئی کمرشل سرگرمیا ں نہ تھیں ،اور نہ ہی قائد اعظم کے مین سوک سنٹر پر کسی کچی آبادی کا کوئی وجود تھا مگر 1995کر بعد تو جیسے قائد اعظم ٹاؤن کی ہر گلی جو 40فٹ چوڑی ہے سے لے کر 200فٹ چوڑی سڑک پر دوکانیں(کمرشل)نبنا نہیں اگنا شروع ہو گئیں ،اس عرصہ میں ہی سوک سنٹر پر کچی آبادی بنا دی گئی ،ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ یہ سب کچھ ایل ڈی اے کے ملازمین کی زیر نگرانی ہوا ،ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا ،کہ جن لوگوں کے پلاٹس بڑی سڑکوں پر تھے ،ایل ڈی اے کے کلازمین انہیں خود جا کر کہتے کہ آپ نے بہتی گنگا میں ہاتھ نہیں دھونے ،اور ان کو فورس کرتے کہآپ بھی کمرشل کریں اور وقت سے فائدہ اٹھائیں ،جس کی وجہ سے قائد اعظم ٹاؤن کا آج یہ حال ہے،ہر چھوٹی بڑی گلی کمرشل استعمال ہو رہی ہے ،اس حوالے سے جب ایل ڈی اے کے افسران کا موقف لیا گیا تو انہوں نے کہا ،کہ ایل ڈی اے نے ان تمام کمرشل کی لسٹ مکمل کر لی ہے ،اور اس کے مطابق جو پراپرٹی منظورشدہ سڑک پر آتی ہیں ان کو مستقل بنیادوں پر کمرشل کیا جائے گا ،جبکہ جو پراپرٹی غیر منظور شدہ سڑک پر آتی ہیں ،ان کو سالانہ بنیادوں پر کمرشل کیا جائے گا ،جب ان کی توجہ اس طرف دلائی گئی کہ کمرشل کے لئے تو پارکنگ لازمی ہوتی ہے مگر ان غیر قانونی کمرشل تعمیرات کرنیوالوں نے تو پارکنگ کے لئے کوئی جگہ نہیں چھوڑی ،اتھارٹی نے اپنے موقف میں کہا کہ اتھارٹی اس کے لئے بھی ٹھوس منصوبہ بندی کر رہی ہے ،کہ ان جگہوں پر پارکنگ پلازے تعمیر کئے جائیں تا کہ شہریوں کو پریشانی سے بچایا جا سکے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...