وزیر اعظم نواز شریف واپس، پہلے والدہ سے ملے، روئت ہلال کمیٹی کا اجلاس، مفتی منیب کو غلط فہمی، برہم ہوئے

وزیر اعظم نواز شریف واپس، پہلے والدہ سے ملے، روئت ہلال کمیٹی کا اجلاس، مفتی ...

سیاسی ایڈیشن/لاہور کی ڈائری،

لاہور سے چودھری خادم حسین:

قریباً پندرہ سال کے بعد مرکزی روئت ہلال کمیٹی کا اجلاس لاہور میں ہوا، اہتمام ڈائریکٹر جنرل اوقاف ڈاکٹر طاہر بخاری نے کیا، چیئرمین مفتی منیب الرحمن سمیت تمام اراکین اور مقامی روئت ہلال کمیٹی والوں نے شرکت کی، منگل کو ہونے والے اجلاس میں چاند کی روئت کا فیصلہ ہوگیا اور عید بدھ کوہوئی، اسی روز سعودی عرب میں بھی عید تھی، اس بار یہاں کوئی تنازعہ پیدا نہیں ہوا پورے ملک میں عید الفطر ایک ہی روز منائی گئی لیکن حیرت انگیز طور کراچی میں بوہری حضرات نے بہت تیزی دکھائی اور ایک روز پہلے منگل ہی کو عید مناڈالی، روئت ہلال کمیٹی کے اجلاس کے موقع پر مفتی منیب الرحمن برہم ہوگئے ، ٹیلیویژن پر ٹکر چلنا شروع ہو گئے کہ دو افراد کو فلاں جگہ چاند نظر آگیا، فیصلہ روئت ہلال کمیٹی کرے گی، چنانچہ یہ ٹکر مفتیان کرام کے علم میں آگئے اور مفتی منیب الرحمن برہم ہوگئے کہ روئت ہلال کمیٹی کے زیر غور تک نہیں آئے اور ٹی۔وی پر نیوز چل رہی ہے، انہوں نے محکمہ اوقاف کے پی۔آر۔او سے فون چھین کر اس کی تاربھی نکال دی اور ایک دور پورٹروں سے تلخی بھی ہوئی۔

یہ سارا قصہ ہی غلط فہمی اور ’’ٹکر کی جلدی‘‘ کا تھا، پی۔آر۔او کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ باہر سے شہادت دینے کے لئے فون والوں کا نام پتہ اور نمبر نوٹ کرلیں تاکہ فہرست بنا کر روئت ہلال کمیٹی والوں کو دی جائے اور وہ تحقیق کرلیں، اب یہ فون جس جگہ تھا وہاں رپورٹر حضرات بھی تھے، پی۔آر۔او فون کرنے والوں کا نام، پتہ اور ٹیلیفون نمبر نوٹ کرتا تو رپورٹر جھانک کر جلدی سے ٹِکر بھیج دیتا یوں ٹی۔ وی پر خبر آجاتی یہ فہرست کمیٹی تک کہیں بعد میں گئی، بہر حال بد مزگی کے باوجود روئت ہوئی، شہادتیں آئیں اور ویری فائی بھی ہوگئیں اب خدشہ کیا ہے یوں ملک بھر میں ایک عید ہوگئی۔

عید الفطر پر اس مرتبہ بہت چھٹیاں ملیں شہریوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا، جہاں گھروں پر پکوان بنے، عیدی دی اور لی گئی وہاں بازاروں میں بھی بہت رونق رہی، پارکوں اور فوڈ سٹریٹوں پر بھیڑ لگی رہی، عوام نے دل کھول کر چھٹیاں منائیں، عید خیریت سے گزری یوں بھی انتظامیہ کی طرف سے سخت قسم کے حفاظتی انتظامات بھی کئے گئے تھے۔

لاہور کے لئے اہم خبر وزیر اعظم محمد نواز شریف کی آمد تھی جو خصوصی طیارے کے ذریعے عید کے دو روز بعد لاہور پہنچے وزیر اعظم کا لندن میں بائی پاس آپریشن ہوا اور ساری شریانیں بدل دی گئیں اب وہ روبصحت ہیں، مسلم لیگ(ن) کی طرف سے استقبال کا پروگرام تو بنایا گیا تھا لیکن خود وزیر اعظم نے منع کردیا چنانچہ ائیر پورٹ پر چند، صحافیوں اور رشتہ داروں کے سوا اور کوئی نہیں تھا، ائیر پورٹ سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے جاتی عمرہ پہنچے توسب سے پہلے والدہ سے ملے ان کی دعائیں اورپیار لیا، پھر والد میاں محمد شریف کی قبر پر فاتحہ پڑھی، آمد والے دن خاندان والوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا اگلے روز انہوں نے وفاقی وزرا اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے ساتھ میٹنگ میں حالات حاضرہ اور گزرے دنوں کے حوالے سے معلومات حاصل کیں تبادلہ خیال کیا، خود ان کا خیال ہے کہ بات چیت کے ذریعے مسائل حل کئے جائیں، بہر حال وہ یہاں چند روز قیام کے بعد اسلام آباد چلے جائیں گے اور ایوان وزیر اعظم میں قیام کریں گے۔

ادھر ڈاکٹر طاہر القادری لاہور میں تھے اور یہیں منہاج القرآن سیکریٹریٹ میں شیخ رشید نے ان کے ساتھ ملاقات کی تبادلہ خیال ہوا، ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی حکمران جماعت کے خلاف تحریک کا عندیہ دیا اور پھر اگلے روز اسلام آباد بھی گئے، جب سے تشریف لائے ہیں، منہاج القرآن سیکریٹریٹ میں رونق تھی، اب وہ برطانیہ پہنچ چکے، وہاں سے بھی واپس آنا ہے یا نہیں اور کب آنا ہے، یہ انہی کو معلوم ہے۔

عبدالستار ایدھی کی مفاہمت پر لاہور والوں کے جذبات بھی دیگر بھائیوں کی طرح تھے اور انہوں نے جی بھر کر ایدھی صاحب کو یاد کیا اور اب تک کیا جارہا ہے، اللہ ان کی مغفرت کرے وہ لاہوریوں کو بھی پیارے تھے۔

عید الفطر پر بھی مہنگائی کا جن بوتل میں نہیں جاسکا بلکہ عید منانے والوں کو جی بھر کر لوٹا گیا، اس مرتبہ رمضان المبارک بھی قیمتوں کے حوالے سے سخت رہا اور اشیاء خوردنی اور ضرورت کے نرخ بڑھتے ہی چلے گئے کوئی روک نہیں سکا اب عید کے بعد لوگ منتظر ہیں کہ معمول کے نرخ واپس لوٹ آئیں۔

لاہوریوں کی عید معمول کی تھی کہ نوجوانوں نے نہر میں نہایا، بچوں نے پارکوں اور چڑیا گھر وغیرہ کی سیر کی اور باہر سے گول گپوں کے علاوہ دیگر اشیاء کھائیں۔ بچوں کی خوشی تھی، نئے کپڑے اور عیدی ان کی تھی اور یہی عید کا رنگ تھا ورنہ رمضان المبارک کے بعد عید پر بھی مہنگائی نے چیخیں نکلوائیں۔

یہاں افسوس بھی ہوا کہ نوجوانوں نے کسی کو خاطر میں لانے کی بجائے موج مستی کی موٹر سائیکلوں پر کرتب دکھانے کے مظاہرے کرتے رہے اوریوں پانچ افراد نے جانیں بھی گنوائیں، پولیس نے موٹر سائیکلیں روک کر اپنی بھی عیدی بنائی۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...