عید کے بعد اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک، اپوزیشن متحدہ محاذ بنائے گی؟

عید کے بعد اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک، اپوزیشن متحدہ محاذ بنائے گی؟

ملتان کی سیاسی ڈائری شوکت اشفاق:

ایک طویل عرصے کے بعد پاکستانی قوم نے کم از کم عید الفطر تو ایک ہی دن منالی جو بذات خود ایک تاریخی واقعہ ہے اور وہ بھی اس لئے کہ ماسوا چند ممالک کے تمام مسلم ممالک سمیت دنیا بھر میں یہ خوشی کا تہوار ایک ہی دن میں روایتی جوش وخرو ش سے منایا گیا تاہم اس مرتبہ اس چھوٹی عید پر بڑے بڑے واقعات رونما ہوئے خدمت انسانیت کا منفر د نام عبدالستار ایدھی ہم سے جدا ہوگیا ۔ اس سے قبل برصغیر بلکہ دنیا بھر میں قوالی کا بڑا نام امجد فرید صابری ہم میں نہ رہا ، اور پھر عید کے بعد وزیراعظم میاں نواز شریف 40دن کے وقفے کے بعد ملک میں واپس آ گئے جبکہ اپوزیشن نے بھی حکومت مخالف نئی صف بندی کا اہم اعلان اس عید کے بعدہی کرنا ہے جو ملکی سیاست کی آئندہ راہیں متعین کرسکتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پوری حکومت کے دعوؤں اور اربوں روپے کے فنڈز کی فراہمی کے باوجود مہنگائی کا جن نہ تو حکومت کنٹرول کرسکی اور نہ ہی مقامی ضلعی انتظامیہ نے اس کو کچھ اہم سمجھا انہوں نے اس بات کو بھی اہم نہیں جانا کہ شہر میں سیوریج یعنی نکاسی آب کا نظام تقریباً بندہوچکا ہے ۔ جس سے شہر کی اہم سڑکوں ، چوکوں کالونیوں اور متعدد کچی آبادیوں میں سیوریج کے گندے پانی نے کئی مہینوں سے ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور تو اور سیوریج کے اس طرح سے بند ’’ کراؤن فیلیئر ‘‘ ہونے سے اس نو تعمیر شدہ میٹروروٹ کو بھی خطرہ لاحق ہوچکا ہے جس پر ضلعی انتظامیہ پردہ پوشی سے کام لے رہی ہے اس کی تفصیل کے لئے الگ صفحات کی ضرورت ہے تاہم یہاں سیوریج کا مسئلہ فوری طور پر حل کرنا ضروری ہے ورنہ اربوں روپے کی لاگت سے بننے وال میٹرو کا مستقبل کوئی اتنا اچھا دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔

دوسری طرف حکومت نے دعویٰ کیا تھا اور اس کے لیے اربوں روپے کی گرانٹ بھی جاری ہوئی تھی لیکن مقامی ضلعی انتظامیہ نہ تو مہنگائی پر قابو پاسکی اور نہ ہی عوام کیلئے کوئی مثبت کام کرسکی ۔ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ شہر تو شہر دیہاتوں میں 18سے20گھنٹے تک رہا جس نے وہاں کے لوگوں کو ایک ہیجان میں مبتلا کئے رکھا ۔ حالانکہ حکومت کے کارندوں نے اعلان کیا تھا کہ عید پر لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی لیکن اس پر عمل نہیں ہو سکا اور سونے پر سہاگہ پریہ ہوا کہ جو بجلی فراہم کی جاتی رہی اس کے وولٹیج اتنے کم تھے کہ سینکڑوں لوگوں کے ائیر کنڈیشنز اور فریج کے کمپریسر جل گئے جبکہ الیکٹرک کی دوسری چیزیں بھی متاثر ہوئیں ۔ لیکن مجا ل ہے کہ حکومت کے کسی کارندے پر کوئی اثر ہوا اور نہ ہی کان میں جوں تک رینگی اور نہ ہی رینگے گی کیونکہ حکومت کو عوام کی پریشانی یا شکایات سے کوئی سرور کار نہیں ، اس کو سروکار ہے تو اپنی حکومت بچانے سے ہے جس کے لئے وہ کسی بھی حدتک جاسکتے ہیں شاید یہی وجہ تھی کہ ملتان سے تعلق دار گورنر پنجاب ملک رفیق رجوانہ نے عید کے دوسرے روز یہاں پہنچ کر سب سے پہلے بزرگ سیاستدان اور مسلم لیگ ن کے سابق صدر مخدوم جاوید ہاشمی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ۔ اس ملاقات کا بظاہر کیا مقصد تھا وہ تو یہ دونوں رہنماہی بتا سکتے ہیں لیکن سیاسی حلقے اس ملاقات کو اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے گذر جانے والی عید کے بعد حکومت مخالف تحریک چلانے کے ساتھ جوڑ رہے ہیں کیونکہ اس مرتبہ اگر پیپلزپارٹی کسی بھی حکومت مخالف تحریک کا حصہ بنتی ہے تو اس کا زیادہ حصہ ماضی کی طرح ملتان ڈیرہ غازیخان اور بہاولپور ڈویژنوں سے ہی ہوگا جس کیلئے پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر اور سابق گورنرپنجاب مخدوم احمد محمود بھی واضح الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ اس مرتبہ حکومت کے خلاف جو بھی تحریک چلے گی اس کا منطقی انجام ضرور سامنے آئے گا وہ یہ بات شاہد کینٹینر دھرنا کے حوالے سے کہہ رہے ہیں ۔ جو بظاہر بے مقصد ختم ہوا تھا لیکن اسکے حقیقی اثرات آج بھی نہ صرف اپوزیشن بلکہ حکومت کے ایوانوں اور حکمران جماعت کے اندر بھی موجود ہیں ۔ جس کے لئے ن لیگ کے اندر ارکان اسمبلی کی ایک بڑی تعداد کا اکٹھے ہوکر فاروڈر گروپ کی تشکیل بھی کی جاچکی تھی ( بلکہ اگر اسے یہ کہا جائے یہ موثر فاروڈ گروپ ابھی تک موجود ہے اور صرف ایک آدھ رکن اسمبلی نے اس سے دستبرداری کی ہے تو زیادہ درست ہوگا ) اس سیاسی صورتحال حال میں ممکن ہے ن لیگ کو مخدوم جاوید ہاشمی کی سیاسی خدمات کی ایک مرتبہ پھر ضرورت محسوس ہورہی ہو کیونکہ پہلے بھی وہ (ن)لیگ کو کئی سالوں تک بطور صدر زندہ رکھے رہے ہیں جب آمریت کا دور دور تھا اور چوری کھانے والے مجنون اسٹیبلشمنٹ کے کئی لوگ اس جماعت کو چھوڑ کر ق لیگ کی چھتری تلے جا بیٹھے تھے، مگر مخدوم جاوید ہاشمی جیل چلا گیا مگر ن لیگ کو زندہ رکھا اب بھی پورے جنوبی پنجاب میں اس جتنے قد کاٹھ کی کوئی سیاسی شخصیت موجود نہ ہے ۔ اب ن لیگ کے اکابرین اس حوالے سے کیا سوچ رہے ہیں اور کیا فیصلہ کرتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن ایک بات واضح نظر آرہی ہے کہ اس مرتبہ اگرلیگی حکومت کے خلاف کوئی تحریک چلی تو وہ منطقی انجام تک ضرور پہنچے گی ۔ جس کیلئے اپوزیشن کی جماعتیں ابھی تک مشاورت میں ہیں لیکن پیپلز پارتی کے اہم اکابرین اس تحریک کو چلانے یا اس میں حصہ لینے کے حق میں نہیں ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ’’خاموش معاہدے‘‘کے تحت ن لیگ کو اپنا آئینی وقت پورا کرنے دیا جائے اور اس دوران آنے والے تمام انتخابات کی تیاری بھرپور انداز میں کرلی جائے اور حکومت کی کمزوریوں کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں عام انتخابات میں کیش کروایا جائے خصوصاً اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اس حق میں ہیں کہ ن لیگ کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے دی جائے یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے اندر ااس بات پر ایک اختلاف کی صورت حال موجود ہے اور میڈیا میں خبریں بھی سنائی دیتی رہی ہیں کہ سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے کرتا دھرتا آصف علی زرداری کی بہن ایم این اے فریال تالپور کو اپوزیشن لیڈر مقرار کروالیا جائے لیکن لگتا ہے کہ شاید اس بات پر بھی پارٹی کے اندر اتنا دم خم نہیں ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرواسکیں کیونکہ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کم از کم وزیراعظم میاں نواز شریف کے لئے نرم گوشہ ہے،یہ تو سید یوسف رضا گیلانی کا بھی ہے میاں نواز شریف علاج کیلئے لند ن جانے سے قبل بمعہ اہل وعیال سابق وزیراعظم کے گھر واقع لاہور تشریف لے گئے تھے اور یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے اس کو تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ یہ دو لیڈر ہی ن لیگ حکومت کے خلاف تحریک چلانے کی مخالفت کررہے ہیں دوسری طرف آزاد جموں وکشمیر کا الیکشن بھی اس تحریک کی کامیابی یا ناکامی میں اہم ترین کردار ادا کرے گا جس کا رزلٹ تقریباً دو ہفتوں کے بعد آجائے گا ۔ اب اس میں کون کس طرح اپنے سیاسی پتے کھیلتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکے گا مگر قرائین بتار رہے ہیں کہ ن لیگ حکومت مشکل میں جاتی جارہی ہے ۔ اور میڈیا کو کنٹرول کرنے کے باوجود عوامی نفرت کا گراف موجودہ حکومت کیلئے تیزی سے بڑھ رہا ہے مگر حکومتی میڈیا منیجرز انہیں ’’ چین کی بانسری ‘‘ بجا کر سنارھے ہیں اور یہ بانسری کسی بھی وقت بجنا بند ہوسکتی ہے جب شاید دیر ہوچکی ہوگی ۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...