مثبت پہلو اجاگر کریں،وزیر اعظم کی مذاکرات کے لئے ہدائت بہتر ہے

مثبت پہلو اجاگر کریں،وزیر اعظم کی مذاکرات کے لئے ہدائت بہتر ہے

تجزیہ:چودھری خادم حسین

خبروں کی بھرمار ہے، اور پہلے سے کہے گئے الفاظ کے مطابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی وطن واپسی اور عید گزر جانے کے بعد اب سیاسی سرگرمیوں والے مصالحہ دار سلسلے شروع ہوگئے اور ہمارے میڈیا کو بہت دور کچھ نظر آنے لگا ہے، حالانکہ سرگرمیاں جو شروع ہوئی ہیں یہ میل ملاقاتوں تک محدود ہیں ابھی فیصلے نہیں ہوئے یار لوگوں نے بہت دور کی اڑانا شروع کردی ہیں، اس ہماہمی میں مثبت خبروں کی طرف توجہ ہی نہیں دی جارہی، اس سلسلے میں اطمینان کی بھی گنجائش ہے، ہم نے عرض کیا تھا کہ وزیر اعظم سنجیدگی سے معاملات کو نمٹانا چاہیں گے اور ایسا ہی ہوا بھی ہے، انہوں نے واپس آکر جو مشاورت کی اس کے حوالے سے یہی ہدائت دی کہ اپوزیشن سے بات کر کے ٹی او آر والا معاملہ حل کریں، ڈیڈ لاک ختم کریں اور دوسرے الیکشن کمیشن کے لئے ناموں پر اتفاق کی غرض سے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کا بھی فیصلہ کریں، وزیر اعظم کی سنجیدگی کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے مطابق الیکشن کمیشن پارلیمانی کمیٹی کے لئے تو اسحق ڈار ،سید خورشید شاہ سے بات کریں اور پانامالیکس ٹی او آر کے لئے سپیکر ایاز صادق بہتر انتخاب ہیں، کہ پارلیمانی انداز بھی یہی ہے۔

پاکستان میں رپورٹنگ کے انداز بدلتے رہتے ہیں ایک دور تھا جب ایوان میں ہونے والی قانونی بحث اور عوامی بہبود کے معاملات تر جیح ہوتے تھے اور اس حوالے سے خبریں شائع ہوتیں، پھر یہ زیادہ آسان ہوگیا کہ ایوان میں ہنگامہ شور شرابا اور جھگڑا ہو تو باقی سب کچھ نظر انداز کردیا جائے، چنانچہ ایسا ہی ہوا، اس کے بعد الیکٹرونک میڈیا کی آمد کے بعد تو خبروں کا سیلاب آگیا اور بازی لے جانے کی ریس شروع ہوگئی اس میں اصل اور مثبت پہلو نظر انداز ہونے لگے جیسے اب اپوزیشن کے حملوں اور تحریک کا ذکر ہے اور یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ اب تو محاذ آرائی بہت بڑے ہنگامے تک لے جائے گی، اس میں اب وزیر اعظم کی سنجیدگی اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے پہلو کو نظر انداز کیا جارہا ہے یہ درست رویہ نہیں، مسائل کو ان کے پس منظر میں دیکھنا چاہیے، بات ادھر چلی ہے کہ مذاکرات ہوں تو میڈیا کو بھی مثبت انداز اختیار کرنا چاہیے کہ ایسا ہو جائے اور کچھ امن اور استحکام کی بات ہو، کہ یہاں شوشے چھوڑنے کا رواج عام ہے، نئی بات بینرز اور پوسٹر ہیں جو ایک نئی مہم جوئی ہے اور جوابی تشہیر بھی اس مہم جوئی کو ہوا دینے کا سبب بن رہی ہے، اسی دوران سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اپنے بازیاب صاحبزادے حیدر گیلانی کے ساتھ آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات کو بھی موضوع بنالیا گیا، اس ملاقات کو بھی سیاسی رنگ دیا جانے لگا ہے اور حیدر گیلانی کی اس بات کو پذیرائی ملی کہ طالبان جنرل راحیل شریف سے ڈرتے ہیں اسی بیان سے مدت ملازمت میں توسیع کا مطلب نکالنے کی سعی کی جارہی ہے حالانکہ خود یوسف رضا گیلانی کے مطابق وہ تو بیٹے کی بازیابی میں فوج کے کردار کے باعث شکریہ ادا کرنے گئے تھے۔

صرف یہی نہیں، بڑا خبر دار رہنے والا معاملہ امریکی رویہ ہے جس سے شہ پا کر افغانستان کے صدر اشرف غنی نئے نئے فرمان جاری کرنے لگے ہیں، حال ہی میں نیٹو کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کی رو سے وہ پھر سے بھارت نوازی اور امریکہ دوستی پر نازاں نظر آتے ہیں، کابل واپس آتے ہی انہوں نے پاکستان کے خلاف الزام تراشی شروع کردی لہجہ اور الفاظ اور بھی سخت کرلئے ہیں، امریکہ بھی پاکستان کو سبق دے رہا ہے اور اشرف غنی بھی وہی بات کر رہے ہیں، یوں پاکستان کے خلاف ایک محاذ بنایا گیا اور ساری قربانیاں نظر انداز کی جارہی ہیں، ہم ہیں کہ خود آپس میں الجھے ہیں، وزیر اعظم نے ہدائت کی تو اسے مثبت ہی رکھیں اور ہم نیت پر شبہ کرنے کے قائل نہیں ہیں، سب کوشش کریں کہ ماحول بہتر ہو۔

مزید : تجزیہ


loading...