پاکٹ یونین

پاکٹ یونین
 پاکٹ یونین

  


وفاق میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر اور صوبہ سندھ کے مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو کا شمار پیپلز پارٹی کے معاملہ فہم سیاست دانوں میں ہوتا ہے اور ان کی وجہ شہرت ایک صاف ستھرے سیاسی کارکن کی ہے ان پر آج تک کسی طرف سے انگلی نہیں اٹھائی گئی۔ مولا بخش چانڈیو نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے اپنی مدت ملازمت پر ریٹائر ہونے کے اعلان کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکٹ یونین سے ہوشیار رہیں اور اپنی مدت ختم ہونے پر ریٹائر ہو کر اپنے اور اپنے ادارے کے وقار میں اضافہ کریں۔ مولا بخش چانڈیو کا کہنا ہے کہ جنرل راحیل شریف نے پاکستان کے اتنے بڑے منصب سے رضا کارانہ ریٹائرمنٹ کا اعلان کرکے ایک جرأت مندانہ فیصلہ کیا ہے اور قوم اس بات کی منتظر ہے کہ پاکستان کے تمام اہم ادارے جن میں سیاسی اور عسکری تمام شامل ہیں، مضبوط اور توانا ہوں اور شخصیات کے گرد گھومنے کی بجائے اداروں اور ریاست کے اہم ستونوں کو مضبوط تر بنایا جائے۔ انہوں نے جنرل راحیل شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پاکٹ یونین سے خبردار رہنا چاہئے کیونکہ یہ پاکٹ یونین ان کی اپنی اور ان کے ادارے کی عزت اور ناموس کی دشمن ہے۔ مولا بخش چانڈیو نے یاد دلایا کہ جنرل ایوب خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے لئے بھی ان لوگوں کی طرف سے ثنا خوانی کی گئی، اب جنرل راحیل شریف کے لئے کون لوگ ہیں اور اپنے کن مقاصد کے لئے انہیں اکسانے کی کوشش کر رہے ہیں؟جنرل صاحب کو اس پاکٹ یونین سے خبردار اور دور رہنا ہوگا۔

میں مولا بخش چانڈیو کے ان خیالات سے سو فیصد متفق ہوں اور جب آج کے سیاسی حالات پر نظر ڈالتا ہوں تو واقعی یہ بات محسوس کرتا ہوں کہ جیسا ماضی میں کئی بار ہوا، اس بار بھی مخصوص مفادات کے اسیر مینڈکوں نے ٹرٹرانا شروع کر دیا ہے جن کے اپنے مفادات ہیں لیکن وہ اس کے لئے پاکستان کے سپہ سالار کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ہاں البتہ جتنا میں جنرل راحیل شریف کو اب تک سمجھ سکا ہوں، مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ جنرل راحیل شریف پاکستان کے اس اعلی ترین فوجی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس میں ان کے ماموں میجر عزیز بھٹی شہید اور بڑے بھائی میجر شبیر شہید کو نشان حیدر ملا۔ اس لئے مجھے یقین ہے کہ جنرل راحیل شریف کے لئے اپنے وطن، اپنے ادارے اور اپنے خاندان کی لاج سے زیادہ کوئی چیز مقدم نہیں ہے ۔ جنرل راحیل شریف پاکستان کی بقا کے لئے ضربِ آہن اور ضرب عضب جیسی اہم داخلی جنگیں لڑ رہے ہیں اور اگر کہا جائے کہ پاکستان کی پوری تاریخ میں کسی سپہ سالار نے اتنی اہم داخلی جنگیں نہیں لڑیں جتنا جنرل راحیل شریف لڑ رہے ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ مولا بخش چانڈیو نے بالکل درست کہا ہے کہ وہ کون سے لوگ ہیں جو اپنے مفادات کی خاطر قوم کے مفادات کو داؤ پر لگانے سے گریز نہیں کرتے، قوم کو ان پاکٹ یونین عناصر سے خبردار رہنا ہوگا۔

اس سال جنوری میں جب جنرل راحیل شریف نے اعلان کیا کہ وہ اپنی مدت ملازمت پوری ہونے پر ریٹائر ہو جائیں گے تو اس نام نہاد پاکٹ یونین کی طرف سے راتوں رات کئی شہروں میں بڑے بڑے پوسٹر اور بینر آویزاں کر دئیے گئے جس میں جنرل راحیل شریف سے کہا گیا کہ وہ جانے کی باتیں چھوڑ دیں۔ کچھ اسی نوعیت کے پوسٹر اب ایک بار پھر اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، ملتان اور فیصل آبادجیسے بڑے شہروں میں لگا دئیے گئے ہیں جس میں اسی قسم کی باتیں کی جا رہی ہیں کہ جنرل راحیل شریف نہ جائیں۔اس دفعہ بھی جو بڑے بڑے پوسٹر لگائے گئے ہیں وہ Move On Pakistan نامی کسی تنظیم کی طرف سے لگائے گئے ہیں۔ یہ کون لوگ ہیں اور ان کے پیچھے کس کا ذہن اور پیسہ کام کر رہا ہے؟ مجھے بالکل اس کا آئیڈیا نہیں ہے لیکن جس سرعت سے راتوں رات یہ بڑے شہروں میں کھمبیوں کی طرح اگ جاتے ہیں اس سے گمان ہوتا ہے کہ یہ جو بھی لوگ ہیں ان کی پشت پناہی کرنے والوں کے پاس وسائل اور فنڈز کی کمی نہیں ہے۔ پاکستان ایک عجیب ملک ہے جہاں جس کا دل چاہتا ہے اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کے لئے شہروں کی سڑکوں کو عجیب و غریب پوسٹروں اور بینروں سے بھر دیتا ہے۔ میرے خیال میں مولا بخش چانڈیو نے بہت بروقت تنبیہ کی ہے کیونکہ پاکستان اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں غلطی کی گنجائش اب باقی نہیں بچی۔

اداروں کے استحکام سے ہی پاکستان کی بقا مشروط ہے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ تمام ادارے اپنی اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور کوئی بھی ادارہ نہ تو اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی یا کمی کا مظاہرہ کرے اور نہ ہی اپنی آئینی حدود سے تجاوز کرے۔ ماضی میں بھی پاکستان میں پاکٹ یونین بنتی رہی ہیں جن میں ایسے سیاست دان بھی شامل ہو جاتے ہیں جو عوام کی براہ راست تائید سے محروم ہونے کی وجہ سے چور دروازے سے اقتدار میں آنے کے خواب دیکھتے رہتے ہیں۔ انہی لوگوں نے پاکستان کے ابتدائی سالوں میں PRODA اور پھر فیلڈ مارشل ایوب خان کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد EBDO جیسے قوانین کا سہارا لیتے ہوئے قائد اعظم کے ان ساتھیوں پر جنہوں نے پاکستان بنایا تھا، پابندی لگوائی اور پاکٹ یونین والوں کوچور دروازے سے مسند اقتدار تک پہنچایا۔ فیلڈ مارشل ایوب خان اور پھر جنرل یحی خان کے مارشل لاؤں میں یہی لوگ پنپتے رہے اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ملک دو لخت ہو گیا۔ پاکٹ یونین کی کہانی جنرل ضیا ء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی دہرائی گئی اور ان دونوں مارشل لاؤں کے دوران بھی پاکستان کا بے پناہ سیاسی نقصان ہوا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں لڑی گئی افغان جنگ کے مضمرات آج تک قوم بھگت رہی ہے اور جنرل پرویز مشرف نے جس طرح دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر پاکستان کو امریکہ کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا، پاکستان ابھی تک اس صورت حال سے باہر نہیں نکل سکا ۔ ان پاکٹ یونین والوں کا پسندیدہ نعرہ انتخاب سے پہلے احتساب کا ہوتا ہے کیونکہ ان میں انتخاب جیتنے کی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے وہ مین سٹریم سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کو عوام کی طرف سے کئے گئے چناؤ سے دور رکھ کر اپنے لئے چور دروازے بنانے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں۔ آج کی سیاسی صورت حال بھی سب کے سامنے ہے، پاکٹ یونین والے آج کل ایک بار پھر سرگرم عمل ہیں۔ پاکستان کی کل مدت کا نصف یعنی 68 میں سے 34 سال ملک میں براہ راست مارشل لاء رہا ہے۔ اگر ملک کے مسائل کا حل مارشل لاء ہوتا توان چار مارشل لاؤں میں حل ہو گئے ہوتے لیکن ہر مارشل لاء میں پاکستان نے ترقی معکوس ہی کی۔ اگر پاکستان میں جمہوریت کا تسلسل جاری رہتا اور ادارے مضبوط ہوتے تو نہ ملک دو لخت ہوتا اور نہ ہی غلط جنگوں میں الجھ کر ترقی کی شاہراہ سے اتر کر بار بار کھائی میں گرتا۔ پاکستان کی موجودہ عسکری قیادت ان باتوں کو بہت اچھی طرح سمجھتی ہے اور وہ ملک کو استحکام کی طرف لے جانا چاہتی ہے۔ جنرل راحیل شریف کا تعلق ایک ایسے خانوادے سے ہے جس نے اپنے خون سے اس گلشن کی آبیاری کی ہے۔ یہ پاکٹ یونین والے جتنا مرضی زور لگا لیں، موجودہ عسکری قیادت انہیں گھاس نہیں ڈالے گی۔ شیخ رشید احمد نے ایک بار پھر پرانے راگ الاپنے شروع کر دئیے ہیں، وہ پچھلے تین سال سے پرانے سروں کے کچے پکے راگ گا رہے ہیں، دو سال قبل انہوں نے عید قربان سے پہلے بڑی قربانی کی بات کی تھی، اب تیسری عید قربان آنے والی ہے، ان کی کوئی پیش گوئی آج تک پوری نہیں ہوئی۔ کینیڈا کے ایک شہری ڈاکٹر طاہر القادری بار بار پاکستان آ کر دھرنوں کی دھمکیاں دیتے ہیں، پچھلی دفعہ بھی انہیں اپنا دھرنا بغیر کسی کامیابی کے ختم کرنا پڑ گیا تھا، اب وہ دھرنا دینے کی پوزیشن میں تو ہیں نہیں، محض بیانات کی حد تک اپنی سیاست کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عمران خان آج کل زیادہ تر برطانیہ کے مہنگے ترین ریستورانوں میں کھانے کھاتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس لئے پاکستان میں پاکٹ یونین کی کامیابی کے آثار نہیں نظر آتے۔ وزیر اعظم اپنی اوپن ہارٹ سرجری کے سلسلہ میں لندن گئے تو پاکٹ یونین نے افواہوں کے انبار لگا دئیے لیکن اب چونکہ وزیر اعظم واپس آ چکے ہیں اس لئے ان کی امیدوں پر پانی پھر جانے کے بعد اب ان کے پاپس یہی راستہ بچا ہے کہ شہروں میں پوسٹر لگا کر جنرل راحیل شریف کو مارشل لاء لگانے پر اکسایا جائے، ظاہر ہے پاکٹ یونین کی یہ کوشش non starter ہے اور اس کا پورا ہونا ناممکن ہے۔

مزید : کالم


loading...