وارث میر اور حقوقِ نسواں کی تحریک

وارث میر اور حقوقِ نسواں کی تحریک
 وارث میر اور حقوقِ نسواں کی تحریک

  

  • ’’کیا عورت آدھی ہے‘‘؟۔۔۔ یہ فرسودہ سوال آج بھی پاکستانی معاشرے میں اسی شدت کے ساتھ زیر بحث ہے جس شدت سے اس نے آج سے تین دہائیاں پہلے جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء دور میں سر اُٹھایا تھا اور پورے پاکستانی معاشرے کو ایک غیر ضروری کنفیوژن میں مبتلا کردیا تھا۔ جب جرنیلی سرکار نے ایک دینی جماعت کی مدد سے عورت کومعاشرتی طورپر کمتر اور آدھا انسان ثابت کرنے کے لئے اسلام کی آڑ میں مروجہ قانون شہادت اور دیگر کئی ریاستی قوانین میں ایسی ترامیم لانے کا منصوبہ بنایا جن کا مقصد نہ صرف عورت کی گواہی کو آدھا ثابت کرنا تھا، بلکہ مرد کے مقابلے میں بھی عورت کو نصف قرار دلوانا تھا۔ اس مذموم منصوبے میں پیش پیش دینی جماعت کی قیادت عورت دشمنی میں اسلامی اور قرآنی تعلیمات کو مسخ کرتے ہوئے اس قدر اندھی ہوگئی تھی کہ اسے قرآن کریم کی سورۂ بقرہ بھی یاد نہ رہی کہ جس کے مطابق اسلام میں تو ایسے مرد کی گواہی بھی قابلِ قبول نہیں جو خود قابلِ اعتبار نہ ہو۔

  • جنرل ضیاء الحق کا دور حکومت پاکستانی تاریخ کا تاریک ترین زمانہ سمجھا جاتاہے جب اسلامی تعلیمات اور قرآنی آیات کو غلط مفہوم اور معنی دے کرسیاسی مفادات کی تکمیل کے لئے استعمال کیاگیا۔ پروفیسر وارث میر اس مشکل ترین دور میں شاید واحد پاکستانی دانشور تھے جنہوں نے نہ صرف تحریر بلکہ تقریر کے ذریعے بھی عورت کی گواہی ، قصاص ودیت اور حق وراثت کے حوالے سے مروجہ قوانین میں ترامیم کی ڈٹ کی مخالفت کی، حالانکہ انہیں ذاتی طورپر اس کی بھاری قیمت بھی چکانا پڑی۔ 1984ء سے 1987ء کے دوران وارث میر کے قلم کی کاٹ بڑھتی ہی گئی، حالانکہ وہ جامعہ پنجاب لاہور میں شعبہ صحافت سے وابستہ تھے اور ان پر نہ صرف مارشل لاء حکومت بلکہ جماعت اسلامی کا بھی دباؤ تھا۔ 1985ء میں وارث میر نے روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں ’’کیا عورت آدھی ہے؟‘‘ کے عنوان سے ایک طویل سلسلہ مضامین شروع کیا جس میں آپ نے اسلامی تعلیمات ، قرآن مجید اور احادیث کے حوالے دے کر یہ ثابت کیا کہ مرد کے مقابلے میں کسی طور بھی عورت آدھی حیثیت نہیں رکھتی ۔ آپ نے اس حوالے سے جو بھی لکھا مکمل تحقیق اور دلائل کی بنیاد پر لکھا جس کو رد کرنا ’’مُلّا، ملٹری اتحاد‘‘ کے بس کا روگ نہیں تھا۔ مخالفین کی طرف سے پیدا کردہ تمام ترمشکلات ومصائب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پروفیسر وارث میر اپنے مؤقف کی صداقت پر شدت سے قائم رہے اور ضیاء الحق کے دور میں حقوقِ نسواں کے تحفظ کے لئے پاکستانی سول سوسائٹی کی طرف سے چلائی جانے والی احتجاجی تحریک میں عملاً شامل رہے ۔ پروفیسر وارث میر سمجھتے تھے کہ عورت کو مقیدر کھنے والا معاشرہ خود بیمار ہوتاہے۔ اپنے ایک مضمون میں آپ لکھتے ہیں:’’مرد کے مقابلے میں عورت کی شہادت کو نصف ثابت کرنے کے لئے جن آیات کا سہارا لیا گیا ہے اور جن احادیث کی بنیاد پر نئے ’’اسلامی قوانین ‘‘ نافذ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، ان کے سیاق وسباق یا الفاظ میں قطعاً ایسا کوئی مفہوم پوشیدہ نہیں ہے کہ اللہ کے نزدیک دوعورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے۔۔۔ عورت کی گواہی اور قانون شہادت کے مسئلے پر فیصلہ کرنے سے پہلے یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ قرآن پاک کے نزول کے وقت یہودی قانون میں صرف مردکی گواہی معتبر تھی اور عورت کی گواہی سرے سے قابلِ تسلیم ہی نہیں تھی‘‘۔ اپنے ایک اور مضمون میں پروفیسر وارث میر ریڈ کلف کالج (کیمبرج) میں اپریل 1985ء میں منعقدہ ’’راما مہتا لیکچر شپ پروگرام‘‘ کے تحت دیئے گئے بے نظیر بھٹو کے ایک لیکچر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں:’’اسلام اصولی طورپر ایک مساوات پسند مذہب ہے۔ قرآن مجید ، جواسلامی روایات و تعلیمات کی بنیاد ہے اور اللہ کا کلام ہے، عورت اور مرد میں کوئی امتیاز نہیں کرتا ۔ یہ تو کسی ملک، خاص طور پر اسلامی ممالک میں پائے جانے والے مخصوص سیاسی نظریات ہیں جوقرآن کی رجعت پسندانہ تعبیر و تشریح کے علمبر دار ہیں۔ اسی انداز سیاست کی بدولت عورتوں کے خلاف امتیازی سلوک کے فلسفے کو ہوادی گئی ہے، اسلام نے عورت اور مردکو برابر کے حقوق دیئے ہیں۔ بعض لوگوں کی طرف سے وراثت کے قانون اور تعدادِ ازواج کے حوالے سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ قرآن عورت اور مرد کے درمیان عدم مساوات کو فروغ دیتاہے، جوایک صریحاًغلط اور گمراہ کن توجیح ہے۔‘‘

  • پروفیسر وارث میر کے مطابق آج اگر پاکستان کو انحطاط اور زوال کی طرف لے جایا جارہا ہے اور عورت کو مرد کے مقابلے میں نصف ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تو یہ سب کچھ اس لئے نہیں ہورہا کہ اسلام تبدیل ہوگیا ہے، بلکہ اس کی اصل وجہ ضیاء الحق کی فوجی حکومت ہے جس کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد اس کے حواری اسلامی تعلیمات کو اپنی مرضی کے مفہوم و مطالب دینے پر تُلے ہوئے ہیں۔عورت کے حقوق کے حوالے سے اپنے مؤقف کی وجہ سے پروفیسر وارث میر کو تندوتیز تنقید اور طعنوں کے نشتر بھی سہنے پڑے۔ جواباً اپنے ایک مضمون میں میر صاحب لکھتے ہیں’’عورت ، پردہ اور جدید زندگی کے مسائل‘‘ کے زیرعنوان میرے سلسلہ مضامین کی بہت سے حلقوں میں پذیرائی ہوئی ہے اور بعض جانے پہچانے اور ’’لائقِ احترام ‘‘ حلقوں نے حسبِ توقع لیکن ضرورت سے کہیں زیادہ جذباتی اور تندوتیز، لہجے میں اپنے غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور اپنے خطوں اور تبصروں میں مجھ پر عورتوں میں بے پردگی، گمراہی اور آزادروی کی تحریک کی مدد کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ان میں بعض نے دلیل سے بات کرنے کی بجائے تہدید و ترہیت اور سب و شتم سے بھی کام لیا ہے اور چند ایک نے ایسی معروف روایات کی معلم تشریحات کو دہرایا ہے جن سے عورت کو ڈھانپ کررکھنے ، برقع پہننے اور گھونگھٹ نکالنے کے مؤقف کی حمایت کا پہلو تلاش کرنے میں مدد ملتی ہے افسوس ان میں سے کسی معترض نے موجودہ سماجی حالات اور ہر آن تیزی سے پیدا ہوتے اور بدلتے حقائق کے دباؤ کا قطعاً کوئی ذکر نہیں کیا اور نہ ہی ان فقہی سہولتوں اور وسعتوں کی طرف اشارہ کیا ہے جنہیں ہمارے فقہا اپنے زمانے کے تقاضوں کے مطابق استعمال کرتے رہے ہیں۔‘‘

  • انہوں نے مزید لکھا: ’’دراصل مروجہ پردے کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کے موضوع پر بحث کی گنجائش ہر وقت موجود ہے، لیکن قربت و مصاحبت اقتدار کے نشے میں بعض نیم سیاسی اور نیم مذہبی مصلحین کی جرأت کفر سازی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ ان کے دلوں سے خوف خداہی غائب ہوچکا ہے، انہوں نے میری طرف سے یہ ’’ناپاک جسارت‘‘ منسوب کرنے کی کوشش کی ہے کہ مَیں نے (خدانخواستہ) مغرب کے حیوانی اور جنس زدہ معاشرے کو مہذب ثابت کرنے کے لئے قرآن و حدیث ، اسوۂ رسولﷺ ،سیرتِ صحابہؓ، طریقہ راشدین اور قانونِ وفقہ سب کو دلیل کے طورپر استعمال کیا ہے اور پاکستانی خواتین کو بے ستر گھر سے باہر نکلنے اور بے حجابی سے گھومنے پھرنے اور مغربی عادات واطوار اپنانے کی ترغیب دی ہے۔(اناللّٰہ واناالیہ راجعون) ’’نعوذباللہ‘‘ والے اس انداز فکر کے جواب میں ہم ’’استغفراللّٰہ‘‘ ہی پڑھ سکتے ہیں۔‘‘

  • پروفیسر وارث میر ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ’’عدل ، انصاف ، اخوت اور استحسان جیسی اسلامی اقداردراصل انسان کی انسان کے ہاتھوں استحصال سے نجات دلانے کا ذریعہ ہیں۔ اسی طرح یہ اقدارعورت میں مرد کے شاونزم(Chauvanism) اور ایک غیر منصفانہ نظام میں پروان چڑھنے والے اندازفکر کے خلاف جدوجہد کا حوصلہ پیدا کرتی ہیں۔‘‘1982ء میں جب جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے عورتوں کے حقوق کو سلب کرنے کے لئے آئینی ترامیم لانے کی کوشش کی تو پاکستان کے روشن خیال اور پڑھے لکھے طبقے نے اس کی مخالفت میں سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کیا۔ پروفیسر وارث میر بھی وومن ایکشن فورم کے زیر اہتمام لاہور کی مال روڈ پر شریعت بل اور عورت کی آزادی سلب کرنے والوں کی مخالفت میں ہونے والے مظاہروں میں پیش پیش ہوتے تھے۔ 1982ء میں مال روڈ پر ایک مظاہرے کے دوران وارث میر کو عاصمہ جہانگیر ، بشریٰ اعتزاز، حبیب جالب، اعتزاز احسن اور آئی اے رحمن وغیرہ کے ہمراہ بدترین پولیس تشدد کا بھی سامنا کرناپڑا لیکن وہ اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہے۔عورتوں کے حقوق کے حوالے سے پروفیسر وارث میر کی ضیاء الحق کے دور میں لکھی گئی تحریر یں آج کے تناظر میں پڑھی جائیں تو یہ اسی قدرتازہ اور توانا محسوس ہوتی ہیں جتنی کہ ماضی میں اپنی اشاعت کے وقت تھیں۔ اس کی بنیادی وجہ شاید یہ ہے کہ پاکستان کے ریاستی، سیاسی، معاشرتی و سماجی مسائل اور ان سے وابستہ بحثیں اور کنفیوژن آج بھی پاکستان میں اسی طرح برقرار ہے جیسے کئی دھائیاں پہلے تھی پاکستانی معاشرے میں آج کی عورت کے سماجی مرتبے اور مقام کے حوالے سے پیدا کردہ غلط فہمیوں کے ازالے کے لئے ضروری ہے کہ پروفیسر وارث میر کی تحریروں کو پڑھا جائے، ان پر سوچاجائے اور ان پر عمل کرنے کی کوئی راہ نکالی جائے۔

مزید :

کالم -