13جولائی 1931۔۔۔ 22شہید ایک اذان

13جولائی 1931۔۔۔ 22شہید ایک اذان
 13جولائی 1931۔۔۔ 22شہید ایک اذان

  


جب سے انگریزوں نے کشمیر کو گلاب سنگھ کے ہاتھوں معاہدہ امرتسر 16مارچ1846کے تحت فروخت کیا تھا جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی زندگیاں اجیرن ہونا شروع ہو چکی تھیں ۔ ڈوگرہ راجہ گلاب سنگھ اور اس کے جانشینوں کے عہد میں کشمیریوں پر مختلف اور عجیب و غریب ٹیکس لگا کر ان کا معاشی استحصال کیا جاتا تھا۔راجہ کے ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو بے رحمی سے کچل دیا جاتا۔ خاص طور پر پونچھ پر غلبہ حاصل کرنے کے بعد گلاب سنگھ نے جس بے دردی اور بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کا قتل عام کروایا اور سردار سبز علی اور ملی خاں کی الٹی کھالیں اتروائیں اور سردار شمس علی خان کا سر قلم کروایا تھا اس سے کشمیری عوام میں مایوسی اور خوف پیدا ہوگیا عوام بے بسی اور لاچارگی کا شکار ہو گئے ۔ 1857میں گلاب سنگھ کی موت کے بعد اس کا بیٹا رنبیر سنگھ کشمیری عوام پر مسلط ہوا تو اس نے اپنے باپ کے ظلم و ستم کو بدستور جاری رکھا ۔ ہری سنگھ کے دور میں تو اس کا وزیراعظم استعفیٰ دیکر چلا گیا تھا جس نے پریس کو بتایا کہ کشمیری عوام جانوروں سے بھی بد تر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ کشمیر میں جاری مظالم کے خلاف پہلی مرتبہ شال بافوں نے اپریل 1865 میں رنبیر سنگھ کے دور میں صدائے احتجاج بلند کی ۔ اس پر متعدد مزدوروں کو ڈوگرہ فوج نے قتل کر دیا اور سیکڑوں زخمیوں کو دریا میں پھینک دیا۔ اڑھائی درجن کے قریب لاشیں مل سکیں باقی دریا کی بے رحم موجوں کے سپر د ہو گئیں ۔ مزدوروں نے رام باغ تک ایک احتجاجی جلوس بھی نکالا جسے آذادی کے شہیدوں کا پہلا جلوس کہا جاتا ہے۔ قید اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا جس نے کشمیریو ں کے دلوں میں ڈوگرہ راج کے خلاف نفرت اور بغاوت کی آگ سلگا دی ۔ تاریخ میں ایسی ہزاروں مثالیں موجود ہیں جہاں ایک یا دو واقعات نے حالات کا رخ موڑ دیااور بڑی بڑی تحاریک کے آغاز کا سبب بنے ۔ کشمیر میں بھی ایسا ہی ہوا ۔کشمیر کے صنعتی مزدوروں و ہنر مندوں اور زمینداروں کااستحصال تو گلاب سنگھ کے دور سے ہی جاری تھا لیکن ان کے مذہبی جذبات کچلنے اور توہین مذہب کے واقعات نے کشمیری مسلمانوں کو اپنے ایمان اور اسلام کی حفاظت کیلئے کمر بستہ کر دیاجو تحریک حریت کا بھی پیش خیمہ ثابت ہوئے۔

21 جولائی1924کو ایک دفعہ پھر یہ چنگاری اس وقت شعلہ زن ہوئی جب ریشم کے کار خانے کے 21مزدور لیڈروں کو ڈوگرہ پولیس نے حراست میں لے لیا۔ اگلے روز اس کے خلاف مزدوروں نے ہڑتال کی تو پولیس نے سینکڑوں مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جس سے ان کی خاصی تعداد زخمی ہو ئی۔ اس واقعہ نے کشمیریوں کو بیدار کر دیا اور ان کی آواز کشمیر سے باہر پہنچنے لگی۔اگرچہ اس احتجاجی تحریک کوبھی تشدد اور ریاستی طاقت سے دبا دیا گیا لیکن یہ لاوا کشمیریوں کے اندر ہی اندر پکتا رہا۔ اور21جولائی تحریک حریت کشمیر کا تاریخ ساز دن بن گیا ۔ کشمیر میں جاری ڈوگرہ راج کے ظلم و ستم تشدد اور استحصال کا سلسلہ جاری تھا۔ کشمیری مسلمانوں پر بے جا اور مضحکہ خیز ٹیکسز اور ان کے مذہبی جذبات کو کچلنا ایک معمول بن چکا تھا۔

مسلمانوں کے دینی فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹیں کھڑی کی جانے لگیں ۔اذان پر پابندی اور مساجد کی تالہ بندی شروع کر دی گئی ۔ 1931میں پے در پے ایسے واقعات رونما ہوئے جو مسلمانوں کے جذبہ ایمانی کی آزمائش بن گئے۔ جنوری1931کو ادھم پور کا ایک ہندو زمیندار مسلمان ہوا تو تحصیلدار نے اس کا نام اس کی موروثی زمین کے ریکارڈ سے ختم کر دیا ۔ یہ نو مسلم زمیندار تحصیلدار کے اس اقدام کے خلاف عدالت چلا گیا اور داد رسی چاہی۔ لیکن تمام عدالتی و انتظامی مشینری راجہ کے حکم کی پابند تھی جو مسلمانوں کو جبری طور پر دباؤ میں رکھنے کا عادی تھا۔ جج نے اس نو مسلم زمیندار سے کہا واپس ہندو مذہب میں آجاؤ تو تمھاری جائیداد واپس کر دی جائے گی ۔ زمیندار نے مرتد ہونے سے انکار کر دیا تو جج نے اس کا مقدمہ خارج کر دیا۔ ان دنوں ریاستی مشینری کو خاص حکم دیا گیا تھا کہ مسلمانوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا جائے ۔

ضرور پڑھیں: ایک اورکاوش!!!

دوسرا واقعہ جو مسلمانوں کے اشتعال کا سبب بنا وہ 29اپریل 1931کو جموں کے شالا مار باغ میں مفتی محمد اسحاق کا نماز عید کے بعد خطبہ تھا ۔ پولیس نے مفتی صاحب کو خطبہ پڑھنے سے روکنے کی کوشش کی جس سے مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ۔ مسلمانوں نے اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی میں ریاستی پولیس کی اس مداخلت کے خلاف احتجاجی جلوس نکالے ۔اس کے بعد جموں میں ہندوؤں نے قرآن پاک کی بے حرمتی کی جس نے مسلمانوں کے جذبات کو مزید بھڑکا دیا۔ قرآن کی توہین کے واقعہ کے سلسلے میں سری نگر میں دیواروں پر پوسٹر لگاتے ہوئے ایک نوجوان کو گرفتار کر لیا گیا ۔ اس سے مسلمانوں کے اندر سلگتی ہوئی چنگاری کو ہوا ملی جو شعلے میں تبدیل ہو گئی ۔ شہر میں اشتعال پھیلنا شروع ہو گیا۔ اس دن بدن بگڑتی ہوئی صورتحال کو راجہ کے سامنے پیش کرنے کے لیے 21 جون 1931کو خانقاہ معلی پر جموں و کشمیر کے اکابرین کا ایک بہت بڑا جلسہ ہوا۔ اس جلسے کے اختتام پر امروہہ یو پی سے تعلق رکھنے والے ایک شخص عبدالقدیر نے ایک پر زور تقریر کی ۔ عبدالقدیر کی تقریر کو اشتعال انگیز اور خلاف قانون قرار دیکر پولیس نے اس کے خلاف مقدمہ درج کیا اور اسے گرفتار کر لیا گیا۔ ان حالات میں کشمیری مسلمانوں کا جذبہ حریت پروان چڑھ رہا تھا ۔ اب ڈوگرہ راج کے خلاف جنگ کھلے عام شروع ہو چکی تھی ۔

عبدالقدیر کے مقدمہ کی سماعت سیشن جج کی عدالت میں چار دن تک جاری رہی۔سماعت کے دوران ہزاروں کشمیری احاطہ عدالت میں پہنچ جاتے جس سے نقص امن کا خطرہ محسوس کرتے ہوئے انتظامیہ نے آئندہ سماعت سری نگر کی سنٹرل جیل میں کرنے کا فیصلہ کیا اور 13جولائی کی تاریخ مقرر کی ۔ اس دن ہزاروں کشمیری جیل کے باہر جمع ہو گئے اور مطالبہ کیا کہ سماعت کھلی جگہ پر ہونی چاہیے ۔ کچھ کشمیری نوجوان جیل کے احاطہ میں داخل ہوگئے۔ ان میں سے تین درجن کے قریب لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ قوت ایمانی اور جذبہ آذادی سے سرشار کشمیری مسلمانوں کا جم غفیر فیصلے کا منتظر جیل کے در دیوار کے ساتھ جمع تھا کہ ظہر کی نماز کا وقت ہوگیا۔ ایک مسلمان نے جیل کی دیوار پر چڑھ کر ظہر کی اذان دینا شروع کی تو وہاں موجود ڈی سی نے بغیر وارننگ کے فائر کا حکم دیدیا ۔موذن کو فائر لگا تو زمین پر گر پڑا۔ اذان جاری رکھنے کے لیے دوسرا مسلمان دیوار پر چڑھا تو اسے بھی گولی کا نشانہ بنادیا گیا۔ وہ بھی زمین پر آگرا۔اس طرح اذان پر قربان ہونے والوں کی تعداد 22ہو گئی ۔ سیکڑوں زخمی ہوئے جو بعد میں شہید ہو گئے ۔ کشمیری مسلمانوں کا یہ لہو آذادی کے چراغ میں تیل کے کام آیا اور ڈوگرہ راج کے خلاف تحریک منظم ہونے لگی۔ زخمیوں میں سے ایک نے دم توڑتے ہوئے اپنی قوم کے لیے یہ کلمات ادا کیے’’ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا اب آپ کو اپنا فرض ادا کرنا ہے ‘‘۔ 13جولائی کی قربانیوں کی یاد جذبہ آذادی کو تازہ رکھنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے ۔ یہی وہ عہد آفرین دن تھا جب اہل کشمیر نے حریت کے ایک نئے باب کی تاریخ اپنے لہو سے رقم کی ۔ اور عہد کیا کہ ہر قیمت پر کشمیر کو ہندوں کے خونی جبروں سے آزاد کروائیں گے ۔

مزید : کالم


loading...