محمود خان اچکزئی کا پختونخوا مخالف بیان کو چیلنج کر دیا گیا

محمود خان اچکزئی کا پختونخوا مخالف بیان کو چیلنج کر دیا گیا

 پشاور(نیوزرپورٹر)پختونخواملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمودخان اچکزئی کے خیبرپختونخوامخالف بیان کو پشاورہائی کورٹ میں چیلنج کردیاگیاہے جس کے تحت انہوں نے خیبرپختونخوا کو افغانیوں کی سرزمین قراردیاتھارٹ میں محمودخان اچکزئی کے خلاف آئین کے آرٹیکل6کے تحت کاروائی کی استدعا کی گئی ہے اور عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمشن کو ہدایات جاری کی جائیں کہ انہیں بحیثیت رکن قومی اسمبلی نااہل قرار دیا جائے اورتھانہ شرقی میں اس کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں آئین کے آرٹیکل 199کے تحت رٹ پٹیشن پاکستان تحریک ا نصاف کے ٹاؤن کونسل ون کے رکن اورچیئرمین تحریک حقوق خیبرپختونخواظاہرشاہ کی جانب سے نوروزخان ایڈوکیٹ نے دائرکی ہے رٹ پٹیشن میں محمود خان اچکزئی ٗ سپیکرقومی اسمبلی اورچیف الیکشن کمشنر اوروفاق کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیاگیاہے کہ یکم جولائی 2016ء کو رکن قومی اسمبلی اورچیئرمین پختونخواملی عوامی پارٹی محمودخان اچکزئی نے اپنے خطاب میں کہاکہ خیبرپختونخواافغانستان کاحصہ ہے اورخیبرپختونخواافغانیوں کاہے اورکسی بھی افغانی کو یہاں تنگ نہیں کیاجائے گا اورنہ ہی یہاں سے بے دخل کیاجائے گاجبکہ محمودخان اچکزئی نے بحیثیت رکن قومی اسمبلی اس بات کاحلف لے رکھاہے کہ وہ آئین پاکستان کاتحفظ کرے گااور وہ ملک کاوفادارہے گا تاہم یہ بیان دے کراس نے آئین اورحلف کی خلاف ورزی کی ہے اوراس طرح وہ آئین کے آرٹیکل6 اورتعزیرات پاکستان کی دفعات 123اے اور124ا ے کی خلاف ورزی کی ہے اوروہ ملک سے غداری کامرتکب ہوا ہے اورسپیکرقومی اسمبلی کایہ فرض بنتاہے کہ وہ محمودخان اچکزئی کی رکنیت کو معطل کرے اوراس کااسمبلی میں داخلہ روکے جبکہ چیف الیکشن کمشنرکی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ الیکشن رولزکے تحت آئین اورحلف کی خلاف ورزی کرنے پراسے نااہل قرار دے جبکہ سپیکرقومی اسمبلی اورچیف الیکشن کمشنرنے اس پرتاحال خاموشی اختیارکررکھی ہے جو مجرمانہ غفلت میں آتاہے رٹ میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ چیف الیکشن کمشنرکواس کے خلاف کاروائی کرنے کی ہدایات جاری کی جائیں اورتھانہ شرقی میں اس کے خلاف مقدمہ درج کیاجائے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ اول


loading...