تخت بھائی ،کمزور بلدیاتی نظام کی بدولت عوام ثمرات سے محروم

تخت بھائی ،کمزور بلدیاتی نظام کی بدولت عوام ثمرات سے محروم

تخت بھائی ( نمائیندہ پاکستان ) ضلع مردان میں کمزور حکومت کی وجہ سے عوام بلدیاتی الیکشن کے ثمرات سے مستفید نہ ہو سکے طاقتور اپوزیشن نے ضلع اور تحصیل تخت بھائی کی حکومت کے گردن پر پاوں رکھ کر روزروز دبا رہے ہیں ضلع اور تحصیل حکومت گذشتہ ایک سال سے عدالتوں کے چکروں میں لگے ہوئے ہیں بلدیاتی انتحابات سیاسی پارٹیوں کے رسہ کشی کے نظر ہو گئے ہیں تحریک انصاف اور ائے این پی ایکدوسرے کو رام کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور عوام مسائل کے گرداب میں پھنسے ہو ے ہیں عوام بنیادی مسائل کے حل لیے دربدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو چکے ہیں تفصیلات کے مطابق بلدیاتی الیکشن کے ایک سال سے زاہد کا عرصہ گزرنے کے باوجود عوام کے مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں ضلع بھر میں صفائی کی حالت ابتر ہو چکی ہیں اورعوام اپنی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کے لیے ممبران اسمبلی کے گھروں کے طواف کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں ضلع مردان میں اختیارات کی جنگ نے عدالتی جنگ کا رخ اختیار کر لیا ہے ضلع مردان میں حزب اقتدار کو مضبوط اپوزیشن نے دبا کر رکھا ہے جس کی وجہ سے ضلع مردان میں تمام ترقیاتی کام ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں کمزور حکومت شروع ہی سے صوبائی حکومت نے دبوچ لیا ہے عوامی نیشنل پارٹی ،جے یو ائی اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت ابتدائی طور پرانتشار کاشکار رہا لیکن بعد میں تینوں پارٹیوں نے مشترکہ حکومت بنا کر اے این پی کے حمایت اللہ ما یار کو ناظم اور پیپلز پارٹی کے اسدخان کشمیری کو نائب ناظم منتحب کیا گیا اور ان کی کامیابی چار ،پانچ ووٹوں کی مرہون منت تھی اور پہلے بجٹ میں ہی اپوزیشن نے حکومتی ارکان سے لے کر اپنے ساتھ شامل کیے گئے اور بجٹ کے دوران ہی وہی پانچ ارکان اجلاس سے غیر حاضر رہے جس پر پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ممبران نے صوبائی حکومت کو باقاعدہ ایک درخواست دی کی ضلع حکومت نے بجٹ پاس نہیں کیا اور بعض ممبران کی بوگس دستخط کئے گئے ہیں جس پر صوبائی حکومت نے انکوائری کی اور اب صوبائی حکومت اور ضلع حکومت ایک دوسرے کے خلاف قانونی جنگ لڑنے میں سرگرم عمل ہیں اسطرح تحصیل تخت بھائی میں بھی تحصیل حکومت انتشار کا شکار ہو چکا ہے اور اپنے پارٹی کے ارکان نے اپنے تحصیل ناظم کے خلاف بغاوت کا نعرہ بلند کرکے اپوزیشن کے ساتھ اس وقت شامل ہو گئے جب تحصیل حکومت 2015/16کا بجٹ پاس کرنے کے لیے اجلاس بلاکر بجٹ کی منظوری لے رہے تھے اور تحصیل حکومت نے بجٹ پاس کرنے میں ناکام رہے جس پر ضلعی حکومت کی طرح تحصیل حکومت نے بھی پشاور ہائی کورٹ کا رخ کر لیا اور عدالتوں سے حکم امتناعی حاصل کرلی لیکن اپوزیشن پارٹیوں جن مین جماعت اسلامی اور تحریک انصاف شامل ہیں نے حوصلہ نہیں ہارا اور انہوں نے تحصیل حکومت میں شامل پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے نائب ناظم جاوید اقبال کو اپنے ساتھ شامل کرکے ہاوس کی رخ پلٹ دی تحصیل کونسل میں ممبران کی تعداد 26ہیں اس وقت تحصیل کونسل میں تحصیل حکومت کے ساتھ 10ممبران ہیں جن میں سات ممبران کا تعلق جے یو ائی سے ہے اور 3کاتعلق عوامی نیشنل پارٹی ہیں جب کہ اپوزیشن کے ساتھ 16ممبران ہیں جن میں پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ 7جماعت اسلامی کے ساتھ 4پیپلز پارٹی کے 3اورجے یو ائی سے بغاوت کرنے والے 2ممبران شامل ہیں تحصیل حکومت کے گردن پر بھی صوبائی حکومت نے پاوں رکھ کر تحصیل ناظم سے اعتماد کی ووٹ لینے کی مطالبہ کر رہے ہیں کہ اپ کے پاس اکثریت نہیں ہیں اپ اعتماد کا ووٹ لیں جس پر تحصیل ناظم ممتاز مہمند نے پشاور ہائی کورٹ سے14جولائی تک حکم امتناعی حاصل کر لی ہیں تحصیل تخت بھائی کے عوام نے حکومت سے اپیل کی ہیں کہ صوبائی حکومت اپنے اختیارات استعمال کرکے ٹی ایم او کو ہدایت دیں کہ مون سون کی بارشوں سے پہلے پہلے نکاس اب کی نالیوں کی صفائی شروع کریں اور تخت بھائی شہر میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیروں کو ہٹا دیا جائے اور گلی کوچوں کی صفائی کو روزانہ کی بنیاد پر کرایا جائے کیونکہ گندگی کی ڈھیر مچھروں کی امجگاہ بن چکے ہیں اور گھر گھر میں بد بو پھیلی ہوئی ہیں ضلع مردان اور تحصیل تخت بھائی کے عوام اج تک بلدیاتی الیکشن کے ثمرات سے محروم چلے ارہے ہیں

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...