ڈی پی او مظفر گڑھ کے ناروروایہ سے دلبرداشتہ کاتون سب انسپکٹر احتجاجاً مستعفی

ڈی پی او مظفر گڑھ کے ناروروایہ سے دلبرداشتہ کاتون سب انسپکٹر احتجاجاً مستعفی

مظفرگڑھ (سپیشل رپورٹر)ڈی پی او مظفرگڑھ کے نارو اسلوک سے دل برداشتہ ہو کر خاتون سب انسپکٹر نصرت پروین احتجاجاً مستعفی خاتون سب

(بقیہ نمبر13صفحہ12پر )

انسپکٹر دوران گفتگو زارو قطار روتی رہیں ،آئی جی پنجاب اور چیف جسٹس آف پنجاب ہائی کورٹ لاہور سے انصاف کی اپیل کر دی ۔تفصیل کیمطابق تھانہ سٹی مظفرگڑھ میں تعینات خاتون سب انسپکٹرنصرت پروین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خاتون کی معاشرے میں عزت نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔مردوں کی حکمرانی ہے ایمانداری سزا تذلیل کر کے دی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ محکمہ پولیس میں 2003میں بطور اے ایس آئی سلیکٹ ہوئی اور MA/LLB کیا بطور لا ء انسٹر کٹر پولیس ٹریننگ کالج چوہنگ لاہور ،پولیس کالج سہالا اپنے فرائض منصبی سر انجا م دیتی رہی ماہ جولائی 2015میں تھانہ سٹی مظفرگڑھ میں تبادلہ ہو ا مجھے ہمہ قسمی جرائم کے مد نظر تفتیش ہائے سپرد کی گئی جوکہ میں نے قانون ضابطہ اور واقعات و انصاف کے دائرہ کا ر میں رہتے ہوئے تکمیل کی دوران تعیناتی خاتون ہونے کے ناتے تھانہ سٹی مظفرگڑھ میرے ساتھ متعدد نا انصافیاں اور قانون و ضابطہ کی بے ضابطیاں افسران بالا کی طر ف سے اور تھانہ سٹی میں تعینات آفسران کی طرف سے ہوتی رہیں ۔انہوں نے الزام لگا تے ہوئے کہا کہ میرے متعدد مقدمات میں محمد بلال HCمحرر تھانہ سٹی کرپشن کر تا رہا اور میری لا علمی میں بطور رشوت رقم وصول کر کے ایس ایچ او مظفرگڑھ تھانہ سٹی یوسف لاشاری میں تقسیم کر تا رہا۔ ایس ایچ او سٹی کو باور کر وایا جس نے بتلایا کہ آفسران کے احکامات ہوتے ہیں ہماری مجبوریاں ہوتی ہیں ،خاتون سب انسپکٹر نے کہا کہ میں نے حوصلہ نہ ہا را اور انصاف کے تقاضوں کیمطابق اپنے فرائض منصبی انجام دیتی رہی جبکہ آفسران کی جانب سے میری حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی کی جاتی رہی متعدد مقدمات جن کی امثلاجات ایس ایچ ا وسٹی دباؤ دے کر مانگتا رہا اور کہتا رہا کہ میں حتمی رائے خود لکھواؤں گا میر ی امثلاجات گم کر دی گئیں جس کی بابت میں نے روزنامچہ میں رپٹ ہائے کا اندراج کیا۔ ایس ایچ اوسٹی کی آشیر باد کے پیش نظر تھانہ سٹی کے اے ایس آئی میری ذاتی کر دار پر کیچڑ اچھالتے رہے جن کے نا م میں نے اپنی کی جانیوالی کاروائی فوجداری میں درج کروں گی ۔انہوں نے کہا کہ چند روز قبل فرنٹ ڈیسک میں موصول ہونیوالی درخواست کی کاروائی جوکہ جمیل اکبر نامی دودھ فروش نے شہری سے رقم نہ ملنے پر دی تھی ۔اس با اثر شہری طاہر کو تھانے بلوا کر رقم کا تقا ضا کیا گیا تو با اثر شہری نے تھانے میں مجھے دھمکیاں دی اور ایس ایچ اوسٹی تماشا دیکھتا رہا اور اگلے روز ڈی پی او مظفرگڑھ نے آفس میں بلا کر الفاظوں کیساتھ میری تذلیل کی اور لائن حاضر کرنے کے احکا مات جاری کردیے جبکہ ڈ ی ایس پی انوٹیگیشن نے واقعہ کی تحقیقات کیں با اثر شہری کے دباؤ میں آکر میرے خلاف رپورٹ مرتب کر دی ۔دوران گفتگو خاتون سب انسپکٹر دل برداشتہ ہو کر زارو قطار روتی رہیں ۔انہوں نے کہا کہ ڈسپلن فورس کی ممبر ہونے کے باعث قانون ،ضابطہ اور انصاف کے تقاضوں کو با خوبی سمجھتی ہوں ،ڈی پی او اور ڈی ایس پی با اثر شخصیت کے ہاتھوں کٹ پتلی بنے ہوئے ہیں اور ڈسپلن کی خلاف ورزی خود کرتے ہوئے عوام کو انصاف فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔انہوں نے آئی جی پنجاب مشتا ق احمد سکھیرااور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے انصاف فراہمی کا مطالبہ کیا ہے ۔دوسری جانب اعلیٰ پولیس آفسران کے رویے سے نالاں لیڈی سب انسپکٹر کے استعفیٰ کے بعد ڈی پی او مظفرگڑھ کی جانب سے جاری کردہ موقف پی آر اوٹو ڈی پی او عدنان قریشی کیمطابق 16جون کو محمد طاہر نامی شخص نے درخواست کہ اس کا دودھ کے لین دین کے سلسلہ میں تنازعہ تھا لیڈی سب انسپکٹر نے کانسٹیبلوں کے ہمراہ چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے اس کے خاندان کو زدو کوب کیا مارپیٹ کی ڈی پی او اویس احمد نے معا ملہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی ایس پی انویسٹی گیشن سعد اللہ خان کو انکوائری آفیسر مقرر کیا جس نے لیڈی سب انسپکٹر کیخلاف رپورٹ مرتب کی اور لائن حاضر کر نے کے احکا مات جاری کر دیے۔

مستعفی

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...