عمرہ کے نام پر معذور ،ضعیف افراد کو مکہ ، مدینہ لے جا کر بھیک منگوانے والا گروہ بے نقاب, 30 بھکاری گرفتار

عمرہ کے نام پر معذور ،ضعیف افراد کو مکہ ، مدینہ لے جا کر بھیک منگوانے والا ...
عمرہ کے نام پر معذور ،ضعیف افراد کو مکہ ، مدینہ لے جا کر بھیک منگوانے والا گروہ بے نقاب, 30 بھکاری گرفتار

  


لاہور (ویب ڈیسک ) عمرہ کے نام پر پاکستان سے معذور ،ضعیف اور دیگر افراد کو مکہ ، مدینہ لے جا کر بھیک منگوانے والا گروہ بے نقاب ہو گیا ،30 سے زائد افراد گرفتار جبکہ مافیا کی گرفتاری کیلئے سعودی حکومت متحرک ہو گئی،پاکستانی کی بدنامی کا سبب بننے والے مافیا کے سرکاری افسروں سے تعلقات بھی بے نقاب ہو گئے۔

روزنامہ دنیا کے مطابق رمضان المبار ک میں پاکستان سے باقاعدہ ایک مافیا جس میں ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے جمال خان ، اقبال خان اور کراچی سے تعلق رکھنے والا سرکاری ملازم ریاض لاکھو شامل ہیں،ملتان(جنوبی پنجاب) اور کراچی سے 200 سے 250 کے قریب افراد کو عمرہ ویزا پر سعودی عرب لیکر جاتے ہیں جہاں جما ل خان جو اس گینگ کا سربراہ ہے ان لوگوں کو سنبھالتااور ان سے بھیک منگواتا ہے ،بھیک کی آ دھی رقم جمال خان لیتا ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ مافیا گیارہ سال سے کام کر رہا ہے ،رمضان سے لیکر ذوالحجہ تک یہ مافیا سعودی عرب کے اندر کام کرتا ہے اور اس کے بعد لوگوں کو بھیک منگوانے کیلئے ایران لیجاتا ہے۔سعودی اداروں نے پاکستانیوں کی مدد سے آ پریشن کر کے بھیک مانگنے والے متعدد افراد کو گرفتار کیا تو انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کو پاکستان سے بھیک مانگنے کیلئے یہاں لایا جاتا ہے ،ان کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے اور بھیک میں ملنے والی رقم میں سے آ دھی رقم جمال اور اس کے ساتھی لیتے ہیں، رمضان سے لیکر ذوالحجہ تک 5 سے 6 لاکھ ریال اکٹھا کر لیتے ہیں۔ہمیں مدینہ میں کھجوروں کے باغات میں بنے ہوئے کمروں میں رکھا جاتا ہے اور ویزا کی مدت ختم ہونے سے چند دن قبل اچانک بیماری کا بہانہ بنا کر ہسپتالوں میں داخل کراکے پرچی بنوا لی جاتی ہے ،جب اوور سٹے ہونے پر واپس جاتے ہیں تو پاکستان میں اقبال خان جوجمال کا بھائی ہے وہ ایف آ ئی اے کی ملی بھگت سے باآسانی ائیر پورٹ سے لے جاتا ہے اور اس کے بعد محرم میں ایران لیجایا جاتا ہے جہاں محرم، صفر کے ماہ میں بھیک مانگتے ہیں۔

مافیا کے حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس مافیا کے اہم رکن اقبال خان کا تعلق ڈیرہ غازی خان سے ہے ، اس کو دو سال قبل سعودی عرب سے اسی وجہ سے ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا ،ڈی پورٹ ہونے کے بعد اس نے پاکستان میں یہ کام سنبھال لیا۔ تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آ ئی کہ بھیک مانگنے والے مافیا کو ڈیرہ غازی خان میں میرو نامی ٹریول ایجنٹ او ر کراچی میں ریاض لاکھو جو کہ سرکاری ملازم ہے اور ٹریول ایجنسی کا کام کرتا ہے ، عمرہ کے ویزے لگوا کر بھیجتے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ اس مافیا کے ڈھائی سو افراد سعودی عرب میں یہ گھناﺅنا کام کر رہے ہیں جن میں خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔گرفتار ہونے والوں میں منیر احمد ، عمر فاروق اس کی والدہ کلثوم مائی ،رب نواز ،محمد اسحاق ،محمد اسلم اور دیگر شامل ہیں جو کئی سالوں سے اسی کام کیلئے وہاں جا رہے ہیں۔بتایاگیاہے کہ یہ تمام لوگ مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے گیٹ نمبر 21،22،23،اور 24 جب کہ خانہ کعبہ میں کبوتر چوک ، باب عبدالعزیز اور دار التوحید کے باہر بھیک مانگتے تھے۔گینگ کے سرغنہ جمال خان کا شناختی کارڈ نمبر 32102-3414848-7ہے۔بتایا گیا ہے کہ جمال خان کی گرفتاری کیلئے سعودی عرب کے تمام ائیر پورٹس پر الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

مزید : لاہور


loading...