برآمدات بڑھانے کیلئے کرنسی کی قدر گرانا ملکی مفاد کے خلاف ہے

برآمدات بڑھانے کیلئے کرنسی کی قدر گرانا ملکی مفاد کے خلاف ہے

  

اسلام آباد(کامرس ڈیسک )اسلام آباد چیمبر آف سمال ٹریڈرز کے سرپرست شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ مقامی کرنسی کی قدر میں حال ہی میں کمی کی گئی ہے اور برامدات بڑھانے کیلئے اس میں مزید کمی ملکی مفاد کے خلاف ہے۔ ایسا مطالبہ کرنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ گرتی برامدات بڑھانے کیلئے سخت اقدامات اور اصلاحات کی ضرورت ہے نہ کی کرنسی کی قدرمزید کم کرنے کی کیونکہ اس سے درامدات مہنگی ہو جائیں گی جو برامدات سے ڈھائی سو فیصد زیادہ ہو چکی ہیں۔ درامدات مہنگی ہونے سے ملک کا ہر باشندہ متاثر ہو گا۔شاہد رشید بٹ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ برامدی شعبہ کی جانب سے کرنسی کی قدر کم کرنے کا مطالبہ غلط ہے ۔روپے کو کمزور کرنے کے دقیانوسی خیال کے حامی بتائیں کہ مشرف دور میں جوڈالر ساٹھ روپے کا تھا وہ پیپلز پارٹی کے دور میں ایک سو پانچ روپے کا ہو گیا تو اس سے برامدات کتنی بڑھیں۔حال ہی میں فارغ کئے گئے نیم خواندہ ایکسپورٹ مینیجر بیماری کا علاج کرنے کے بجائے شارٹ کٹ دھونڈنے میں مصروف تھے جسکی جتنی مزمت کی جائے کم ہے۔

توانائی بحران، ٹیکس مسائل،ریفنڈ، انفراسٹرکچر، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ، براڈنگ، ویلیو ایڈیشن، نئی منڈیوں کی تلاش جیسے اہم معاملات کو نظر انداز کیا جائے تو نتائج ایسے ہی نکلتے ہیں۔روپے کی قدر گھٹانے سے برامدات بڑھیں نہ بڑھیں مگر غیر ملکی قرضہ اور تجارتی خسارہ ضرور بڑھتا ہے۔کرنسی کی قدر کا فیصلہ ملک کے اقتصادی حالات کے مطابق ہونا چائیے نہ کہ برامدات بڑھانے یا آئی ایم ایف کے مطالبہ پر۔ برامدی شعبہ کے وقتی فائدے کیلئے بیس کروڑ افراد کے مفادات کو قربان نہیں کیا جا سکتا۔

مزید :

کامرس -