13 جولائی، یوم شہدائے کشمیر اور بھارتی فوج کے مظالم

13 جولائی، یوم شہدائے کشمیر اور بھارتی فوج کے مظالم
13 جولائی، یوم شہدائے کشمیر اور بھارتی فوج کے مظالم

  

مقبوضہ کشمیر،آزاد جموں و کشمیر اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے یوم شہدائے کشمیر انتہائی عقیدت واحترام اور اس عزم کی تجدید کے ساتھ منایاکہ تحریک آزادی کشمیر کی تکمیل تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ ’’یوم شہدا‘‘ 13 جولائی 1931ء کو سرینگر کی سینٹرل جیل کے سامنے فائرنگ سے شہید ہونے والوں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ انتظامیہ نے احتجاجی ریلیوں کو روکنے کے لئے وادی میں پہلے سے عائد پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں۔ جھڑپوں میں زخمی ہونے والے بیشتر افراد کی عمریں 16سے 26برس کے درمیان تھیں۔ مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال اور مظاہرے بدستور جاری ہیں۔ کمانڈر برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد ہونے والے زبردست احتجاجی مظاہروں کے بعد وادی میں مسلسل چھٹے روز بھی کرفیو نافذ رہا اور انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بھی بند رہی۔ بھارت نواز وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی آخر کار خاموشی توڑ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فورسز نے طاقت کا بے جا استعمال کیا۔اس موقع پر کشمیری نوجوانوں نے ایک بار پھر پاکستانی پرچم لہرا دیا۔

پولیس نے مظاہروں کے دوران پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے والے 100 نوجوانوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ کئی روز سے جاری کرفیو کے نتیجے میں متعدد علاقوں میں غذائی اجناس کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔

وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دیا جانا ضروری ہے۔ اقوام متحدہ کے مبصرین کی نگرانی میں آزادانہ و شفاف رائے شماری ہی مسئلہ کشمیر کا واحد حل ہے۔ پاکستان کے عوام اور حکومت کشمیری بھائیوں کے جذبات کی قدر کرتے ہیں اور خواہ کچھ ہو جائے دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر کشمیریوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔ کشمیریوں کی آواز اور جدوجہد کو فوجی طاقت سے دبایا نہیں جا سکتا، نہ ہی ان کے انسانی حقوق کو پامال کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

برہان مظفر وانی کی پہلی برسی کے موقع پر انتظامیہ نے لوگوں کو احتجاج کے لئے سڑکوں پر نکلنے سے روکنے کے لئے بیس ہزار سے زائد اضافی فوجیوں کو تعینات اور تمام بڑے قصبوں کی سڑکوں کو خاردار تاروں سے بلاک کر دیا۔مقبوضہ علاقے ،خاص طورپر وسطی اور جنوبی کشمیر کے اضلاع میں کرفیو اور دیگر پابندیاں عائد کی گئیں۔ کشمیر یونیورسٹی میں ہونے والے امتحانات بھی ملتوی کردیئے ہیں۔ پوری وادی چھاؤنی کا منظر پیش کرتی رہی۔ چپے چپے پر سیکیورٹی اہلکار تعینات رہے۔ برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد اب تک بھارتی فوجیوں نے 156کشمیریوں کو شہید، 19 ہزار 4 سو 56 کو زخمی، جبکہ 3ہزار سے زائد کو بصارت سے محروم کر دیا۔

برہان مظفر وانی تحریک آزادی کشمیر کے ایک نئے باب کا عنوان ہے۔ ایک سال پہلے اس جواں سال شہادت نے مقبوضہ کشمیر میں اپنے لہو سے جو چراغ روشن کیا، اس سے آج پوری وادی میں چراغاں ہے۔ برہان ظفر وانی کی شہادت نے اس حقیقت کو آخری درجے میں ثابت کر دیا ہے کہ کشمیر کا بچہ بچہ آزادی کے جذبے سے سرشار ہے اور بھارت کے غاصبانہ قبضے کو قبول کرنے کے لئے آمادہ نہیں۔اسلحہ کے زور پر قوموں کے جذبہ آزادی کو نہیں کچلا جا سکتا۔بھارت کو یہ حقیقت بھی سمجھ لینی چاہیے کہ تاریخ کو اندھا نہیں کیا جا سکتا۔ مقبوضہ کشمیر کی یہ تحریک آزادی مقامی اور ہر طرح کی بیرونی مداخلت کے بغیر آگے بڑھ رہی ہے۔ برہان مظفر وانی کی شہادت نے اس بھارتی پروپیگنڈے کو بھی بے نقاب کر دیا ہے کہ آزادی کشمیر کی تحریک کسی خارجی مداخلت کے زیر اثر ہے۔ گذشتہ ایک سال میں کرفیو، سیکیورٹی فورسز کے سنگدلانہ اقدامات اور ریاستی ظلم کے باوجود جس طرح مقبوضہ کشمیر کے لوگوں نے اپنے شہیدوں کے جنازوں میں شرکت کی اور علم حریت کو بلند رکھا، معاصر تاریخ میں اس کی مثال موجود نہیں۔

برہان وانی کا یوم شہادت ساری دنیا کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ اگر مقبوضہ کشمیر میں ظلم کا یہ بازار گرم رہا، انسانی حقوق کی اسی وسیع پیمانے پر خلاف ورزی ہوتی رہی، عام شہریوں کو آہنی چھروں سے اندھا کیا جاتا رہا تو پھر دنیا میں امن کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ یہ شہادت عالمی برادری اور قوتوں کو بھی متوجہ کرتی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی سے آنکھیں نہیں چرا سکتے۔ یہ شہادت سوال کرتی ہے کہ کیا کشمیری انسان نہیں؟ کیا ان کے بنیادی حقوق نہیں؟ کیا حق خودارادیت کشمیریوں کا مسلمہ حق نہیں ہے جو انہیں اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت حاصل ہے۔ وہ اقوم متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کرے اور عالمی برادری کی بھی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کو ان قراردادوں کے احترام پر مجبور کرے۔

مزید :

کالم -