جب کشمیری قوم نے خون جگرسے جرأت وبہادری کی لازوال داستان رقم کی

جب کشمیری قوم نے خون جگرسے جرأت وبہادری کی لازوال داستان رقم کی
جب کشمیری قوم نے خون جگرسے جرأت وبہادری کی لازوال داستان رقم کی

  



عبدالقدیر پر مقدمہ چلا تو کشمیری عوام ہزاروں کی تعداد میں کارروائی سننے کے لئے جمع ہو گئے ۔یہ صورت حا ل دیکھ کر ریاستی حکومت گھبرا اٹھی اور فیصلہ ہو اکہ مقدمہ کی آئندہ سماعت سری نگر جیل میں کی جائے گی۔حکومت کے اس فیصلہ سے کشمیری عوام میں اضطراب اور پریشانی کی لہر دوڑ گئی وہ بجا طور پر سمجھتے تھے کہ عبدالقدیر خان ان کی وجہ سے ابتلا و آزمائش کا شکار ہوا ہے لہذا اب عبدالقدیر خان کی حمایت میں آواز بلند کرنا اور اس کی رہائی کے لئے کوشش کرنا وہ اپنا فرض منصبی سمجھتے تھے۔اسی دوران 13جولائی کا دن آپہنچا ،13جولائی کے دن جب لوگ اپنے ا جنبی محسن عبدالقدیر خان سے اظہار یکجہتی کے لئے گھروں سے نکلے تو ان میں سے کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ چند لمحوں بعد ان پر کیا بیتنے والی ہے اور آج کا دن تحریک آزادی کشمیر میں کیا اہمیت اختیار کرنے والا ہے اور لاتعداد کشمیریوں کے خون سے سرخ ہوکر آزادی کا جھومر بننے والاہے۔اس کے بعدوہ واقعہ پیش آیاجس کی تفصیل پہلے گزرچکی ہے ۔

ایک وقت میں 21افراد کی شہادت کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی فوراََہی پوری ریاست میں ہڑتال ہوگئی اور ہر قسم کی کاروباری زندگی معطل ہو کر رہ گئی لوگ دیوانہ وار جامع مسجد سرینگر جہاں جنازے رکھے گئے تھے کی طرف دوڑے۔حکومت نے فوج کوحکم دیا کہ وہ شہدا کی لاشیں چھین لے چنانچہ نہتے عوام اور فوج میں شدید قسم کا تصادم ہوا مگر فوج اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکی۔ ظالم حکومت لوگوں کو منتشر کرنے کے لئے اپنی پوری طاقت استعمال کررہی تھی،گولیاں چلائی جارہی تھیں،فائرنگ سے جامع مسجد سری نگر کے درودیوار چھلنی ہورہے تھے، لاٹھی چارج کیا جارہا تھاجس سے کئی اور نوجوان بھی شہید ہو گئے مگر اس کے ساتھ مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت بھی ہل کر رہ گئی ۔اس کے محلات میں لرزہ طاری ہو گیا۔13جولائی کی بازگشت ریاست جموں کشمیر کے علاوہ پورے ہندوستان میں سنائی دینے لگی ۔

یہ پہلا موقع تھا کہ جب ہندوستان بھر کے مسلمان اپنے مظلوم کشمیری مسلمان بھائیوں کی مدد کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے چنانچہ25جولائی 1931ء کو شملہ میں آل انڈیا کشمیر کانفرنس طلب کی گئی جس میں حکیم الامت شاعر مشرق علامہ محمداقبال ،خواجہ سلیم اللہ ،نواب آف ڈھاکہ،مولانا ابوالکلام آزاد ،خواجہ حسن نظامی،نواب سر ذوالفقار علی خان،میاں نظام الدین، مولانا شوکت علی خان ،مولانا عبدالمجید سالک، سید حبیب شاہ،مولانا اسماعیل غزنوی، مرزا بشیر الدین،اے آرساغر،مولانا عبدالرحیم درد ؔ اوران جیسے بیسیوں زعماء نے شرکت کی۔اس موقع پر کشمیر کمیٹی کا قیام عمل میں لایاگیا اور14اگست1931ء کو اظہار یکجہتی کشمیر کادن منایا گیا۔گو کہ مرزا بشیرالدین محمود کی وجہ سے کشمیر کمیٹی زیادہ عرصہ نہ چل سکی مگر اس کے اثرات بہت دیرپا ثابت ہوئے اور پورے ہندوستان کے مسلمان اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کے لئے سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔ڈاکٹرا سلام الدین نیاز کے بقول’’ اظہار یکجہتی کشمیر کی ہمہ گیری نے تحریک حریت کشمیر میں اتنی حرار ت پیدا کردی کہ دنیا بھر میں کشمیریوں کی داستانِ مظلومیت ہر ذی شعور کی زبان پر آگئی۔‘‘13جولائی کے شہدا کی قربانیوں نے پہلی دفعہ مہاراجہ کو مسلمانوں کے سامنے جھکنے اور دفاعی انداز اختیار کرنے پر مجبور کردیا اس سے پہلے ریاست میں کشمیریوں کی حالت جانوروں سے بھی بدتر تھی13جولائی کی قربانیوں کی وجہ سے انہیں زندہ انسان تسلیم کیا گیا اور ان کے حقوق کی بات کی گئی۔امر واقعہ یہ ہے کہ ڈوگرہ راج کے ظلم کا سیاہ دور13جولائی کے شہدا کی قربانیوں کی بدولت غروب ہوا اورپاکستان کے زیرانتظام آزاد جموں کشمیر کا خطہ بھی اس دن کے شہدا کی قربانیوں کی بدولت آزاد ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کشمیری قوم 13جولائی کا دن آج بھی پورے جوش وخروش سے مناتی ہے۔اس لئے کہ ان کی آزادی کا سفر ابھی ادھورا ہے ڈوگروں کے بعد بھارتی استعمار مقبوضہ جموں کشمیر پر قابض ہے۔

13جولائی کادن کشمیری قوم کے لئے سنگ میل اور مشعل راہ کی حیثیت رکھتاہے۔کشمیری قوم یہ رازپاچکی ہے کہ آزادی کی منزل قربانی سے ملتی ہے اور قربانیاں دینے میں اہل کشمیر کا کوئی ثانی نہیں۔ برہان مظفر وانی، ابولقاسم شہید، سبرزار بھٹ اور دیگر سینکڑوں کمانڈروں کی شہادت اس امرکاثبوت ہے کہ اہل کشمیرکی قروبانیوں کا سفر ہنوز جاری ہے اوریہ سفرمقبوضہ جموں کشمیرکی آزادی تک جاری رہے گا۔ جماعہ الدعوۃ نے کراچی سے گلگت بلتستان اوربلوچستان تک عشرہ اظہاریکجہتی کشمیرکااہتمام وانتظام کیاہے۔عشرہ اظہاریکجہتی کشمیرسے یقینااہل کشمیرکوحوصلہ ملے گالیکن امیرجماعہ الدعوۃ پروفیسرحافظ محمدسعیدکی نظربندی حکومت پاکستان کامتحسن اقدام نہیں ۔کشمیری قوم حافظ محمد سعید کواپنامحسن سمجھتی ہے۔حکومت نے حافظ سعیدکی نظربندی کااقدام امریکہ اوربھارت کوخوش کرنے کے لئے اٹھایاہے ۔حالانکہ ضرورت اس امرکی ہے کہ ہمارے حکمران امریکہ وبھارت کی بجائے اہل کشمیرکے ساتھ مدد،نصرت،تعاون کااہتمام کریں ۔اس لئے کہ امریکہ وبھارت پاکستان کودنیا کے نقشے سے مٹادینا جبکہ کشمیری مسلمان پاکستان کومضبوط ومستحکم کرناچاہتے ہیں۔(ختم شد)

مزید : کالم