سانحہ احمد پور شرقیہ سے ہم نے کیا سبق سیکھا؟

سانحہ احمد پور شرقیہ سے ہم نے کیا سبق سیکھا؟
 سانحہ احمد پور شرقیہ سے ہم نے کیا سبق سیکھا؟

  


ملک بھر میں بڑی شاہراہوں‘مقامی سڑکوں‘ چھوٹی گزر گاہوں ‘ ریلوے پھاٹکوں اور پٹڑیوں پربڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات کے نتیجے میں بھاری تعداد میں ہونے والی المناک اموات اور زخمی ہونے والوں کی دردناک کہانیوں نے پوری قوم کو دکھی اور سوگوار کر دیا ہے انتظامی سطح پر ایسے واقعات کا نوٹس لینے کی اطلاعات مل رہی ہیں‘ سانحہ احمد پور شرقیہ سے پہلے بھی بہت سے حادثات نے کئی گھروں میں صف ماتم بچھا دی تھی جن میں وقتی طور پر متاثرہ لوگ اپنے غم و غصہ کا اظہار کرتے رہتے تھے ہر چند کہ انہیں حکومت کی طرف سے معاوضہ یا مالی امداد بھی مل جاتی رہی ہے مگر وہ معاوضہ یا مالی امدادان سے بچھڑ جانے والے عزیز و اقارب کا نعم البدل کبھی نہیں رہی____بس خدا کا کرنا سمجھ کر صبر شکر کر کے بیٹھ جاتے رہے____ ان واقعات کے بعدانتظامی سطح پر جن اقدامات کی ضرورت تھی وہ بس وقتی تسلیوں اور دلاسوں میں ہی دب کر رہ گئے. سانحہ احمد پور شرقیہ میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد آخری اطلاعات کے مطابق 215ہو چکی ہے‘ درجنوں زخمی ابھی ہسپتالوں میں زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں حادثات کی رفتار اس اتنے بڑے سانحہ کے بعد بھی کم نہیں ہوئی‘ پے درپے حادثات میں بہت سے لوگ جھلس کر اور زخمی ہو کر اللہ کو پیارے ہو گئے لوگ ایک حادثے کے صدمے سے نکل نہیں پاتے تو دوسرے کا دکھ جھیلنا پڑتا ہے اور یہ سلسلہ کہیں بھی تھمتا نظر نہیں آ رہا۔

حکومت نے سانحہ احمد پور شرقیہ میں معاوضہ‘ مالی امداد اور دیگر انتظامات پر اربوں روپے خرچ کر دیئے‘جن کو یہ رقوم ملیں وہ جاں بحق ہونے والوں کی جدائی کا کوئی نعم البدل تو نہیں اور نہ ہی زخمی ہونے والوں کے زخموں کا کوئی مداوا تھا مگر اتنا ضرور ہوا کہ جاں بحق ہونے والوں کی تجہیز و تکفین کے اخراجات اوران کے ہمیشہ کیلئے جدا ہو جانے والے پیاروں کے بعد کے معاشی حالات فوری اور ضروریات زندگی کو کسی نہ کسی حد تک پورا کرنے کا ایک فوری ذریعہ بن گئیں اور اسی طرح زخمیوں کے علاج معالجہ اور ان کی زندگیوں میں آنے والی مالی مشکلات میں انہیں کافی حد تک سہارا ضرور مل گیا اور اس فوری معاوضہ یا مالی امداد نہ ملنے کی صورت میں ان کو نہ جانے کس کس تکلیف دہ صورتحال سے گزرنا پڑتا. لیکن کتنا اچھا ہوتا کہ اربوں روپے کی وہ بھاری رقوم اگر حادثہ کے بعد اثرات پر خرچ ہونے کے بجائے حادثات کو روکے جانے کے اسباب پر خرچ ہوتیں تو شاید اتنی جانیں نہ جاتیں.اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ رب کریم ان سب کو صبر اور آسانیاں عطا فرمائے۔

سانحہ احمد پور شرقیہ کے بعد حکومتی سطح پر‘مقامی سطح پر اور انتظامی سطح پر مختلف نوعیت کی تحقیقات شروع ہو ئیں جس کے نتیجے میں کچھ نہ کچھ حد تک ذمہ داران کا تعین بھی سامنے آ رہا ہے انہیں کس قسم کے سزا و جزا کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکے گا____ان کو کوئی سزا و جزاہو بھی گئی تو جانے والے تو کبھی واپس نہیںآ سکیں گے____اس قسم کی انکوائریوں کا عام طور پر یہ فائدہ سمجھا جاتا ہے کہ تساہل وغفلت برتنے والے یا کسی لالچ کی خاطر نقائص و خرابیوں کو نظر انداز کرنے والے ذمہ داران کااحتساب ہو سکے گا لیکن اس کااصل فائدہ تو یہ ہو سکتا ہے کہ ایسے واقعات‘ حادثات‘ سانحات رک جائیںیا کم ہو جائیں۔ اس سانحہ کو اتنے روز گزر گئے‘ تحقیقات کافی حد تک مکمل بھی ہو گئیں‘ ہاں! اس سانحہ کے بعدیہ دیکھنے کو ملا کہ رونما ہونے والے متعدد واقعات و حادثات کے جائے وقوعہ پر وہاں کی انتظامیہ نے جائے حادثہ پر سیکورٹی اوربچاؤ کے سلسلے میں فوری اقدامات کی طرف توجہ دینا ضرور شروع کر دی۔

اس سلسلے میں ان منتظمین کے فوری اقدامات کوسراہا جا سکتاہے مگر اصل کام تو ان حادثات کے اسباب اور وجوہات کو روکنے کیلئے فوری فیصلے اور ہنگامی اقدامات کرنا ہے . اس کیلئے کیا کیا گیا. کیا ہنگامی بنیادوں پر ملک بھر میں ٹرانسپورٹ خاص طور پر کمرشل ٹرانسپورٹ کی میرٹ پر فٹنس اوران کی چیکنگ‘ گاڑیوں پر ڈالے گئے وزن کی گنجائش‘ راستے میں کسی ہنگامی ضرورت کے لئے فاضل عملہ کی ہمراہی‘سڑکوں کی بوجھ اٹھانے کی صلاحیت اوران پر چلنے والی گاڑیوں کی رفتار‘خاص طور پر کوئی موڑ کاٹتے وقت احتیاط‘ڈرائیورز اور دیگر عملہ کی مہارت اور قانونی طور پر ٹریننگ‘سڑکوں پر بلاکرپشن چیکنگ کے لئے کوئی اقدامات کئے گئے۔۔۔۔۔اس طرح بڑی شاہراہوں کے بعد ڈویژنل اور ضلعی سطح پر ٹرانسپورٹ اتھارٹیز‘ ٹریفک پولیس بلکہ ضلعی پولیس نے بھی اپنے اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں کیا کوئی فوری اقدامات اٹھائے کوئی ہنگامی انتظامات کئے؟ کیا گاڑیوں کی فٹنس کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے والوں نے اپنا قبلہ درست کیا؟ضلعی سطح پر ٹرانسپورٹ سے متعلقہ تمام اتھارٹیز نے اپنی کوئی فوری میٹنگز کر کے کوئی اجتماعی حکمت عملی تیار کی۔

کیا ڈویژنل کمشنر‘ ڈپٹی کمشنر‘ ضلع و شہر کے بلدیاتی اداروں کے سربراہوں نے اس سلسلے میں کوئی مشترکہ اجلاس کر کے ٹریفک کے راستے میں پیش آمدہ مشکلات اوررکاوٹوں کو دور کرنے کی کوئی ہنگامی پلاننگ کی؟ کیا ڈویژنل اور ضلعی سطح پر کمرشل ٹرانسپورٹرز کے ساتھ میٹنگ کر کے ا ن کی کوئی رہنمائی کی گئی‘انہیں کوئی ضروری ہدایات جاری کی گئیں‘ خلاف ورزی پر انہیں کسی انتباہ کا کوئی اہتمام کیاگیا؟اضلاع میں مقامی طور پر کس کس انتظامی سربراہ نے کوئی انتظامات و اقدامات کئے یا صرف سرکاری ہینڈ آؤٹ جاری کرنے کواپنی ذمہ داری قرار دے کر’’فرض‘‘ ادا کر لیا گیاکیا ٹریفک کی راہ میں رکاوٹ بننے والی یا ٹریفک حادثات کا موجب بننے والی تجاوزات کو فوری طور پر ہٹانے کے لئے کوئی پلاننگ کی گئی؟ایسے مقامات کی کوئی فہرستیں تیار کی گئیں‘کوئی رپورٹس تیار کی گئیں؟اپنے اپنے ایریاز کی سڑکوں کی صورتحال کا جائزہ لے کر کیا یہ طے کیا گیا کہ کون کون سی سڑک کس قسم کی گاڑیوں کا بوجھ اٹھا سکتی ہے ان کے وہاں سے نہ گزرنے کے بارے کوئی قدم اٹھایا گیا؟ اور ان سڑکوں پر رہنمائی کے لئے بورڈز نمایاں جگہوں پر لگائے گئے؟____لوگوں کو ٹریفک کے ضوابط سے آگاہی کیلئے تربیت کے کوئی انتظامات کئے گئے؟____کیا ان تمام حالات سے نبردآزما ہونے اور ضروریات کو پورا کرنے کیلئے مطلوبہ وسائل کا جائزہ لے کر صوبائی حکومتوں کو آگاہ کیا گیا؟۔

کیا صوبائی حکومتوں کی طرف سے اس سلسلے میں ڈویژنل اور ضلعی سطح پران سے ضروریات و وسائل کے بارے میں پوچھا گیا____ممکن ہے ان تمام سوالات پر صوبائی‘ ڈویژنل اور ضلعی سطح پر کہیں کوئی تبادلہ خیالات کیا گیا ہو____مگر سانحہ احمد پور شرقیہ کے بعد رونما ہونے والے پے درپے حادثات و واقعات کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتاہے کہ فیصل آباد میں تو ابھی تک انتظامی اصلاحی اور تربیتی اقدامات کی اشد ضرورت ہے____ بڑے دکھ کے ساتھ یہ سوال پوچھنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ کیا مقامی ٹرانسپورٹ اتھارٹی‘موٹر وہیکل ایگزامینر‘ ٹریفک پولیس اور بلدیاتی اداروں نے ٹریفک حادثات کو روکنے کیلئے کوئی اقدامات کئے؟____کیا ان اداروں نے اپنی اصلاح کرلی؟ کیا جن گاڑیوں کو ’’معاملات طے کر کے‘‘ فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کئے گئے تھے ان کے سرٹیفکیٹس پر’’نظرثانی اور تلافی‘‘ کیلئے کوئی چیکنگ شروع کی گئی‘کیا فٹنس اتھارٹی سے کسی نے پوچھا؟ کہ کیا سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کی فٹنس قانونی طور پر درست اور معیار کے مطابق ہے؟____سب کو معلوم ہے جواب نفی میں ہی ہو گا. فیصل آباد میں ڈویژن اور ضلعی سطح پر بے مہار شتروں کا قافلہ اپنی سابقہ رفتار اور اپنے سابقہ انداز کے ساتھ ہی گزر رہا ہے. اللہ تعالیٰ اہل فیصل آباد اور فیصل آباد میں آنے جانے والے سب لوگوں کا حامی و ناصر ہو____آمین

مزید : کالم


loading...