سیاستدانوں کی چوری کا سراغ۔۔۔ اصول کا یکساں اطلاق

سیاستدانوں کی چوری کا سراغ۔۔۔ اصول کا یکساں اطلاق

  

سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصا ف کے چیئرمین عمران خان سے ان کی آمدنی کا حساب طلب کرتے ہوئے دریافت کیا ہے کہ لندن فلیٹ کی خریداری کے لئے پیسے کہاں سے آئے؟ عمران خان کو کرکٹ میں کمائی گئی رقم کی تفصیلات اور غیر ملکی دوروں کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ سے حاصل کی گئی آمدنی کے بارے میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے 1973ء سے لے کر 1983ء تک پیسہ کمایا بھی یا نہیں اور اگر پیسہ کمایا ہے تو تفصیلات دینی ہوں گی عمران خان دوسروں کی چوری کا سراغ لگانے کے لئے کہتے ہیں یہی اصول ان پر بھی لاگو ہونا چاہئے۔ باہر جو رقم کمائی ہے اس کے ثبوت دینا ہوں گے۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ اگلی تاریخ سماعت پر ان کی طرف سے وکیل پیش نہ ہوئے تو پھر عمران خان کو طلب کرنا پڑے گا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ثبوت دیں یہ موقف چھوڑیں کہ ان کے موکل کے پاس عوامی عہدہ نہیں تھا، اس کیس کی سماعت اب 13جولائی کو ہو گی۔ جس طرح قوم کی نظر یں میں پاناما کیس پر لگی ہیں جس میں وزیر اعظم کے خلاف صادق و امین نہ ہونے یا نہ رہنے کا معاملہ اُٹھایا گیا ہے اسی طرح عمران خان کا کیس بھی کم اہم نہیں ہے جس طرح نواز شریف آج وزیر اعظم ہیں اسی طرح عمران خان بھی اس عہدے کے حصول کے لئے ہر قسم کی سیاسی و غیر سیاسی جدوجہد کر رہے ہیں، جس میں ایجی ٹیشن بھی شامل ہے۔ اس دوڑ بھاگ اور تگ دَو کا مقصد اولین وزیر اعظم بننا ہے۔ عمران خان نے اس مقصد کے لئے اسلام آباد میں تاریخی دھرنا بھی دیا تھا۔ عمران خان نے وزیر اعظم نواز شریف کو نا اہل قرار دلوانے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہوا ہے۔ اسی طرح ’’مستقبل کے وزیر اعظم ‘‘ کی نا اہلی کے لئے مسلم لیگ (ن) کے ایک رہنما حنیف عباسی نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے، اتفاق کی بات ہے کہ دونوں مقدمات میں معاملہ فلیٹس کا آن پڑا ہے، عمران خان نے، جب وہ کرکٹ کھیلتے تھے ، لندن میں ایک فلیٹ خریدا تھا پھر اسے فروخت کر دیا گیا اور بقول ان کے اس فلیٹ کی رقم سے بنی گالہ میں اراضی خریدی گئی لندن کا فلیٹ فروخت کرنے کے لئے انہوں نے ایک آف شور کمپنی بھی بنائی تھی جو ان کے بقول اب وجود نہیں رکھتی۔ غالباً یہ کمپنی صرف ایک فلیٹ بیچنے کے لئے بنائی گئی تھی۔

بنی گالہ کی اراضی کے بارے میں عمران خان کا موقف ہے کہ یہ زمین اس رقم سے خریدی گئی جو ان کی مطلقہ بیوی جمائمہ خان نے انہیں لندن سے بھیجی اس رقم بھیجنے کی تفصیلات بھی سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی ہیں۔ یہ رقم براہ راست عمران خان کے اکاؤنٹ میں نہیں آئی بلکہ ان کے ایک دوست کے حساب میں جمع ہوئی جنہوں نے بعد میں یہ عمران خان کو دیدی، عمران خان نے ابھی گزشتہ رات ہی ایک نیوز چینل پر بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس فلیٹ کی فروخت اور بنی گالہ کی اراضی کی خریداری کی سب تفصیلات موجود ہیں اور عدالت میں پیش کردی جائیں گی۔ دورانِ سماعت فاضل چیف جسٹس نے ایک بنیادی نکتہ یہ اٹھایا ہے کہ چوری کا سراغ لگانے کا اصول چیئرمین پی ٹی آئی پر بھی لاگو ہونا چاہئے یہ سنہری اصول اگر پاکستانی معاشرے میں ہر کوئی اپنے اوپر لاگو کرلے تو ملک جنت نظیر بن جائے اور معاشرے کے تمام افراد کی زندگیاں قابلِ تقلید عملی نمونہ بن جائیں لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ مجموعی اور عمومی طور پر ہمارا رویہ اس ضرب المثل کی مانند بن چکا ہے کہ ہمیں دوسروں کی آنکھ کا تنکا تو صاف نظر آتا ہے لیکن اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا، ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ دوسروں کی زندگیاں تو مثالی ہوں لیکن کوئی ان کی زندگی کے شب و روز کی جانب دھیان نہ دے جہاں تک صادق اور امین ہونے کا تعلق ہے آئین کی دفعہ 62اور 63کے تحت کوئی شخص قومی (یا صوبائی) اسمبلی کا الیکشن اس وقت تک نہیں لڑ سکتا جب تک وہ ان اوصاف کا حامل نہ ہو، لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ الیکشن کے لئے کاغذات نامزدگی داخل کرتے وقت آئین کی اس دفعہ کی مرضی و منشا کا کماحقہ،خیال نہیں رکھا جاتا، چنانچہ ایسے لوگ منتخب ہوکر اسمبلی میں پہنچ جاتے ہیں جو اس دفعہ کے تقاضوں پر پورے نہیں اترتے، اس وقت جو خواتین و حضرات اسمبلیوں کے ایوانوں میں بیٹھے ہیں اگر ان کی زندگیوں کا فرداً فرداً جائزہ لینا شروع کردیا جائے تو بہت سے لوگ اس کے تقاضوں سے بہت دور نظر آئیں گے۔ اسی طرح اثاثوں کے بارے میں بھی جو تفصیلات جمع کرائی جاتی ہیں ان میں بھی بہت کم حقیقت بیانی سے کام لیا جاتا ہے حتیٰ کہ انتخابی مہم پر جواخراجات کئے جاتے ہیں وہ بھی قانونی حدود سے تجاوز کرجاتے ہیں لیکن اس سلسلے میں غلط بیانی سے کام لینا کوئی برائی نہیں سمجھا جاتا، فاضل چیف جسٹس کے ریمارکس کی روشنی میں دیکھا جائے تو جو لوگ اپنے رہنماؤں کی زندگیوں کو قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کے معیار پر پرکھنا چاہتے ہیں پہلے وہ خود کوتو اچھا مسلمان ثابت کریں۔

عمران خان نے چیف جسٹس کے نام ایک خط میں ان کی توجہ اس جانب مبذول کرائی تھی کہ بنی گالہ میں تجاوزات بہت بڑھ گئی ہیں درخت کاٹے جارہے ہیں اور سی ڈی اے اس جانب توجہ نہیں دیتی، ان کی درخواست کی سماعت شروع ہوئی تو سی ڈی اے نے تسلیم کیا کہ بنی گالہ میں تجاوزات ہیں سی ڈی اے کے تعمیراتی قانون کی خلاف ورزیاں بھی ہور ہی ہیں اور درخت بھی کاٹے جارہے ہیں، سی ڈی اے نے البتہ یہ بھی کہا کہ خود عمران خان اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ انہوں نے بھی تعمیراتی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے، ہم اس وقت اس بحث میں نہیں اُلجھ رہے کہ سی ڈی اے کا یہ موقف درست ہے یا نہیں لیکن اس سے یہ توواضح ہوتا ہے کہ دوسروں پر الزام لگانے والے عمران خان خود سی ڈی اے کی نظرمیں اس الزام سے بری الذمہ نہیں نکلے، یہی ہمارا قومی رویہ بن چکا ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے عمران خان کے لندن فلیٹ کی خریداری اور پھر اس کی فروخت کے بارے میں جو تفصیلات طلب کی ہیں وہ عدالت میں جمع ہوں گی تو پتہ چلے گا کہ ان کے پاس اتنی جائز اور قانونی رقوم موجود تھیں اور انہوں نے 73ء سے83ء تک کے دس برسوں میں اتنے پیسے کما اور پس انداز کرلئے تھے جن سے وہ لندن کا فلیٹ خرید سکتے، ہمیں توقع ہے اس سلسلے میں عمران خان عدالت کو مطمئن کردیں گے۔عمران خان پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ ان کی پارٹی کو غیر ملکی فنڈ ملتے ہیں الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ غیر ملکی فنڈ لے کر پارٹی نہیں بنائی جاسکتی اور اگر بنائی گئی ہو تو اس کو غیر قانونی قرار دیا جاسکتا ہے یہ الزام ان کے کسی مخالف نے نہیں ان کی پارٹی کے ایک بانی رکن نے لگایا تھا، اب چونکہ اس کیس کی سماعت شروع ہے اس لئے دونوں امور کی وضاحت ہو جانی چاہئے۔ لیکن صادق و امین تو ہر رکن اسمبلی کو ہونا چاہئے۔ سیاست دان چونکہ عوامی عہدوں کے لئے جدوجہد کرتے ہیں اس لئے ان کا بنیادی فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو آئین کی اس دفعہ کے تابع رکھیں اور محض دوسروں کو اس کا پابند بنانے کی تبلیغ وتلقین نہ کریں اپنے آپ کو بھی اس کے سانچے میں ڈھالنے کی سعی کریں۔ مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ۔

مزید :

اداریہ -