او،آئی ،سی کی طرف سے کشمیریوں کی حمایت جاری رکھنے کا عزم

او،آئی ،سی کی طرف سے کشمیریوں کی حمایت جاری رکھنے کا عزم

  

اسلامی تعاون تنظیم(اوآئی سی) کے رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر نے مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فورسز کے بہیمانہ مظالم کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مودی سرکار کی ریاستی دہشت گردی سے تنازع کشمیر حل نہیں ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے خطے کے امن کو خطرہ ہے۔ او، آئی، سی کے رابطہ گروپ نے مطالبہ کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی خواہشات اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ رابطہ گروپ کا خصوصی اجلاس او، آئی، سی کے سیکرٹری جنرل یوسف الصتیمین کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں پاکستان کے وفد کی قیادت وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کی جبکہ آزاد کشمیر کی نمائندگی وزیر اعظم آزاد کشمیر فاروق حیدر خان کی قیادت میں کشمیریوں کے حقیقی نمائندوں کی تنظیم نے کی۔ اجلاس میں کشمیریوں کو دہشت گردی سے منسلک کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ بھارتی تسلط کے خلاف کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھی جائیگی۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ او، آئی، سی رابطہ گروپ کی طرف کشمیریوں کی تحریک آزادی کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے بھارتی فورسز کے جبرواستبداد اور بہیمانہ مظالم کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ رابطہ گروپ کی طرف سے کشمیریوں کی حمایت کا فیصلہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی قرار دادوں کی روشنی میں درست ہے کیونکہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی ضمانت سلامتی کونسل کی قراردادوں میں موجود ہے۔ نہتے اور مظلوم کشمیریوں کو حق خودارادیت سے محروم رکھنے والی بھارتی فورسز کے خلاف جب آواز بلند کی جاتی ہے تو مظالم کی انتہا کرتے ہوئے مودی سرکار سمیت تمام بھارتی حکومتوں کی طرف سے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دہشت گردی قرار دیا جاتا ہے۔ عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا فوری نوٹس لے کر کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو یقینی بنانے کا فریضہ ادا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے سے خطے کے امن کومسلسل خطرہ لاحق ہے۔ رابطہ گروپ کی تازہ ترین حمایت اور بھارتی مظالم کی مذمت سے آزادی اور حریت پسندکشمیریوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بہیمانہ مظالم کے خاتمے اور مظلوم نہتے کشمیریوں کو ان کا جائز حقِ آزادی دلانے کے لئے اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرے اور مودی سرکار کے مظالم اور ناانصافیوں پر خاموش رہ کر اپنے کردار کو مزید قابلِ مذمت نہ بنائے۔

مزید :

اداریہ -