’’گُہر ہائے آبدار‘‘ اور غلطی ہائے ناہنجار (1)

’’گُہر ہائے آبدار‘‘ اور غلطی ہائے ناہنجار (1)
 ’’گُہر ہائے آبدار‘‘ اور غلطی ہائے ناہنجار (1)

  

اکثر اوقات کھانے پینے کی چیزوں کے بورڈ، ہورڈنگ وغیرہ اس اندازکے نظر سے گزرتے رہے ہیں۔:’’شاہی قلفی المعروف بابا جی قلفی والے‘‘۔۔۔ یا ’’شاہی مرغ چھولے المشہور’’گوجرانوالویہ‘‘۔۔۔! مگر ہمیں اِنہی دنوں ایک بڑی زبردست کتاب ہاتھ لگی ہے جس کا عنوان ہے:’’گُہر ہائے آبدار المعروف خزینہ‘ بیت بازی‘‘۔۔۔] قدیم وجدید مشاہیر شعرائے کرام کے منتخب اشعار کا فقید المثال مجموعہ[۔ اس کتاب کے مرتب ہیں قیصر مشہدی، جبکہ یہ کتاب زیر نگرانی محمد ظفر اقبال(بی کام ایل ایل بی) شائع ہوئی ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ نگران محمد ظفر اقبال(کراچی) کی مرتب کردہ بالترتیب حروفِ تہجی’’دو ہزار بہترین اشعار المعروف بیت بازی‘‘ اور ’’انتخابِ اشعار المعروف’’ بیت بازی ہی بیت بازی‘‘ اُردو کے تقریباً چار ہزار اشعار کا انتخاب مع ترتیب حروفِ تہجی مرتب محمد ظفر اقبال! مندرجہ بالا دونوں کتابوں کے اشعار کو مرتب قیصر مشہدی نے زیرنظر کتاب میں چُھوا تک نہیں۔ اُن کے اشعار مختلف ہیں۔ قیصر مشہدی کی اِس کاوش کو تقریظات کی صورت میں سراہنے والوں میں رئیس امروھوی۔ سلیم احمد، شاعر لکھنوی اور صہبا اختر شامل ہیں، اتفاق سے یہ سب کے سب مرحوم ہو چکے ہیں۔

معاون مرتب محمد امین اللہ اختر اور مرتب سید قیصر حسین قیصر مشہدی کے ساتھ ساتھ نگران محمد ظفر اقبال] بی کام ایل ایل بی[ کی خیریت البتہ مطلوب ہے،خدا کرے حیات ہوں اور ہماری معروضات کو درخورِ اعتنا سمجھ کر آئندہ ایڈیشن یا ایڈیشنوں میں دُرستی کرا سکیں۔کمپوزنگ کی املا کی، اور لفظ و الفاظ کی بے شمار اغلاط سے قطع نظر اشعار کی غلط بخشیوں اور ’’حامد کی پگڑی محمود کے سر‘‘ باندھنے کی طرف پہلے توجہ دِلانا چاہتا ہوں۔ صفحہ37 پر ’’ب‘‘ کی پٹی میں ایک بہت ہی مشہور بلکہ ضرب المثال شعر شائستہ بیزار کے نام سے یوں درج ہے:

بے چینیاں سمیٹ کے سارے جہان کی

جب کچھ نہ بن سکا تو مرا دِل بنا دیا

اِس مشہورِ زمانہ شعر کو ڈاکٹر ساجد امجد کراچی! (سابق ساجد رامپوری) اپنے ایک مضمون میں جگر مراد آبادی کو بھی بخش چکے ہیں جبکہ یہ شعر شائستہ بیزار یا جگر مراد آبادی کا ہر گز نہیں، نجمی نگینوی کا ہے جو کبھی لاہور کے مشہور رسالے ’’عالمگیر‘‘ کی ادارت سے بھی وابستہ رہے۔ وہ شروع میں احسان دانش کی شاگردی کا دَم بھرتے ہوئے نجمی احسانی نگینوی بھی خود کو لکھا کرتے تھے۔ صفحہ111پر’’ص‘‘ کی پٹی میں ایک مشہور شعر اصغر کے نام سے اس طرح درج ہے:

صد جلوہ رُوبرو ہے جو مژگاں اُٹھایئے

طاقت کہاں کہ دید کا احساں اُٹھایئے

جبکہ یہ شعر ہر گز حضرتِ اصغر گونڈ وی کا نہیں، بلکہ ہر عہد پر غالب میرزا اسد اللہ خاں خالب کا ہے۔ صفحہ151 پر ’’م‘‘ کی پٹی میں ایک بہت ہی مشہور شعر عدم کے نام سے یُوں درج ہے:

مزہ برسات کا چاہو تو اِن آنکھوں میں آ بیٹھو!

سفیدی ہے سیاہی ہے،شفق ہے،ابرِ باراں ہے

جبکہ یہ مشہور شعر عبدالحمید عدم کا نہیں،بلکہ ڈاکٹر عندلیب شادانی کا ہے۔

’’ظ‘‘ کی پٹی میں صفحہ116 پر ایک شعر یوں چَھپا ہُوا ملتا ہے:

ظاہر نہ ہوں جہاں پہ کہیں داغِ معصّیت

ڈھانپے ہوئے ہوں اِس لئے منہ کو کفن سے مَیں

(جاری ہے)

مزید :

کالم -