اکیڈیمک دھندہ

اکیڈیمک دھندہ
اکیڈیمک دھندہ

  

سینہ بہ سینہ علم کے دور تو خیر کب کے لد چکے ایک زمانہ تھا، جب علم کے حصول کے لئے انسان دور دراز کا سفر کرتا اور اس کام کے لئے پوری زندگی وقف کر دیتا شاید یہی وجہ ہے کہ ہماری سنسکرتی تہذیب میں برہمچاری کو بہت تعظیم کی نگاہ سے دیکھا جاتا، ظہورِ اسلام کے بعد تو اہلِ اسلام کی ایک مسلسل علمی روایت موجود رہی ہے جو ہمارے علم و حکمت کے شاندار ماضی کی عکاس ہے، ہندوستان میں بھی حصولِ علم کی روایت بہت مضبوط تھی، بے شک ہمارے پاس شاندار سکول اور کالج نہیں تھے بیٹھنے کے لئے فارمیکا کے ڈیسک اور بینچ نہیں تھے، مگر جھنڈ کے سائے تلے بیٹھ کر ہم نے حصولِ علم کی وہ روایت رقم کی کہ جس کی مثال شاید ہی کسی تہذیب میں موجود ہو دنیا کی پہلی باقاعدہ یونیورسٹی براعظم ایشیاء ہی میں قائم ہوئی، جس کو تیکشلا یونیورسٹی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور جو ٹیکسلا (موجودہ پاکستان) میں قائم کی گئی تھی، جس کے بوسیدہ آثار آج بھی ہمارے شاندار ماضی کے غماز ہیں، ہمارے تعلیمی نظام میں معیار اور محنت کا گلا گھونٹے والے لارڈ میکالے نے ہمیں اپنا مستقل غلام بنانے کے لئے انگلش ایجوکیشن ایکٹ 1835ء کے تحت جو نصاب ترتیب دیا تھا، وہ آج بھی من و عن ہمارے ہاں رائج ہے، جبکہ اس سے قبل ہم علم اور دھندے (بزنس) میں خاطر خواہ تفریق کیا کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ ہمارے رشی منی اور مولوی اپنی تمام عمر علم و حکمت کے لئے وقف کر دیتے چاہے، ان کے معاشی حالات انتہائی بحران رسیدہ کیوں نہ رہتے، مگر وہ اپنے عزم اور مقاصد میں یگانہ روزگار تھے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت جدید وسائل اور ٹیکنالوجی کے حامل وہی لوگ ہیں، جنہوں نے صدیاں ہمیں اپنا فکری اور معاشی غلام بنائے رکھا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جس قوم میں ملی شعور اور اپنی تہذیب پر مضبوط تفاخر موجود ہے، وہ اس اَمر کو خاطر میں نہیں لاتے کہ جدید وسائل پر کس کا قبضہ ہے، اس کی مثال ہمارے پڑوس چائنہ کی دی جا سکتی ہے، میں ایک مختصر سا عرصہ چائنیز کے ساتھ رہ چکا ہوں، یہ قوم بہت خوددار اور اپنی تہذیب پر فخر کرنے والی ہے، انہیں نہ صرف اپنی زبان پر ناز ہے، بلکہ اپنی بود و باش کو دنیا کی سب سے بہترین بود و باش سمجھتے ہیں، یہ قوم علمی لحاظ سے کسی طرف منہ نہیں کرتی اور دنیا کی واحد قوم ہے جو علم و تعلیم کو دھندہ نہیں سمجھتی۔

ہمارے ہاں اب تعلیمی نظام مکمل طور پر ایک دھندے کی شکل اختیار کر چکا ہے اور ہمارا اُستاد ایک منجھا ہوا بزنس مین بن چکا ہے، ڈگری جو کسی زمانے میں علم و حکمت کی ضمانت سمجھی جاتی آج صرف حصولِ معاش کا ایک پروانہ بن چکی ہے، مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے انتہائی پسماندہ ترین گاؤں میں بھی چار پرائیویٹ سکول ہیں اور وہ اپنا کاروبار بہت عمدہ طریقے سے چلا رہے ہیں، اگر ہمارے سرکاری سکول بھوت بنگلہ نہ بن چکے ہوتے تو شاید آج یہ اکیڈیمک دھندہ اتنا جڑ نہ پکڑتا ملک کے کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے شہر میں سروے کرکے دیکھ لیں حمام نہیں ہو گا، لیکن پرائیویٹ سکول ضرور موجود ہوں گے کیوں؟

کیا ہم اس قدر پڑھی لکھی قوم ہیں؟ بالکل بھی نہیں ہمیں پڑھنے لکھنے سے کوئی مطلب نہیں ہمارا مقصد تو محض حصولِ معاش ہے ہمارے ہاں تعلیم ایک مہنگا فیشن بن چکی ہے اور یہ فیش متعارف کروانے والے ہمارے پرائیویٹ سکول، کالج اور یونیورسٹیاں ہیں، آئے روز کوئی نہ کوئی پرائیویٹ یونیورسٹی لاؤنچ ہو رہی ہے، گویا جس کے پاس چار پیسے ہیں، وہ اسی دھندے میں انویسٹ کر رہا ہے، ہمارے ایک دوست میونسپل کارپوریٹ رہ چکے ہیں، عوامی نمائندگی کے دوران خوب کمایا جب ان کا پانچ سالہ دور ختم ہوا تو انہوں نے ایک لاء کالج بنا لیا شہر میں، مجھے معلوم ہوا تو احوال دریافت کرنے ان کے آفس پہنچ گیا، جب انہیں پرنسپل کی سیٹ پر براجمان دیکھا تو زمین نکل گئی پیروں سے، میں نے عرض کیا کہ ناظم صاحب یہ کیا بات ہوئی، ایک تحصیل ناظم لا کالج کیسے قائم کر سکتا ہے؟ وہ مسکرا کر کہنے لگے مرشد آپ بھی کمال کرتے ہیں، ہماری پارٹی کو اقتدار میں آتے آتے پانچ سال لگ جانے ہیں، تب تک کوئی روزی روٹی کا تو بندوبست کرنا تھا، تھوڑی سی رقم پاس تھی، سوچا اسی شعبہ میں انویسٹ کر دوں آپ پریشان نہ ہوں میں نے بڑے تگڑے وکیل رکھ لئے ہیں، پڑھانے کے لئے، واقعی ہمارے ہاں سب کچھ مل جاتا ہے بس پیسہ لگانے کی دیر ہے۔

فطرت کے اس انتہائی بنیادی اصول کو ہم کیسے بھول سکتے ہیں کہ ہر انسانی ذہن حصولِ تعلیم کے لئے نہیں پیدا ہوتا، ہم جانتے ہیں کہ دنیا کے مقبول ترین انسان محمد کریم ؐاپنے زمانے کی فارمل ایجوکیشن کے حامل نہیں تھے، اس دنیا کی ہیئت بدلنے والی ان گنت شخصیات اپنے زمانے کی رسمی تعلیم کی حامل نہیں تھیں، ہم اگر تاریخ دنیا کا بغور مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ دنیا میں ایسے کئی ایک اعلیٰ صفات انسان موجود رہے ہیں جو نہ تو رسمی تعلیم کے حامل تھے، نہ ہی معقول معیشت کے حامل، مگر پھر بھی انہوں نے فطرتی ذہانت سے دنیا کے سوچنے کے انداز بدل دیئے مدراس کے ایک انتہائی پسماندہ گاؤں اروڑ میں پیدا ہونے والے غریب تامل بچے شری واستو رانوجن جن کے پاس نہ تو تعلیم حاصل کرنے کے پیسے تھے، نہ ہی پیٹ پالنے کے، مگر پھر بھی انہوں نے اریتھی میٹکس میں ناقابلِ یقین تحقیق پیش کرکے دنیا کو انگشت بدنداں کر دیا، اسی طرح سائیکل مرمت کرنے والے رائٹ برادران بھی کسی مہنگے سکول کے پڑھے ہوئے نہیں تھے، جنہوں نے دنیا کو جہاز بنا کر دکھایا علم اور فن میں مہارت بغیر کسی مہنگے سکول میں پڑھے ہوئے بھی آسکتی ہے، کیونکہ انسانی فطرت فی نفسہ ذہانت پر منحصر ہے، ہاں تربیت کا اہتمام ضروری ہے صرف حصولِ ڈگری کے لئے بچوں کو اچھے سکول اور یونیورسٹیوں میں داخل کرنا پڑھے لکھے احمق پیدا کرنے کے مترادف ہے ۔

مزید :

کالم -