ہوئے تم دوست جس کے؟

ہوئے تم دوست جس کے؟
ہوئے تم دوست جس کے؟

  


ہوئے تم دوست جس کے ؟یہ جو حضرات گلا پھاڑ پھاڑ کر۔ رگیں پھلا اور چیخ چیخ کر ایک دوسرے کو چیلنج کرتے ہیں، یقین مانئے ان کی بھاری اکثریت کا تعلق اس صنف سے ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دودھ پینے والے مجنوں ہیں ان سے خون دینے کی توقع نہ رکھیں، قارئین ہم نے حالیہ بحران میں کم لکھنے کی کوشش کی اور جب بھی کچھ گزارشات پیش کیں تو میانہ روی کی درخواست کی کہ اعتدال ہی بہترین عمل ہے، لیکن یہاں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ معاشرے میں عدم توازن کا شکوہ کرنے والے یہ لیڈر نما حضرات خود اپنا توازن کھو بیٹھے ہیں کہ یہ دلیل سے زیادہ الزام تراشی سے کام لیتے ہیں، انہی عادات وحالات کی وجہ سے اس وقت ملک میں ایک کشمکش اور مقابلے کی فضا پیدا ہوچکی ہے اس میں سچ تلاش کرنا مشکل ہوگیا ہوا ہے۔

ہمارا موقف روز اول سے واضح ہے کہ عدالتی کارروائی میں مداخلت نہیں ہونا چاہئے اس سے مراد یہ ہے کہ جس روز سماعت ہو اس دن جو کارروائی عدالت میں ہو جائے وہی نشر اور تحریر ہو اور اس پر کوئی تبصرہ یا تجزیہ نہ کیا جائے ، یہی اصول ہے ہم نے اپنے صحافتی کیرئیر کے آغاز میں سات سال تک عدالتی رپورٹنگ ایک مستقل بیٹ کی حیثیت سے کی اور باقی امور (سیاسی+ سماجی+ معاشرتی) بعد میں آتے تھے۔ اپنے اس دور میں بڑے بڑے مقدمات زیر سماعت آئے اور کئی کمشن بنے اور کارروائی ہوئی، لیکن ان سب کی رپورٹنگ ایسی نہیں ہوئی جیسی اب ہو رہی ہے ، فاضل جج حضرات خود بھی کم سے کم ریمارکس دیتے البتہ وکلاء یا گواہان سے استفسار ضرور کرتے تھے اور اشاعت یاتشہیر سماعت سے متعلق امور کی ہوتی تھی، لیکن آج یہ صورت حال نہیں، آج تو جہاں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے ’’جوڈیشل ایکٹو ازم‘‘ کا سلسلہ جاری ہے وہاں نشریات اور اشاعت بھی ہٹ کر ہور رہی ہے اور عدالتی کارروائی پر تبصرے اور تجزیئے بھی ہوتے ہیں، حد تو یہ ہے کہ کمرہ عدالت میں سماعت مکمل ہونے کے بعد سارے سیاسی فریق باہر آکر دل کا غبار نکالنا شروع کردیتے ہیں، جہاں صحافتی ’’ہائیڈپارک‘‘ کا سماں ہوتا ہے اور جو کچھ کہا جائے براہ راست نشر ہوتا چلا جاتا ہے حتیٰ کہ توہین آمیز نوعیت کے فقرے بھی چل جاتے ہیں ، ہماری مودبانہ رائے کے مطابق فاضل عدالت کو ابتداہی میں یہ سلسلہ روک دینا چاہئے تھا اگر ایسا ہوتا تو موجودہ مشکل صورت حال پیدا نہ ہوتی۔ اس وقت ملک میں جو صوت حال ہے اس کے مطابق پاناما لیکس اور اس سے متعلق جے، آئی، ٹی اور سماعت عوامی ذہنوں پر مسلط ہوچکے ہیں اور سوتے جاگتے اس پر تبصرے جاری ہیں، ایسا ہی گھروں سے باہر بھی ہو رہا ہے، حتیٰ کہ بعض حضرات جان بوجھ کر بھی کرتے ہیں ہمارے خیال میں اب تک جو ہو چکا، ہو گیا، آئندہ کے لئے اس کا سدباب ہو جانا اور اعصاب کے امتحان کا سلسلہ ختم ہونا چاہئے۔

یہ ذرا دل کی بات تھی جو کہہ دی، اصل گزارش تو یہ ہے کہ پاناما لیکس کے حوالے سے اب تک جو کچھ ہوا اور جو اب ہور رہا ہے، اس کی وجہ سے پوری قوم مضطرب اور ہیجان میں مبتلا ہے، لوگ ایک دوسرے سے بات کرتے ہوئے جذباتی ہو جاتے اور لڑتے ہیں، یہ کوئی اچھا منظر نہیں۔ملک میں سیاسی محاذ آرائی کے باعث کام کاج مندے ہوگئے سٹاک مارکیٹ کریش کرگئی، ڈالر تگڑا اور روپیہ مزید کمزور ہوگیا، اس سے اندازہ لگالیں کہ ملک کی معیشت کدھر جارہی ہے اس صورت حال میں عوامی مسائل پس پشت ڈال دیئے گئے تو درست تاہم یہاں تو صورت حال مختلف ہے، پوری قوم ہی ہیجان میں مبتلا ہے ، لوگ ایک دوسرے کے گلے بھی پڑجاتے ہیں۔ ان دنوں جے، آئی،ٹی کی رپورٹ زیربحث ہے اس کے لئے سماعت آئندہ پیر 17 جولائی کو ہونا ہے اور لیکن یہاں حالات یہ ہیں کہ فریقین باہر نکل آئے اور ایک دوسرے کو مبارک بادیں دے رہے ہیں، حالانکہ جے، آئی ، ٹی کی رپورٹ اور خودسیاسی راہنماؤں کے اپنے اختلافی بیانات کی وجہ سے ان کا عمومی تاثر (Perception) بہت بری طرح مجروح ہوا ہے، اور ان حضرات کو احساس ہی نہیں۔

ایک مرتبہ پھر سیاسی ہلچل اور جوڑ توڑ کی بات کی جارہی ہے اور کمزور پرندے اپنے لئے نیا گھونسلا تلاش کرنے کی فکر میں بھی مبتلا ہوگئے ہیں، تازہ ترین حالات کے مطابق اب سیاسی جماعتوں میں گروپ بن گئے ہیں جو حالات کے مطابق وفاداری برقرار رکھے ہوئے ہیں لیکن یہ استواری والی نہیں ہے یہاں ’’چانس‘‘ رکھے گئے ہیں اور ایک مرتبہ پھر عوامی سطح پر ’’سیاسی چہرہ‘‘ ’’سیاسی عمل‘‘ متاثر ہوئے ہیں، یہ اچھی بات نہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ عدلیہ ان حالات کو کنٹرول کرے اور خود سیاسی جماعتیں اور راہنما ’’پرسیپشن‘‘ بہتر بنانے پر توجہ دیں، حقائق سیدھے سادے ہیں، معاملہ سپریم کورٹ کی فاضل سہ رکنی بنچ کے پاس ہے اور جو بھی ہونا ہے اس فیصلے کے بعد ہی کی بات ہے سماعت 17جولائی(پیر) کو ہے، لیکن میدان بہت گرم کردیا گیا ہے، اس میں عوامی مسائل نظر انداز ہورہے ہیں بہتر عمل تو یہی ہوسکتا ہے کہ آپ نے اپنا موقف پیش کردیا اور اب عدالت میں باقاعدہ سماعت ہوگی۔ فریقین اپنے اپنے ثبوتوں سمیت کارروائی میں حصہ لیں، اب بھی وقت ہے کہ عدالتی کارروائی بنیادی اصولوں کے مطابق ہو اور عدالتی کارروائی سے باہر یا ماوراء باتوں سے مکمل گریز کیا جائے۔ معاملہ بہر حال عدالت عظمیٰ کے پاس ہے اور کمرہ عدالت ہی میں سماعت ہونا ہے، عدالتی احکام پر غور کیا جائے اور کارروائی کے سوا باقی ہر مسئلہ پر بیان بازی سے رکا جائے۔

مزید : کالم


loading...