سیاست اور عدالت کے فرق کو سمجھیں

سیاست اور عدالت کے فرق کو سمجھیں
سیاست اور عدالت کے فرق کو سمجھیں

  

جے آئی ٹی نے اپنی تفتیشی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی ہے اور یہ رپورٹ وزیراعظم سمیت ان کے تمام بچوں کے خلاف ہے۔ ہم جے آئی ٹی کی رپورٹ سے اختلاف کریں یا اتفاق، تاہم جے آئی ٹی کے تمام ممبران کی اس غیر معمولی ہمت اور حوصلے کو تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ تمام تر دھمکیوں اور حکومت کی طرف سے خوف زدہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کے باوجود جے آئی ٹی نے ملک کے طاقتور ترین وزیراعظم نوازشریف اور ان کے خاندان کے خلاف رپورٹ مرتب کر کے سپریم کورٹ میں پیش کردی ہے۔ جے آئی ٹی کی اس رپورٹ کی روشنی میں حتمی فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے، اس لئے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا جے آئی ٹی کی رپورٹ کے خلاف بہت زیادہ جذباتی ہوجانا اور شدید غم و غصے کا اظہار درست نہیں۔ ہمارے خیال میں سپریم کورٹ میں اور اس کے بعد جے آئی ٹی کی تفتیش کے دوران بھی شریف خاندان نے اپنے اثاثوں، بالخصوص برطانیہ میں پنی جائیدادوں کے حوالے سے اپنے موقف کو صحیح طور پر پیش نہیں کیا۔ اگر سپریم کورٹ میں شریف خاندان والے اپنے مقدمے کے حق میں دلائل اور ناقابل تردید ثبوت و شواہد پیش کرنے میں کامیاب ہو جاتے تو شاید جے آئی ٹی کی تشکیل کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ نوازشریف نے خود اور ان کے حامیوں نے اپنا مقدمہ میڈیا اور عوام کی عدالت میں زیادہ لڑا ہے اور عدالت اور اس کے بعد جے آئی ٹی میں اپنے مقدمے پر کم توجہ دی۔۔۔ یہ بھی ممکن ہے کہ سپریم کورٹ میں عمران خان اور جماعت اسلامی کی طرف سے نوازشریف اور ان کے خاندان کے خلاف جو درخواستیں دائر کی گئی تھیں اور پاناما لیکس میں شریف فیملی کے خلاف جو انکشافات کئے گئے تھے، اس کا کوئی جواب شریف خاندان کے پاس نہ ہو۔ یہی وجہ ہوسکتی ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے سے پہلے ہی جے آئی ٹی کو حکومتی حلقوں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیا گیا تھا۔ نوازشریف نے خود براہ راست ایک مرتبہ نہیں کئی بار اور کئی مواقع پر جے آئی ٹی کے کردار پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ اس طرح کا موقف بھی اختیار کیا گیا کہ نوازشریف کے احتساب کا حق ملکی اداروں کو نہیں،بلکہ صرف عوام ہی نوازشریف یا دوسرے سیاست دانوں کے احتساب کا حق رکھتے ہیں۔

یہ عجیب منطق ہے کہ سیاست دان اگر کرپشن میں بھی ملوث ہوں تو ان کے خلاف ملک میں موجود کسی بھی ادارے، نیب، ایف آئی اے اور انٹی کرپشن کے دیگر اداروں کو احتساب کے حق سے محروم کر دیا جائے اور صرف عام انتخابات ہی کو واحد ذریعہ احتساب تسلیم کرلیا جائے۔ اگر یہ منطق درست ہے تو پھر احتساب کے حوالے سے تمام ملکی قوانین میں ترمیم کر دینی چاہیے کہ انٹی کرپشن کے تمام قوانین سیاست دانوں کے خلاف غیر موثر قرار دیئے جاتے ہیں۔ نواز شریف اور شہبازشریف دونوں نے یہ کہا کہ پاناما صرف افسانہ ہے۔ عوام آئندہ انتخابات میں بھی مسلم لیگ (ن) ہی کو بھاری اکثریت کے ساتھ منتخب کریں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے چار وفاقی وزراء نے بھی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جے آئی ٹی کی رپورٹ کو ردّی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔اگر جے آئی ٹی کی رپورٹ کا مطالعہ کیا جائے تو جے آئی ٹی نے شریف خاندان کی طرف سے اپنی صفائی میں پیش کردہ تمام دستاویزات کو ناقابل اعتبار، بلکہ جعلی قرار دے دیا ہے۔

ہونا یہ چاہیے کہ پاناما مقدمے کے تمام فریقین جے آئی ٹی کی رپورٹ کو انصاف تک پہنچنے کے قانونی مراحل میں سے ایک مرحلہ سمجھیں۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ کو کسی بھی فریق کی طرف سے سازش قرار دینا درست نہیں ہے۔ یہ کہنا بھی ہرگز صحیح نہیں کہ نوازشریف کو غیر آئینی اور غیرقانونی طور پر حکومت سے الگ کرنے کے لئے کوئی سازشی منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے اور جے آئی ٹی کی رپورٹ اس سازش کا حصہ ہے۔ جب5 جولائی کو مریم نوازشریف جے آئی ٹی کے سامنے تفتیش کے لئے پیش ہوئی تھیں تو انہوں نے اپنی پیشی کے بعد اخبار نویسوں سے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ اگر کچھ حلقے نوازشریف کے خلاف سازشوں سے باز نہ آئے تو پھر ڈریں اس وقت سے جب نوازشریف ایسی سازشوں کو مجبور ہوکر بے نقاب کردیں گے۔ فی الحال تو جے آئی ٹی نے شریف خاندان کی کاروباری زندگی کے ان گوشوں کو بے نقاب کر دیا ہے جو ان اثاثوں سے متعلق ہے جو جائز آمدن سے نہیں خریدے گئے۔ مریم نوازشریف لندن میں اپنی جائیداد سے انکار کرتی رہیں، مگر جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق مریم نوازشریف نے درست بیانی سے کام نہیں لیا۔

مسلم لیگ (ن) کوئی سا دعویٰ بھی کرے، یہ حقیقت ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد نوازشریف اور ان کا خاندان ایک ایسی مصیبت میں مبتلا ہو گیا ہے، جس سے نکلنا ان کے لئے آسان نہیں ہو گا۔ کرپشن کے جن الزامات کو نوازشریف جعلی قرار دیتے رہے ہیں: وہ ان الزامات کو سپریم کورٹ میں بھی جھوٹا ثابت نہیں کرسکے تھے اور اب جے آئی ٹی کے سامنے بھی شریف فیملی اپنی بے گناہی ثابت نہیں کرسکی: بلکہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد پاناما سے بھی کچھ زیادہ معلومات سامنے آگئی ہیں، جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے شریف فیملی کے اثاثے ان کی آمدن سے زیادہ ہیں۔ اب بھی نوازشریف اور ان کے خاندان کے لئے درست راستہ یہ ہوگا کہ وہ میڈیا کے بجائے اپنا مقدمہ سپریم کورٹ میں زیادہ توجہ سے لڑیں۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ کو سنجیدگی کے ساتھ لیا جائے اور اپنے مقدمے کو سیاسی بنانے کی بجائے قانونی انداز میں آگے بڑھایا جائے، پھر سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کو خوش دلی سے قبول کیا جائے۔۔۔ اگر نوازشریف اپنے حامیوں کے مشوروں کو رد کر کے سپریم کورٹ کے کسی فیصلے سے پہلے خود وزیراعظم کے عہدے سے استعفا دے دیتے ہیں تو ان کا یہ فیصلہ جرأت مندانہ ہوگا اور اس اصولی اور اخلاقی فیصلے کی وجہ سے ان کے احترام میں اضافہ ہو گا۔ محاذآرائی کی فضا قائم کرنے سے ان کے ہاتھ میں پہلے بھی کچھ نہیں آیا اور جو رویہ جے آئی ٹی کے حوالے سے حکمران طبقے نے اب تک اپنائے رکھاہے، اگر ایسا ہی ماحول سپریم کورٹ کے بارے میں بھی بنائے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تو یہ طرزعمل خود شریف خاندان کے مستقبل کے لئے ہی تباہ کن ثابت ہوگا۔عدالتوں میں مقابلہ قانون اور قانونی نظائر سے ہوتا ہے۔ زور بازو کبھی عدالتوں میں کامیاب نہیں ہوا۔ سیاست کے میدان میں بعض اوقات نا معقول اور غیر محتاط رویے بھی عوام قبول کر لیتے ہیں، لیکن معاملہ عدالت کاہو تو پھر سیاست دانوں کو باؤنسر،چوکے چھکے مارنے اور نوبال کرانے کا رویہ ترک کردینا چاہیے۔ عدالت میں دلیل کی زبان اور قانونی فہم و دانش ہی سود مند ثابت ہوتی ہے۔ جے آئی ٹی کو اگر خود نوازشریف اور ان کے خاندان کے دیگر افراد بچوں کا کھیل نہ سمجھ لیتے تو شاید جے آئی ٹی کی رپورٹ مختلف ہوتی۔ اب بھی شریف خاندان کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ سیاست اور عدالت کے فرق کو سمجھیں اور صرف ان باتوں پر زورنہ دیں کہ ان کے خلاف کسی سازشی منصوبے پر عمل ہورہا ہے، بلکہ مقدمے کو مقدمے کے طور پرلیں اور خالص قانونی انداز میں اپنی جنگ لڑیں۔

مزید :

کالم -