نسلِ نو کی ذہنی تشکیل اور جامعات کا کردار

نسلِ نو کی ذہنی تشکیل اور جامعات کا کردار

  

اگرچہ یہ ایک غیر معمولی بات ہے مگر اس امر میں کوئی شک بھی نہیں کہ پاکستان کا شمار اس وقت دنیا بھر کی سب سے زیادہ گنجان آبادی والے ممالک میں چھٹے نمبر پر ہوتا ہے ۔ البتہ یہ بات اطمینان کن ہے کہ پاکستان میں اس گنجان آبادی کا تناسب اس لحاظ سے بابرکات ہو چکا ہے کہ اس کل آبادی کے لحاظ سے افرادی قوت کے اضافہ میں انتہائی تیزی آچکی ہے۔ کیونکہ پاکستان کی تقریباً نصف آبادی بیس سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے جبکہ 60 فیصد آبادی ان لوگوں پر مشتمل ہے جن کی عمر یں 30 سال سے کم ہیں ہمارے یہ تمام کم عمر اور نو عمر لوگ ایک ایسے وسیع و عریض لیاقتوں بھرے خزانہ کی حیثیت رکھتے ہیں جن کو کہ دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک رشک بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔

ماہرین معاشیات کا خیال ہے کہ پاکستان کو اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اور اس ترقی یافتہ حیثیت سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اس ’’آبادیاتی برتری‘‘ سے مستفید ہو کر صورت حال کو مزید بہتر بنانے کی جانب راغب ہونا چاہیے۔ ایک مختلف تناظر اور ایک کم خوشامدانہ زاویۂ نظر سے نگاہ دوڑاتے ہوئے مندرجہ بالا حقائق اپنے اندر اس سے بھی زیادہ توانائی چھپائے ہوئے ہیں جتنی کہ ہمیں بظاہر نظر آرہی ہے ۔

دس کروڑسے زائد نوجوان آبادی کے اس سمندر کے متعلق البتہ یہ امر پریشان کن ہے کہ انہیں اپنے ارد گرد کے ماحول کے علاوہ دنیا کا کچھ علم نہیں اور یہ امر ہمیشہ خلاف معمول رہا ہے ۔ اس نوجوان آبادی نے اس وقت تک جو ماحول و فضا ورثہ میں پائی ہے وہ مذہبی انتہا پسندی، تشدد، عدم برداشت، بد عنوانی اور اسی طرح کی علتوں سے بھری پڑی ہے اور اس کا سہرا ان کٹّراور انتہا پسند عناصر کے سر بندھتا ہے جو تقریباً گذشتہ تین دہائیوں کے دوران عوام کی سماجی ، اخلاقی اور ذہنی ترقی کے خلاف ایک بند باندھ کر کھڑے رہے اور عوامی سطح پر ترقی کے اس ہدف کو حاصل کرنے میں سد راہ بنے رہے جو کہ اصلاً عوام کا حق تھا۔

ذات ، نسل اور عقیدہ سے بالاتر ہو کر ہم سب کے لیے اس وقت یہ امر سب سے اہم ہے کہ ہم سب متحد ہو کر اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرتے ہوئے ان بنیاد پرست قوتوں کی جانب سے پہنچائے جانے والے نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے ایک پختہ دیوار بن کر کھڑے ہو جائیں او ر اپنی نوجوان نسل کو غم کا لبادہ اتارنے اور اپنی تقدیر کو سنوانے کا موقع مہیا کرنے میں مددگار ثابت ہوں۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل میں یقین و ایمان پیدا کرتے ہوئے انہیں یہ احساس دلانا ہو گا کہ ابھی پانی سر سے نہیں گذرا اور اب بھی پاکستان کو خوشحال اور امن پسند معاشرہ بنانے کے لیے بہت کچھ کیا جا سکتا ہے ۔

میں نے اس امر پر ہمیشہ زور دیا ہے کہ ہمارے اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں وہ لیاقت و صلاحیت موجود ہے جو قوم کی تقدیر سنوارنے میں کام آسکتی ہے اور ان اداروں کو اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ہماری قومی تاریخ کے اس نازک موڑ پر معاشرتی و سماجی امن و استحکام کے فروغ اور باہمی تعاون سے ایک امن پسند سوسائٹی کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے اپنی خدمات کو وقف کر دینا چاہیے۔

نوجوان نسل کو اپنی شناخت سے آشنا کروانے اور اعتبار و یقین کو از سر نو منظم کرنے کے لیے پوری قوم اور خاص طور پر اہل حل و عقد کو کوشش کرنے کی از حد ضرورت ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے تمام نگاہیں اعلیٰ تعلیمی اداروں کا طواف کرتی ہوئی نظر آتی ہیں کہ وہ اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے اپنی خدمات کو قوم کے لیے اطمینان بخش ثابت کریں۔ قوم کو امن و استحکام کی جانب لے جانے کے لیے صرف حقیقت کا ادراک ہی کافی نہیں بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ہمیں امن ، امید اور آشتی کا ایک نیا بیانیہ تشکیل دینے اور اس پر از سر نو کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اور یہ بہت بڑا اور انتہائی اہمیت یافتہ کردار ہے ۔ یہ جامعات کی اس بنیادی خدمت یعنی ترسیل علم سے کہیں زیادہ مختلف اور انوکھی نوعیت کا ہے۔ جامعات کو نوجوان طلبہ کی تعمیر کردار پر انتہائی توجہ مبذول کرتے ہوئے انہیں مستقبل میں ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کے قابل بنانے کی ضرورت ہے ۔

اپنے تعلیمی سفر کے اختتام پر طلبہ کو متوازن و معتدل مزاج شخصیت میں ڈھالتے ہوئے ایک اہم قومی خدمت کی تکمیل کی جاسکتی ہے ۔ اور اس مقصد کے حصول کے لیے انہیں ذہنی طور پر اپنی سر زمین سے روابط مضبوط رکھنے کی تربیت دینے کی ضرورت ہے ۔ مگر ہماری جامعات ابھی تک اپنی اس سب سے اہم ذمہ داری کو سنبھالنے کے قابل نہیں ہو سکیں ۔

اس حقیقت کے باوجود کہ ہم آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا حصہ ہیں اور ہمارے بہترین طالب علم جن کو کہنے کو تو جدید ترین اور تازہ علوم سے آراستہ کر دیا گیا ہے مگر ان کی تعمیر شخصیت ، ذہنی جدت میں کوئی خاطر خواہ اضافہ کرنے کا اہتمام نہیں کیا جا سکا اور نہ ہی ان کی شخصیتوں اور نہ ہی ہمارے نظام میں اعتماد و تیقن کو بحال کرنے میں ابھی تک کوئی کامیابی حاصل ہو سکی ہے ۔

ہماری جامعات صرف اور صرف اسناد مہیا کرنے والے ادارے بن کر رہ جائیں گی اگر انہوں نے اپنے ہاں تربیت پانے والے نوجوان اذہان کی تشکیل نو جیسی اہم ذمہ داری کو نظر انداز کیے رکھا۔ اطمینان قلب کے لیے صرف یہی امر کافی نہیں کہ ہمارے ملک میں نوجوان لوگوں کا ایک بہت اہم سرمایہ موجود ہے ۔ ہم ابھی بھی عالمی سطح پر 80 ممالک کی حالیہ جائزہ رپورٹ کے مطابق تعلیمی حوالہ سے نچلی سطح پر ہیں۔ 2017ء کے بہترین ممالک کے جائزہ میں قومی ورثہ کے حوالہ سے ہم 67ویں ، کاروبار کے حوالہ سے 68 ویں، خواتین کے حقوق کے حوالے سے 70ویں، شفافیت کے حوالہ سے 76 ویں اور معیار زندگی وغیرہ کے حوالہ سے 77 ویں نمبر پر ہیں۔ ہمیں اس تاثر کو بدلنے کی ضرورت ہے جس کے حوالہ سے باقی دنیا ہم پر نظر دوڑاتی ہے ۔ ہر وہ فردجو کسی بھی حوالہ سے کوئی خدمت سر انجام دینے کے قابل ہے ، اسے آگے بڑھ کر تعمیر معاشرہ میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ جامعات کو اس سلسلہ میں ایک نتیجہ خیز کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس معاشرہ کی ہیئت کاملہ کو مثبت سمت میں لے جانے اور ایک خوش آئند سماجی تبدیلی کے لیے جامعات کو ایک نئے عمرانی معاہدہ پر عمل پیرائی کی ضرورت ہے ۔ اگر اب بھی جامعات نے اپنی حقیقی ذمہ داریوں سے پہلو تہی برتی تو پھر ترقی یافتہ دنیا اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہمارے نوجوان اذہان کو برتنے کا عمل جاری رکھے گی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -