انتخابی منشور پر عملدرآمد کرانے کیلئے ایک طاقتور ادارہ بنایا جائے،شوریٰ ہمدرد

انتخابی منشور پر عملدرآمد کرانے کیلئے ایک طاقتور ادارہ بنایا جائے،شوریٰ ...

  

لا ہور(سٹی رپورٹر)پاکستان سے محبت اور اسکی تعمیر کا دعویٰ تو ہر سیاسی جماعت کے انتخابی منشور میں کیا ہی جاتا ہے لیکن عمل اُسکے بالکل برعکس نظر آتا ہے ۔قومی یکجہتی ،تعمیر و ترقی اور جمہوریت کے تسلسل کے لیے ضروری ہے کہ آئندہ انتخابی اصلاحات میں دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ زبان و بیان کے لیے ضابطۂ اخلاق اور اعلان کردہ انتخابی منشور پر عمل در آمد یقینی بنانے کے لیے کوئی ایسا طاقتور ادارہ وجود میں لایا جائے جو عام پاکستانی کے مفادات کا خیال رکھتے ہوئے سیاسی جماعتوں کو نہ صرف حدود کا پابند کرے بلکہ آئندہ پانچ سال تک انتخابی منشور میں اعلان کردہ وعدوں پر عمل در آمد کی نگرانی کا فریضہ بھی ادا کرسکے۔سیاسی جماعتوں اور اُنکے راہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے پر تنقید میں جسطرح تندی و تیزی آئی ہے وہ واضح طور پر اشارہ ہے اس بات کا کہ یہ سب کچھ آئندہ انتخابی مہم کا حصہ ہے ۔ ان خیالات کا اظہار ’’آئندہ عام انتخابات ۔ضابطۂ اخلاق اور سیاسی منشور پر عمل در آمد کی نگرانی‘‘کے موضوع پر گذشتہ روزشوریٰ ہمدرد کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اراکین نے کیا۔مقررین میں بشریٰ رحمن،لیاقت بلوچ ، نوید چوہدری،جسٹس (ر)ناصرہ اقبال ، برگیڈیئر (ر) حامد سعید اختر، میجر(ر)صدیق ریحان ،خالدہ جمیل چوہدری ،ڈاکٹر پروین خان ،پروفیسرخالدمحمود عطاء،جمیل بھٹی، فاطمہ قمر، شہریار اصغر ،طفیل اختر،جی ایم لالی و دیگر نے شرکت کی۔جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان کے انتخابات میں انتخابی ضابطہ اخلاق ایک معمول کی کارروائی بن کر رہ گئی ہے ،نہ سٹیک ہولڈرز اسکو اہمیت دیتے ہیں اور نہ ہی الیکشن کمیشن اس کی خلاف ورزی پر کوئی گرفت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں اور انکے اُمیدواروں سے طے شدہ انتخابی اخراجات کی پابندی کروائی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو تنبیہ کی جائے ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -