جبوتی: چین کے فوجی دستے پہلے غیرملکی فوجی اڈے کے لیے روانہ

جبوتی: چین کے فوجی دستے پہلے غیرملکی فوجی اڈے کے لیے روانہ

بیجنگ(آن لائن)چین کے سرکاری میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ بیرون ملک چین کا پہلا فوجی اڈہ قائم کرنے کے لیے فوجی دستے بحری راستے سے جبوتی کے لیے رواں دواں ہیں۔چین افریقی ملک جبوتی میں اس امریکی اڈے کے قریب اپنا پہلا فوجی اڈہ قائم کر رہا ہے جسے امریکہ مشرق وسطی اور افریقہ میں اپنی بڑی اور اہم فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے۔چین کا کہنا ہے کہ اس اڈے کے ذریعے افریقہ اور اس کے مغربی علاقوں میں امن کے قیام اور انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر کیے جانے والے اقدامات میں معاونت فراہم کی جائے گی۔چینی خبررساں ادارے زن ہوا کا کہنا ہے کہ اس فوجی اڈے کو فوجی تعاون، بحری مشقوں اور ریسکیو مشن کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔خیال رہے کہ چین نے افریقہ میں اپنی سرمایہ کاری میں اضافہ کیا ہے اور حالیہ عرصے میں اپنی فوج میں بھی تیزی سے جدت لائی ہے۔زن ہوا کا کہنا ہے کہ چین کے جنوبی صوبے گوانگ ڈانگ کے علاقے زانجیانگ میں واقع بندرگاہ سے جہاز جبوتی کے لیے روانہ ہوئے۔ابھی یہ واضح نہیں کہ چینی اڈہ کب کام کا آغاز کرے گا اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ کتنے فوجی دستے گذشتہ روز جبوتی کے لیے روانہ ہوئے تھے۔رپورٹ کے مطابق جبوتی میں فوجی اڈے کا قیام دونوں ملکوں کے 'دوستانہ مذاکرات' کے بعد عمل میں لایا گیا۔ جبکہ اس سے قبل موصول ہونے والی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ اس فوجی اڈے کی تعمیر کے لیے گذشتہ برس کام کا آغاز ہوا تھا۔اس فوجی اڈے کو چین کے اس خطے میں اس کے مفادات کے حوالے سے دیکھا جا رہا ہے۔

مگر بدھ کو چائنا گلوبل ٹائمز میں چھپنے والے اداریے میں کہا گیا کہ ’’چین کی فوجی ترقی چینی حفاظت‘‘ کو مضبوط بنانے کے لیے ہے نہ کہ دنیا کو کنٹرول کرنے کے لیے۔اخبار کا کہنا ہے کہ امریکہ، جاپان اور فرانس کے بھی جبوتی میں فوجی اڈے ہیں۔یاد رہے کہ جبوتی شمالی افریقہ کا ایک چھوٹا سا اور یہ قدرے پرامن ملک ہے اور اپنے جغرافیے کے اعتبار سے بہت اہم ہے کیونکہ یہ ایک مصروف بحری گزرگاہ ہے۔ 2015 میں افریقی اقوام کے مرکزی اجلاس میں چین نے افریقہ کی ترقی کے لیے 60 ارب ڈالر ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔چین اس خطے میں سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ اس کے علاوہ اس نے وہاں انفراسٹرکچر کے مختلف پراجیکٹس کے لیے افرادی قوت اور فنڈز بھی مہیا کیے ہیں۔اس میں افریقی ممالک کو ایک دوسرے سے جوڑنے کے لیے ریلوے کا نظام بھی شامل ہے۔ ان میں سے ایک جبوتی کو ایتھوپیا سے ملاتا ہے جبکہ انگولیا، نائجیریا، تنزانیہ اور زیمبیا کو ایک دوسرے سے ملانے کے لیے بھی ریلوے ٹریک بچھائے گئے ہیں۔اس کے بدلے میں افریقی ممالک چین کو قدرتی ذخائر جن میں ایندھن اور معدنیات وغیرہ شامل ہیں فراہم کر رہے ہیں۔جبوتی میں چین کا قائم کیے جانے والا فوجی اڈہ امریکی فوجی اڈے جس کا نام کیمپ لیمنر ہے سے چند ہی میل کے فاصلے پر ہے۔ امریکہ نے نائن الیون کے بعد اس اڈے کو قائم کیا تھا اب بھی اسے مشرق وسطی اور افریقہ میں اپنی بڑی اور اہم فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال کررہا ہے۔حال ہی میں امریکہ کی جانب سے یمن میں ہونے والی فوجی کارروائی بھی اسی کیمپ سے ہوئی تھی۔البتہ چین کے حکام نے جبوتی میں اپنے فوجی اڈے کے قیام کی اہمیت کو گھٹا کر پیش کرتا آیا ہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...