آسکر ایوارڈ میرا خواب ہے: جاوید شیخ

آسکر ایوارڈ میرا خواب ہے: جاوید شیخ

  

پاکستانی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والے کئی نامی گرامی فنکاروں میں ایک نام جاوید شیخ کا بھی ہے انہوں انہوں نے اپنے طویل فنّی کیرئیر کے دوران کئی پاکستانی اور بھارتی فلموں میں لازوال اداکاری کا مظاہرہ کیا ہے وہ فلم اور ٹی وی کے یکساں مقبول فنکار ہیں۔پاکستانی فلمی تاریخ میں اگر لالی ووڈ کے شومین جاوید شیخ کی شخصیت کا مشاہدہ کریں تو اْن کی زندگی بھی اتنی ہی پرجوش اور سرگرم دکھائی دیتی ہے۔متزلزل ارادوں اور عزم عالی شان کی ایک جیتی جاگتی مثال وہ شخص جس نے کبھی ہار ماننا نہیں سیکھاحالات کی غلام گردشوں سے بے نیاز جاوید جو صرف ایک بات جانتا تھا کہ وہ اس دنیا میں جاوداں ہونے کے لئے آیا ہے۔ الیگزینڈر کی طرح وہ کئی بار گھٹنوں کے بل زمین پر گرا ضرور تھا مگر پھر جیت اور فتح کے جذبے سے سرشار ہوکر اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں کامیاب رہا اور یہ ثابت قدمی ہی ہے کہ آج پرائیڈ آف پرفارمنس پاکر وہ ملک کے اْن عظیم فن کاروں کی صف میں آکھڑا ہوا ہے جہاں محمد علی اور ندیم جیسے نام پہلے سے موجود ہیں۔جاوید شیخ کی کچھ عادات جو گئے سالوں کے ساتھ بھی نہیں بدلیں وہ اْن کی خوش اخلاقی‘ بزلہ سنجی‘ کھراپن‘ سچائی اور خلوص ہیں۔

جاوید شیخ دن رات ٹی وی ڈراموں کی ریکارڈنگز میں مصروف ہیں۔ یہاں سے وقت ملے تو پھر کبھی دبئی یا انڈیا کے دوروں پر ہوتے ہیں۔ ان کو ذہنی اذیت سے بچانے کے لئے یہ بھی بتادیا کہ آج کوئی روایتی سوال نہیں ہوگا۔ صرف اْن کی یادوں کو ٹٹولنے کی کوشش کی ہے۔

قسمت کے ستاروں پرکتنا یقین رکھتے ہیں‘کبھی ہورو سکوپ سٹڈی کیا؟

آپ کو حیرت ہوگی کہ مجھے علم فلکیات کی اے بی سی تک معلوم نہیں ۔ کبھی اس بارے میں غور نہیں کیا کہ یہ ہورو سکوپ ہوتا کیا ہے؟ میں تو اس پر یقین کرتا ہوں کہ جو ہونا ہوگا وہ ہوکر رہے گا۔

قسمت کا ستارہ اور فلم کا ستارہ‘ دونوں میں کچھ تو مماثلت ہے؟

ہاں‘ میں اس پر ضرور بات کرسکتا ہوں کہ میں سٹار بننے کیلئے پیدا ہوا تھا۔ اس کا ادراک تب ہوا جب میں سکول لائف میں تھا اور کلاس روم سے بھاگ کر فلمیں دیکھا کرتا تھا۔ اس وقت طے کرچکا تھا کہ مجھے ایکٹر ہی بننا ہے۔

اگر ایکٹر نہ بنتے تو پھر کیا ہوتے؟

شاید میں بزنس مین ہوتا۔ ابتدا میں، میں نے گاڑیوں کا کام کیا‘ انشورنس کمپنی کی ملازمت بھی کی مگر وہاں میرا دل نہیں لگا۔ بار بار شوبز کی طرف آجاتا تھا۔

پہلی فلم کونسی دیکھی سنیما جاکر؟

دیوآنند صاحب کی ایک کلاسک فلم تھی ’’ہاؤس نمبر44‘‘۔ یہ فلم میں نے ریوالی سنیما میں دیکھی تھی۔

آپ راولپنڈی میں پیدا ہوئے پھر آپ کی فیملی کراچی آگئی‘ والد صاحب کیا کرتے تھے؟

والد صاحب پنڈی میں تو کیمیکل انڈسٹری میں تھے لیکن کراچی آکر وہ ایک ٹرام کمپنی کی ورکشاپ میں انچارج ہوگئے۔ یہ ٹرام کمپنی اْن کے ایک دوست محمد علی کی تھی‘ کچھ عرصہ ہم اْن کی انیکسی میں ہی رہائش پذیر تھے۔

پہلی فلم ’’دھماکہ‘‘ کیسے آفر ہوئی؟

میں سٹیج اور ریڈیو کے علاوہ ماڈلنگ بھی کیا کرتا تھا۔ اس زمانے میں ایشیا ٹیک ایڈورٹائزنگ ایجنسی کے لئے دو کمرشلز میں کام کیا تھا جس میں سے ایک ’’ایپل سڈرا‘‘ ڈرنک کا تھا۔ اس میں میرے ساتھ بابرہ شریف کی بہن فاخرہ نے بھی ماڈلنگ کی تھی۔ اس کے کیمرا مین مدن علی مدن تھے‘ جنہوں نے مجھے بتایا کہ ایک فلم بن رہی ہے جس کے لیے نئے ہیرو کی تلاش ہے۔ میں نے وہاں جاکر آڈیشن دیا اور ابن صفی صاحب نے مجھے ہیرو کے لئے منتخب کرلیا۔’’دھماکہ‘‘ دراصل عمران سیریز کے کانسیپٹ پر بن رہی تھی لیکن اس میں ہیرو عمران نہیں تھا بلکہ دو نئے کردار ظفر الملک اور جیمسن تخلیق کیے گئے۔ ابن صفی صاحب نے مجھے کہا تھا کہ اگر کبھی عمران کے کردار پر کوئی فلم بنائی تو وہ مجھے ہیرو لیں گے کیونکہ میں ان کے نزدیک بنا بنایا عمران تھا۔

آپ کا پہلا عشق کب اور کس کے ساتھ درپیش آیا؟

میرے لڑکپن کا زمانہ تھا۔ یہی کوئی17۔18سال کی عمر ہوگی۔ اب اْس کے نام اور تذکرے سے کیا فائدہ۔ اْس کی شادی ہوگئی۔ہمارے بچے بھی جوان ہوگئے۔

پھر آپ کی زندگی میں کیرالین آئی؟

ہاں ‘وہ ایک فرنچ لڑکی تھی۔ یہاں کراچی میں میٹروپول ہوٹل میں اْس سے ملاقات ہوئی تھی۔ غضب کا عشق تھاہمارا، میں اْس کے ساتھ فرانس بھی گیا۔ ہمارا ملن ناممکن تھا۔ وہ وہیں فرانس میں رہ گئی اور میں واپس اپنے ملک آگیا۔

دھماکہ ،کی ناکامی کے بعد پھر سے جدوجہد شروع کردی؟

ہاں۔کیونکہ مجھے بطور ہیرو مسترد کردیا گیا تھا۔ میں واپس اسٹیج اور ٹی وی کی طرف آگیا۔ اسی دوران مجھے ایک سیریل ’’شمع‘‘ کے بارے میں پتہ چلا کہ فاطمہ ثریا بجیا اور قاسم جلالی آڈیشنز کررہے ہیں۔ میں بھی لائن میں لگ گیا اور خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ مجھے ہیرو چن لیا گیا۔’’شمع‘‘ کے بعد تو میں راتوں رات سٹار بن گیا۔ اس کے بعد آگہی‘ دھند، وغیرہ آن ایئر ہوئے۔ پھر جب شعیب منصورکا سیریل’’ان کہی‘‘ چلا تو میں لائم لائٹ میں آگیااور نذر شباب صاحب نے مجھے فلم ’’کبھی الوداع نہ کہنا‘‘کے لئے لاہور بلالیا۔

اس دوران آپ نے دپتی نول کے ساتھ ایک فلم’’دوسرا کنارہ‘‘ میں کام کیا؟

یہ ’’ان کہی‘‘ کے آن ایئر جانے سے پہلے کی بات ہے۔ میں پی ٹی وی کی ایک سیریل’’اجنبی‘‘ کر رہا تھا جس کا پائلٹ منظوری کیلئے اسلام آباد گیا ہوا تھا۔ میرے علاوہ اس میں بہروز سبزواری بھی تھے۔ اچانک ہمیں غضنفر علی صاحب(انڈس وژن کے ہیڈ) نے کال کیا کہ ایک فلم کرنی ہے، وہ بھی دبئی میں۔میں‘بہروز اور شفیع محمد وغیرہ فوراً مان گئے۔شفیع محمد کا سیریل ’’افشاں‘‘ آن ایئر تھا۔ وہ بھی چھوڑ چھاڑ کر چلے گئے جس کے باعث پی ٹی وی نے ہم تینوں پر پابندی لگادی۔’’ دوسرا کنارہ‘‘مکمل ہوئی اور اس فلم میں کام کرنے کا مزہ بھی بہت آیا مگر ان دنوں پاکستان بھارت کے تعلقات اس نوعیت کے تھے کہ دپتی نول کی وجہ سے اس فلم کو پاکستان میں نمائش کی اجازت نہ مل سکی۔ ہم نے این او سی وغیرہ بھی نہیں لیا تھا لہٰذا یہ فلم ڈبوں میں بند ہوگئی۔ ’’دوسرا کنارہ‘‘، کرکے جب ہم واپس آئے تو ہم تینوں پر پی ٹی وی کے دروازے بند تھے مگر یہ شعیب منصور کا کمال تھا کہ ہمارے جانے کے بعد انہوں نے اجنبی ‘ کو شروع کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیا اور جب ہم واپس آئے تو انہوں نے ہماری پابندی ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا اور اس طرح ’’اجنبی‘‘ نئے نام ’’ان کہی‘‘ سے شروع ہوا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ان کہی‘ میرے کیریئر پروفائل کا حصہ نہ بنتا تو شاید آج جاوید شیخ کی کہانی بھی مختلف ہوتی۔

زینت منگھی سے کب اور کہاں ملاقات ہوئی؟

یہیں۔ اسی ہوٹل(پرل کانٹی نینٹل) کی لابی میں۔ شاید کوئی تقریب یا شو تھا۔ وہ ماڈلنگ کرتی تھیں۔ یہ پہلی نظر کا پیار تھا(love at fisrt sight)۔ ہم نے ایک دوسرے کو دیکھتے ہی پسند کرلیا تھا اور شادی کا فیصلہ کرلیا تھا۔

اس شادی کی ناکامی کی وجہ کیا تھی؟

جوکسی بھی شادی کی ناکامی کی وجہ ہوسکتی ہے۔غلط فہمی‘ عدم اعتماد‘ اس نے مجھے سنبھلنے یا سوچنے کا وقت ہی نہیں دیا۔

سلمیٰ آغا سے شادی کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟ کیا یہ آپ کا درست فیصلہ تھا؟

ہرگز نہیں یہ میری زندگی کا سب سے غلط فیصلہ تھا۔ میں نے سلمیٰ سے محبت کی تھی مگر اس نے مجھے نقصان پہنچایا۔ اْس کی وجہ سے میرا کیریئر متاثر ہوا۔ زینت سے تعلقات خراب ہوئے۔

پھر آپ کی زندگی میں نیلی، آگئی۔ کہا جاتا ہے کہ آپ دونوں نے خفیہ شادی کرلی تھی مگر دونوں جانب سے کبھی اس کی تصدیق نہیں ہوئی؟

اگر ہم نے شادی کرلی ہوتی تو پھر ڈنکے کی چوٹ پر اس کا اعلان بھی کرتے۔ جب ہم نے اپنی محبت کو دنیا سے نہیں چھپایا تو پھر شادی میں کیا برائی تھی؟ میں آج بھی اْس کے لئے نیک جذبات رکھتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ وہ جہاں رہے خوش رہے۔ نیلی کے حوالے سے مجھے یقین ہوگیا کہ جوڑیاں واقعی آسمانوں پر بنتی ہیں۔

نیلی کے جاتے ہی آپ نے ثنا سے دل لگالیا مگر وہ آپ کو دل کا درد دے کر چلی گئی؟

اب اْس کا تذکرہ کرنے کا فائدہ نہیں ہے۔ وہ اپنے گھر بار کی ہوچکی ہے۔ میں نے اْسے معاف کردیا ہے اور یہی دعا کرتا ہوں کہ خدا اْسے خوش رکھے۔

آپ زندگی میں بار بار ناکام ہوئے اور پھر دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوگئے‘ اس حوصلہ مندی اور مستقل مزاجی کے لئے کس کو کریڈٹ دیتے ہیں؟

خدائے بزرگ وبرتر کو۔ میرا خیال ہے کہ وہ مجھے آزماتا ہے اور پھر خود ہی میری مدد بھی کرتا ہے۔ میں خود کچھ بھی نہیں ہوں، اگر اوپر والا نہ چاہے کہ میں واپس آوں۔ جب تک وہ مجھے ناکام نہیں کرتا۔ میں تھک کر ہمت ہارنے والا نہیں ہوں۔

جب لوگ آپ کے ساتھ زیادتی کرجاتے ہیں تو آپ کا ردعمل کیسا ہوتا ہے؟ انتقام لیتے ہیں یا پھر درگزر کرتے ہیں؟

میرا خیال ہے کہ معاف کردینا بہترین انتقام ہے۔ میں اوپر والے پر چھوڑ دیتا ہوں‘ اس لیے کہ وہ میرے لیے بہترسوچتا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ کبھی الوداع نہ کہنا، سے پہلے میں ایک فلم کررہا تھا‘ بیوی ہو تو ایسی۔۔۔‘ جس میں میرا رول سیکنڈ ہیرو کا تھا۔اس کے ڈائریکٹر زاہد شاہ تھے۔ میں نے 5دن شوٹنگ بھی کرائی لیکن ایک روز میں جب شوٹنگ کیلئے پہنچا تو مجھے بتایا گیا کہ اس فلم کے لاہور کے ڈسٹری بیوٹر اسلم نعیم(پاپولر فلمزوالے) کی ڈیمانڈ ہے کہ جاوید کو لینا رسک ہے، اسے کوئی نہیں جانتا۔ اس کی جگہ فیصل رحمان کو کاسٹ کیا جائے ورنہ میں یہ فلم ریلیز نہیں کروں گا۔ زاہد شاہ صاحب نے مجھ سے معذرت کرلی۔خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ چند ماہ بعد مجھے سولو ہیرو فلم مل گئی ۔ یہی اسلم نعیم صاحب پھر میرے پاس ایک فلم چوروں کا دشمن، کی آفر لے کر آئے ۔

پہلی فلم’’ مشکل‘‘92ء میں ڈائریکٹ کی لیکن ڈائریکشن کی ابتدا آپ نے سلمیٰ آغا کے ایک گانے کی ویڈیو سے کردی تھی؟ کیا اسی دور میں سوچ لیا تھا کہ اس طرف آنا ہے؟

شاید میرے اندر کہیں یہ چیز موجود تھی کہ مجھے ڈائریکشن کی طرف آنا ہے‘ کیونکہ میں اپنے کرداروں سے مطمئن نہیں تھا‘ میں اپنی انڈسٹری کو نئے رجحانات سے روشناس کرانا چاہتا تھا۔ میں نے نذر شباب کی فلم ’’ایک سے بڑھ کر ایک‘‘ کا ایک گانا ڈائریکٹ کیا۔ ایم اے رشید کی فلم ’’خطروں کے کھلاڑی‘‘ میں نیلی کے ساتھ اپنا ایک گانا سری لنکا میں شوٹ کیا۔ ستیش آنند صاحب کی ایک فلم’’محبت کے سوداگر‘‘ کا ایک گانا بھی ڈائریکٹ کیا، اس طرح میں ڈائریکشن کی طرف آیا۔

آپ کے بہترین دوست اور فلمی موسیقار امجد بوبی مرحوم کو کتناMissکرتے ہیں‘ آپ کی ڈائریکشن میں بننے والی تمام (سات) فلموں کی موسیقی اْن کی تھی؟

امجد بوبی‘ کی یادیں میرا سرمایہ ہیں‘ وہ میری پہلی فلم ’’کبھی الوداع نہ کہنا‘‘ سے ساتھ تھے‘ انہوں نے میرے لیے کئی سپرہٹ گانے بنائے‘ پھر جب میں نے ڈائریکشن کا آغاز کیا تو ’’مشکل‘‘سے’’ کھلے آسمان کے نیچے‘‘، تک وہ میری ہر فلم کے موسیقار تھے۔ ان کے ساتھ میری کیمسٹری بن گئی تھی ۔ اسی طرح وقار بخاری ہیں، میری تمام فلموں کی سنیما ٹوگرافی انہوں نے کی ہے۔

اگلی فلم’’وجود‘‘ کب لا رہے ہیں؟

فلم ’’وجود کی شوٹنگ جاری ہے میری کوشش ہے کہ اس فلم کو جلد از جلد مکمل کرکے ریلیز کروں ۔

آپ کی بیٹی نے بھی منی سکرین کا رخ کیا ہے؟

مومل اب اپنے گھر کی ہے اور شوہر کی اجازت سے ٹی وی پر کام کررہی ہے۔

آپ کو لگتا ہے کہ پاکستانی سنیما کا ریوائیول جلد یا بدیر ضرور ہوگا؟

آف کورس! اس کا آغاز ہوچکا ہے اور اس کے اثرات آپ اسی سال سے دیکھیں گے۔

آپ نے شہزادوں والی زندگی گزاری‘ پرتعیش طرز زندگی اور شاہانہ انداز آپ کا خاصہ ہیں‘ شہرت‘ کامیابی‘ اسٹارڈم‘ پیسہ‘ عشق محبت‘ فیملی لائف سب کچھ بھرپور طریقے سے انجوائے کیا مگر یہ سب ہونے کے باوجود تنہائی کا احساس دکھ نہیں دیتا ؟

یہ سب آپ کے دماغ میں ہوتا ہے۔ میری خوش قسمتی ہے کہ میرا دل اور دماغ دونوں میرے قابو میں ہیں۔ میں نے کبھی ان باتوں کو اپنے اوپر حاوی ہونے نہیں دیا۔

کیا چاہتے ہیں زندگی سے مزیدکہاں تک جانے کا ارادہ ہے؟

آسکر ایوارڈ میرا خواب ہے کہ کوئی ایسی فلم بناؤں جو آسکر ایوارڈ جیت سکے۔

***

مزید :

ایڈیشن 2 -