اختر کو مارپیٹ کر 48گھنٹے بھوکا رکھا گیا ، ماضی میں بھی تشدد ہوا ، پوسٹ مارٹم رپورٹ

اختر کو مارپیٹ کر 48گھنٹے بھوکا رکھا گیا ، ماضی میں بھی تشدد ہوا ، پوسٹ مارٹم ...

  

لاہور (اپنے کرا ئم ر پو رٹر سے+ نامہ نگار) اکبری گیٹ کے علاقہ میں ایم پی اے شاہ جہاں کی بیٹی فوزیہ اسلم کے تشد د سے ہلاک ہونے والے گھریلو ملازم اختر کی نعش پوسٹ ما رٹم کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئی،جسے بعد ازاں اس کے آبائی گاؤں لے جاکر سپرد خا ک کر دیا گیا، وزیراعلیٰ پنجاب نے سی سی پی او لاہور سے واقعہ کی ر پو رٹ طلب کر لی ۔ مقتول اختر کی پو سٹ ما رٹم ر پو رٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس پر بہیمانہ تشدد کیا گیاجس سے اس کی موت واقع ہوئی ۔ معدہ مکمل خالی تھا،مو ت سے قبل مقتول قے کرتا رہا،دائیں ٹانگ پر ضربیں لگائی گئیں جس سے وہ خاصی سوج چکی تھی۔مقتول کے جسم کے متعدد حصوں پر بھی تشدد کے نشانات پائے گئے ۔ شدید حالت خراب ہونے پر اسے ابتدائی طبی امداد نہ دی گئی بھوکا پیاسا رہنے سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتول کے جسم پر پرانی چوٹوں کے بھی نشانات پائے گئے ہیں جس کے لگتا ہے کہ اسے ماضی میں بھی مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا ۔ مقتول 2 سال سے اپنی چھوٹی بہن 12 سالہ عطیہ کے ہمراہ خاتون ایم پی اے کے گھر میں گھریلو ملازم تھا۔ کم سن ملازمہ عطیہ نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ اسکے بھائی اختر کو فوزیہ نے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ بھائی کی حالت خاصی بگڑ گئی لیکن اسے ہسپتال منتقل نہ کیا گیا۔ عطیہ نے بتایا کہ دونوں بہن بھائیوں پر گھر کے مالکان تشدد کا نشانہ بناتے تھے۔ معصوم بچی کے جسم پر بھی تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں۔دریں اثنا گھریلو ملازم کی تشدد سے ہلاکت کیس میں رکن پنجاب اسمبلی شاہ جہاں کی بیٹی ملزمہ فوزیہ کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے تھانہ اکبری گیٹ پولیس سے 20جولائی کو مقدمہ ریکارڈ طلب کرلیا گیاہے۔ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں گھریلو ملازم اختر پر تشدد کرکے اس کو ہلاک کرنے کے کیس میں ملوث ایم پی اے کی بیٹی فوزیہ اسلم کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی ،عدالت نے ملزمہ فوزیہ اسلم کے پیش ہونے اور وکیل کے دلائل سننے کے بعد عبوری درخواست ضمانت 20جولائی تک منظور کرتے ہوئے 50ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیاہے۔ ملزمہ پر الزام ہے کہ اس نے گھریلو ملازم بہن بھائی پر تشدد کیا جس کے نتیجے میں نو عمر ملازم اختر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیاجبکہ اس کی 12سالہ بہن عطیہ بھی تشدد سے زخمی ہوئی ،فاضل جج نے پولیس کو آئندہ تاریخ تک تفتیش مکمل کرکے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

مزید :

علاقائی -