پولیس کی پرانی وردی بحال ہونے کا قوی امکان

پولیس کی پرانی وردی بحال ہونے کا قوی امکان

  

لاہور(کرائم رپورٹر) حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے بھی وزیراعلیٰ پنجاب کو یونیفارم کو تبدیل کرنے کی سفارش کردی ہے جس پر وزیراعلیٰ پنجاب نے پولیس کی وردی کو تبدیل کرنے کا اشا رہ دید یا ہے تاہم آئی جی اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکے، آئندہ چند روز میں یونیفارم تبدیل کرنے کے متعلق نوٹیفکیشن کا امکان ہے۔ روزنامہ پاکستان کی جانب سے کیے جانیوالے سروے میں سیاسی رہنماؤں کی اکثریت نے وردی کو فوری تبدیل کرنے کامطا لبہ کیا ہے جبکہ چند ایک نے اسے ذاتی مفاد اورحکو متی غفلت قرار دیا ہے ۔ لاہور کے بعد دیگر اضلاع میں وردی بجھوانے کا مرحلہ شروع ہو نے سے قبل ہی شور مچ گیا۔ پولیس کے سینئر افسران کو یونیفارم تبدیل کرنے کے حوالے سے تجاویز ملنا شروع ہوگئیں ۔پیپلز پارٹی کی سینئر خا تو ن رہنما ثمینہ خالد گھرکی نے یونیفارم تبدیل کرنے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے تبدیل کرنا حکومت کا غلط فیصلہ تھا لہذا فوری طور پر پرانی وردی کو استعمال میں لایا جائے۔ جماعت اسلامی کے رہنما فرید پراچہ کا کہنا ہے کہ حکومت کو پرانی وردی بحال کرنی چاہیے۔ یونیفارم تبدیل کرکے پولیس کی اصل شناخت کو ختم کردیا گیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما شیخ روحیل اصغر کا کہنا ہے کہ یونیفارم تبدیل ہونے سے افسران کا رعب اور دبدبہ ختم ہوکر رہ گیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما اور صوبائی وزیر بلال یٰسین نے کہا ہے کہ حکومت پرانی وردی بحال کرنے پر غور کررہی ہے۔ سابق گورنر پنجاب اور تحریک انصاف کے رہنما چوہدری سرور نے کہا ہے کہ حکومت نے یونیفارم تبدیل کرکے محکمے سے بددیانتی کی ہے۔ اور چہیتے لوگوں کو فائدہ دینے کی غرض سے ایسا کیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما اعجاز چوہدری اپوزیشن لیڈر محمودالرشید اور جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ یونیفارم پولیس کی شناخت اورمقام کے حوالے سے خاصی اہمیت کی حامل تھی لیکن موجودہ حکومت نے اسے تبدیل کرکے پولیس کا مورال ختم کردیا ہے۔ لہٰذا پرانی وردی بحال ہونی چاہیے۔

مزید :

صفحہ آخر -