ملک کو عدم استحکام کا شکار نہیں کرنا چاہیے، پانامہ کیس سی پیک کے خلاف سازش ہے: فضل الرحمان

ملک کو عدم استحکام کا شکار نہیں کرنا چاہیے، پانامہ کیس سی پیک کے خلاف سازش ہے: ...

  

پشاور(آئی این پی)جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پانامہ کیس سی پیک کے خلاف سازش ہے ملک کو عدم استحکام کا شکار نہیں کرنا چاہیے ،پانامہ کیس کے پیچھے جوایجنڈا اور مقاصد ہیں اسے دیکھنا چاہتے، سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے درمیان فرق ان کے نظریات کا ہوتا ہے،امریکا افغانستان میں داعش کی بنیاد پر نئی جنگ چاہتا ہے،پانامہ کیس انسداد کرپشن کیلئے ہے یا صرف نواز شریف کو اتارنے کیلئے۔جمعیت علمااسلام ف کے زیراہتمام عید ملن پارٹی میں بدھ کو مولانا فضل الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے درمیان فرق ان کے نظریات کا ہوتا ہے۔تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے ضروری ہوتے ہیں۔آپ کے بلند حوصلے آنے والے دنوں میں فتوحات کا باعث بنیں گے۔ ہم ووٹ لیتے ہیں تو عوام کے ساتھ تعلق بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سیاست خالصتآ معروضی ہے۔ یہ سیاست صرف آج کے مسئلہ دیکھتیہے۔ بھاری پتھر پھینک کر سمندر میں بھونچال اٹھانا تحریک نہیں ۔ تحریکوں اور جماعتوں پر نشیب وفراز آتے رہے ہیں۔ امریکا افغانستان میں داعش کی بنیاد پر نئی جنگ چاہتا ہے۔ امیریکا چاہتا ہے افغانستان میں سیاسی استحکام نہ آئے۔ پانامہ کیس کو بنیاد بنا کر عمارات کھڑی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پانامہ کیس کی درخواست کے پہلے بے بنیاد قرار دیا تھا، پانامہ کیس اب پہاڑ بن چکا ہے۔ پانامہ کیس انسداد کرپشن کا ہے یا نواز شریف کو اتارنے کیلئے۔ اس کے پیچھے جوایجنڈا اور مقاصد ہیں اسے دیکھنا چاہیے۔ پاکستان کوعدم استحکام کا شکار نہیں کرنا چاہیے ۔ پانامہ کیس سی پیک کے خلاف سازش ہے۔ پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی میں دوریاں تھیں ۔سی پیک کو سبو تاز کرنے کی بات پر دونوں پارٹیاں ساتھ ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -