صوبائی دارالحکومت میں ریلوے کی 10ارب روپے مالیتی زمین پر غیر قانونی قبضہ برقرار ، حکام خاموش

صوبائی دارالحکومت میں ریلوے کی 10ارب روپے مالیتی زمین پر غیر قانونی قبضہ ...

  

لاہور(نمائندہ پاکستان) ریلوے کی ’’دس ارب‘‘روپے مالیتی زمین پر برسوں سے غیر قانونی قبضہ برقرار،لال پل سے بجلی گھر تک کم و بیش 130کنال اراضی افسر شاہی کی نذرہوگئی،ریلوے ہیڈ کوارٹر لاہور اور مغلپورہ ورکشاپ کی برسوں سے ’’معنی خیز‘‘خاموشی،1990میں ریلوے کی جانب سے واپڈا کو لکھے گئے خط میں مذکورہ اراضی ریلوے ملکیت تھی،محکمہ ریونیو کے مطابق بھی مذکورہ اراضی پاکستان ریلوے کی ملکیت ہے،1987کا ورکشاپ مغلپورہ کا بنا نقشہ بھی ملکیتی اراضی کا بین ثبوت،1933-34میں لال پل سے بجلی گھر کو خام مال پہنچانے کیلئے مذکورہ زمین ریلوے ٹریک کیلئے ایکوائر کی گئی،مذکورہ ٹریک کی باقیات آج بھی موجود مگر زمین پر غیر قانونی تعمیرات قائم ہیں۔تفصیلات کے مطابق لاہور شہر کے عین وسط میں لال پل سے لے کر بجلی گھر تک پاکستان ریلوے کی کم و بیش دس ارب روپے مالیتی قیمتی اراضی پر غیر قا نونی قابضین جمے بیٹھے ہیں ۔ایک محتاط اندازے کے مطابق مذکورہ زمین 130کنال رقبہ پر محیط ہے کیونکہ ریلوے قوانین کے مطابق جہاں بھی ریلوے ٹریک بچھایا جاتاہے وہاں ٹریک کے دونوں اطراف 100اور جہاں ہیوی ٹرانسپوٹیشن نہ ہو وہاں ٹریک کے دونوں اطراف50فٹ جگہ چھوڑی جاتی ہے جو کہ ریلوے کی ملکیت رہتی ہے جبکہ 1933-34میں لال پل سے لے کر بجلی گھر تک ریلوے ٹریک بچھایا گیا جس کا مقصد اس وقت ریلوے کیلئے بجلی پیدا کرنے کیلئے بجلی گھر تک خام مال پہنچانا تھا۔ مذکورہ بجلی گھر سے پیداوار ختم ہونے کے باوجود ٹریک اور اطراف کی قیمتی زمین 1990 تک ریلوے انتظامیہ کے زیر قبضہ رہی۔جس کا انکشاف ریلوے ورکشاپ مغلپورہ ڈویژن کی جانب سے واپڈا کو لکھے جانے والے اس خط سے بھی ہوتا ہے جس میں ریلوے انتظامیہ نے ماضی کے معاہدہ کے تحت چیئر مین واپڈا کو لکھا کہ اب یہ ٹریک زیر استعمال نہیں رہا اور آپ ریلوے کو ٹریک اٹھانے اور واپس کرنے کی مد میں اخراجات مہیا کریں۔یاد رہے کہ معاہدہ کی رو سے اور پاکستان ریلوے رولز2006 کے تحت بھی ٹریک کے دونوں اطراف کی اراضی ریلوے ملکیت ہی رہتی ہے مگر اربوں روپے مالیتی اراضی پر غیر قانونی قبضہ نے ریلوے اور قومی خزانہ کو بھاری نقصان پہنچایا ہے جبکہ 1995-96 میں محکمہ ریونیو میں بھی مذکورہ زمین کو پاکستان ریلوے کی ملکیت ہی ظاہر کیا گیا ہے علاوہ ازیں ریلوے ورکشاپ مغلپورہ ڈویژن کی طرف سے جاری کیے گئے نقشہ میں بھی اس زمین کی نشاندہی کی گئی ہے لیکن پھر اس سے چشم پوشی اختیا ر کر لی ۔اس حوالے سے پاکستان ریلوے کے ترجمان سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ریلوے کی اراضی قابضین سے اسی طرح وا گزار کرائیں گے جس طرح رائل پام اور لاہور سے لے کر بہاوپور تک زمین واگزار کرائی۔ترجمان نے مزید کہا کہ اس معاملہ کو ہمارا لیگل ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ ڈی ایس دیکھ رہے ہیں اور جلد ہی ریلوے کی زمین ناجائز قابضین سے خالی کرا لیں گے۔

حکام خاموش

مزید :

صفحہ اول -